کیا پاک بھارت خفیہ ڈپلومیسی شروع ہو چکی ہے؟

معلوم ہوا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے مابین 25 فروری کو کنٹرول لائن پر سیز فائر سے پہلے دونوں ممالک کے سینئر سفارت کاروں نے ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے تحت خفیہ مذاکرات کئے جس کے بعد یہ معاہدہ ممکن ہو سکا۔ لیکن خارجہ امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ اگر کنٹرول لائن پر سیز فائر کے بعد پاکستان نے دوطرفہ مذاکرات کے لئے مسئلہ کشمیرکے حوالے سے اپنے پرانے موقف پر لچک دکھائی تو جنگ بندی کا مستقبل روشن ہے ورنہ یہ معاہدہ بہت جلد ختم ہو جائے گا۔

پاکستان اور بھارت کے مابین جنگ بندی معاہدہ طے پانے کے بعد یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ مودی حکومت نے خارجی اور داخلی مسائل کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ سرحد پر کشیدگی ختم کرنے کا کڑوا گھونٹ تو بھر لیا لیکن اس سیز فائر کو مستقل بنانے کے لئے مزید کیا کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ تجزیہ کاروں اور دفاعی امور کے ماہرین کے نزدیک دونوں ممالک کے مابین تنازعات کی پرانی تاریخ، انتہا پسندی کے واقعات، دراندازی اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے خراب تجربات کے پیش نظر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ جنگ بندی کب تک جاری رہے گی اور اسے کیونکر قابل عمل بنایا جا سکتا ہے؟ بھارتی ماہرین کا خیال ہے کہ اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ مودی حکومت نے جنگ بندی کس خاص مقصد کے لیے کی ہے، کیونکہ بھارتی حکومت کی کئی برسوں سے یہ پالیسی رہی ہے کہ پاکستان کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کرنی ہے۔ خارجہ امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ اگر بھارت نے دراندازی کے الزامات اور پاکستان نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنے پرانے مووف ہر لچک دکھائی تو جنگ بندی کا مستقبل روشن ہے ورنہ بہت جلد یہ معاہدہ ختم ہوجائے گا۔

یاد ریے کہ 25 فروری کے روز انڈیا اور پاکستان نے ایل او سی یعنی لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ یہ تاریخی اعلان دونوں ملکوں کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان بات چیت کے بعد کیا گیا۔ جنگ بندی معاہدے کے تحت 24-25 فروری کی درمیانی رات سے دونوں ممالک لائن آف کنٹرول پر فائرنگ بند کر دی اور جنگ بندی کے پچھلے معاہدوں پر عمل کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

انڈین وزارت دفاع کی جانب سے 25 فروری کو جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ انڈیا اور پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے ہاٹ لائن کے ذریعے تبادلہ خیال کیا۔ دونوں فریقوں نے لائن آف کنٹرول اور دیگر تمام سیکٹروں پر موجودہ صورت حال کا کھلے اور پرسکون ماحول میں جائزہ لیا۔ باہمی مفادات کے پیش نظر اور سرحد پر امن و امان برقرار رکھنے کے لیے دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز ایک دوسرے سے منسلک سنگین امور پر بات چیت کریں گے جو خطے میں امن و امان کی خلاف ورزی ہو یا تشدد کو بڑھانے کا خطرہ ہو۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ دونوں فریقوں نے تمام معاہدوں کے ساتھ کنٹرول لائن اور دیگر تمام سیکٹرز میں جنگ بندی کی سختی سے پابندی کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

دوسری جانب کنٹرول لائن پر جنگ بندی معاہدے کے بعد پاکستان اور بھارت نے کشیدگی کم کرنے کے لیے سخت بیان بازی سے گریز کا فیصلہ کیا ہے جبکہ مزید اقدامات کیلئے دونوں ہمسائے بہتر اور خوشگوار ماحول کے خواہاں ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق یہ تجویز پہلے بھارت کی طرف سے آئی ہے۔ سیاسی مبصرین حیران ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بار بار مودی کو ہدف تنقید بنانے اور ہٹلر سے تشبیہ دینے کے باوجود بھارت نے پاکستان کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر اتنی جلدی کیوں دستخط کر دیے۔ کہا جا رہا ہے کہ جنگ بندی معاہدے سے پہلے بھارت اور پاکستان کے مابین خفیہ ڈپلومیسی ہوئی جس کا نتیجہ کنٹرول لائن پر خوشگوار ماحول پیدا کرنے اور کشیدگی کم کرنے کیلئے سیز فائر معاہدے کی صورت میں نکلا۔

خارجہ امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین سیز فائر معاہدہ ممکن نہ تھا اگر دونوں ممالک کے وزرائے اعظم اپنے سخت موقف سے پیچھے نہ ہٹتے۔ یاد رہے کہ بھارت نے پاکستان کے ساتھ تب تک مذاکرات کرنے سے انکار کا اعلان کر رکھا تھا جب تک سرحد پار سے دراندازی کا سلسلہ بند نہیں ہوتا، جبکہ پاکستان نے بھی یہ اعلان کر رکھا تھا کہ جب تک مودی حکومت مقبوضہ کشمیر کی پرانی حیثیت بحال نہیں کرتی بھارت کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوں گے۔ لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ دونوں ممالک کے سینئر ڈپلومیٹس نے ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے تحت خفیہ مذاکرات شروع کر رکھے ہیں جس وجہ سے حالیہ سیزفائر ممکن ہو سکا۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان مذاکرات کا آغاز ٹرمپ دور میں امریکہ کے دباؤ پر ہوا۔

یاد ریے کہ امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مواقع پر تنازع کشمیر پر پاکستان اور بھارت کو ثالثی کی پیش کش کر چکے تھے۔ لیکن بھارت کا ماضی میں یہ موقف رہا ہے کہ ‘شملہ معاہدے’ اور ‘اعلان لاہور’ کے تحت پاکستان اور بھارت دو طرفہ اُمور کسی تیسرے فریق کی مداخلت کے بغیر حل کرنے کے پابند ہیں۔ خیال رہے کہ شملہ معاہدہ کے بعد دوطرفہ مذاکرات کے کئی ادوار کے باوجود گزشتہ 50 سالوں میں کشمیر کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ دونوں ممالک کو ایک بڑا مسئلہ یہ درپیش ہے کہ جب بھی انکے آپسی مذاکرات شروع ہوتے ہیں تو حکومتوں پر عوامی دباؤ آجاتا ہے اور خرابی پیدا ہو جاتی یے۔ لہذا اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ باہمی تعلقات کو بہتر بنانے اور مسائل کے حل کے لیے بیک ڈور ڈپلومیسی کا طریقہ اپنایا جائے۔

سفارتی ماہرین کے مطابق بیک چینل ڈپلومیسی دو ملکوں کے تعلقات کو بہتر بنانے کی غیر سرکاری کوشش کو کہا جاتا ہے۔اس میں ممالک کسی عالمی فورم کی سائیڈ لائن یا دیگر ذرائع سے ایک دوسرے کو پیغام پہنچاتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں کرکٹ ڈپلومیسی کو بھی اہمیت حاصل رہی ہے جب دونوں ملکوں کے سربراہان کسی کرکٹ میچ کے موقع پر مل کر باہمی تعلقات کو آگے بڑھاتے رہے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بیک ڈور ڈپلومیسی کی طویل تاریخ موجود ہے جسکا اب دوبارہ آغاز ہو چکا ہے۔

دوسری طرف امریکہ اور اقوام متحدہ نے انڈیا اور پاکستان کے مابین جنگ بندی پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر وولکن بوزکر نے دونوں ممالک کے مابین جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ دونوں ممالک کا بنیادی معاملات کو حل کرنے اور امن برقرار رکھنے کا عزم دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مثال ہے۔ امریکہ نے بھی اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔ امریکہ نے اسے جنوبی ایشیاء میں امن و استحکام کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔ بھارت کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ونود بھاٹیا نے جنگ بندی کو ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔ بھاٹیا کے بقول اس سے انڈیا اور پاکستان کے تعلقات کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ بھاٹیا کا خیال ہے کہ پاکستان کو اس کی زیادہ ضرورت تھی کیونکہ وہ ابھی بھی ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل ہے، نیز انڈیا کو بھی اس سے فائدہ ہوگا۔ بھاٹیہ کے بقول مزید بات چیت کا انحصار اس امر پر منحصر ہوگا کہ اس پر کس طرح عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ جنگ بندی پہلی بار پو نہیں ہوئی ہے۔ جنگ بندی کے معاہدے پر 2003 میں پہلی بار دستخط ہوئے تھے اور یہ صرف 4-5 سال تک جاری رہی۔ 2007 میں فائرنگ کے واقعات ہوئے۔بھاٹیہ نے کہا کہ میں سنہ 2013 میں واہگہ بارڈر پر بطور ڈی جی ایم او گیا اور پاکستان کے ڈی جی ایم او سے بات کی ۔اس کے بعد جنگ بندی جاری رہی ۔یہ پھر ٹوٹ گئی۔ 2018 میں ایک بار پھر سیز فائر پر بات چیت ہوئی اور یہ پھر ٹوٹ گئی۔ لیفٹیننٹ جنرل ونود بھاٹیہ کا کہنا ہے کہ جنگ بندی سے متعلق معاہدہ پہلا قدم ہے۔ گذشتہ ستر سال میں پیدا ہونے والے مسائل کو ایک دن میں حل نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم اس پر مزید کس طرح آگے بڑھا جائے یہ اس پر منحصر ہوگا کہ جنگ بندی کو کس طرح نافذ کیا جاتا ہے۔اس بار بھی دیکھنا ہے کہ یہ کتنے دنوں تک قائم رہتی ہے۔ اگر جنگ بندی تین چار سال بھی برقرار رہتی ہے تو یہ بڑی بات ہوگی۔

لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کے حوالے سے سینئر تجزیہ کاروں کا کہنا یے کہ یہ ایک مُثبت قدم ہے کیونکہ کسی بھی ملک کے لیے مسلسل تناؤ میں رہنا ممکن نہیں اور امید ہے کہ اب دونوں ملکوں کے مابین صورتحال مزید بہتر ہوگی۔ لیکن اب سب سے بڑا چیلنج دونوں ممالک کے لیے یہ ہے کہ وہ اس جنگ بندی پر قائم رہیں اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ چھوڑ دیں۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگر دونوں ممالک اس معاہدے پر عمل کرتے ہیں تو مستقبل میں باہمی مذاکرات سے دونوں ملکوں کے تعلقات اور بھی بہتر ہو جائیں گے لیکن اسکے لیے ضروری ہے کہ بیک ڈور ڈپلومیسی جاری رکھی جائے اور اس کے ذریعے دونوں ممالک متنازعہ مسائل کے حل کے لیے کسی نتیجے پر پہنچیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
%d bloggers like this: