قومی اسمبلی سے گیلانی کی جیت، عمران پر عدم اعتماد کا اظہار


تین مارچ کو ہونے والے سینٹ الیکشن میں اس وقت تحریک انصاف حکومت کو ایک بہت بڑا دھچکا لگا جب سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے وزیر اعظم عمران خان کے امپورٹڈ امیدوار حفیظ شیخ کو شکست دے کر اسلام آباد کی سیٹ جیت لی. سید یوسف رضا گیلانی نے 169 ووٹ حاصل کیے جبکہ حفیظ شیخ نے 164 ووٹ حاصل کیے۔ لیکن یوسف رضا گیلانی کی جیت خفیہ رائے شماری کی مرہون منت ہے کیونکہ قومی اسمبلی میں حکومت اور اس کے اتحادیوں کی تعداد 181 بنتی ہے جبکہ اپوزیشن کے پاس 160 ارکان ہیں۔ اسلام آباد کی نشست کے لیے قومی اسمبلی کے 341 اراکین نے ووٹ کاسٹ کئے جن میں سے حفیظ شیخ نے ووٹ حاصل کیے جبکہ یوسف رضا گیلانی نے ووٹ حاصل کیے۔ اسلام آباد سے سینیٹ کی نشست پر یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کو حکومت کے لیے ایک بہت بڑا سیاسی اپ سیٹ قرار دیا جا رہا ہے چونکہ حفیظ شیخ کی شکست کا مطلب پوری کپتان حکومت پر عدم اعتماد ہے۔ یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کے بعد اب اس بات کا واضح امکان پیدا ہوگیا ہے کہ موجودہ چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی جس کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف عدم اعتماد کا اظہار کیا جائے گا اور آخر میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائے جانے کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ سینیٹ الیکشن سے پہلے ہی یہ تاثر قائم ہو گیا تھا کہ سارا الیکشن ایک طرف اور اسلام آباد کی سیٹ پر یوسف رضا گیلانی اور حفیظ شیخ کا الیکشن ایک طرف۔ 3 مارچ کو قومی اسمبلی کے 341 ارکان نے اسلام آباد سے سینیٹ کی ایک جنرل نشست پر اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ یہ سیٹ جیتنے کے لیے 171 ووٹ درکار تھے لیکن سید یوسف رضا گیلانی نے 169 ووٹ حاصل کیے اور جیت گے۔ سات ووٹ مسترد کر دیے گئے۔
اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ نے اسلام آباد کی جنرل نشست پر سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو نامزد کیا تو حکومت نے ان کے مقابلے میں وفاقی وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو میدان میں اتارا۔ بظاہر تو نمبر گیم میں حکومت کو قومی اسمبلی میں برتری حاصل تھی تاہم ارکان اسمبلی کی حکومت سے ناراضی اور ارکان سے ذاتی اپنے ذاتی تعلقات کی بدولت سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو یقین تھا کہ وہ سینیٹ کی جنرل نشست پر کامیابی حاصل کر لیں گے۔ گیلانی کو اپنی کامیابی کا اتنا یقین تھا کہ جب وہ تین مارچ کے روز قومی اسمبلی پہنچے تو انہوں نے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں یہ اعلان کردیا کہ وہ سینٹ کا الیکشن پہلے ہی جیت چکے ہیں۔ دوسری جانب حفیظ شیخ کو ایک کمزور امیدوار تصور کیا جارہا تھا لیکن وزیر اعظم نے ان کو اس لئے میدان میں اتارا کہ وہ انہیں بین الاقوامی دباؤ کے تحت ہر صورت میں سینیٹر منتخب کروانا چاہتے تھے۔ اپنے امپورٹڈ وزیر خزانہ حفیظ شیخ کی کامیابی کے لیے خود وزیراعظم عمران خان نے ذاتی طور پر مہم چلائی اور انکی کابینہ کے سینیئر ارکان ناراض حکومتی ارکان سے ملاقاتیں کرنے کے علاوہ ان کے تحفظات دور کرنے کی کوششوں میں مصروف رہے۔
یاد رہے کہ 341 کے قومی اسمبلی کے ایوان میں تحریک انصاف کے 157 ارکان ہیں، جبکہ اسکی اتحادی ایم کیو ایم کے 7، مسلم لیگ ق اور بلوچستان عوامی پارٹی کے پانچ پانچ ، جی ڈی اے کے تین، عوامی مسلم لیگ اور جمہوری وطن پارٹی کا ایک ایک رکن شامل ہے۔ اسکے علاوہ چار آزاد ارکان میں سے دو آزاد ارکان بھی حکومتی اتحاد میں شامل ہیں۔ دوسری جانب اپوزیشن اتحاد کی بات کی جائے تو قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے 83، پیپلزپارٹی کے 55، متحدہ مجلس عمل کے 15، بی این پی مینگل کے پانچ اور اے این پی کا ایک رکن شامل ہے۔ اسکے علاوہ اپوزیشن اتحاد کو دو آزاد ارکان کی حمایت بھی حاصل ہے۔

حکومتی اتحادی جماعتوں ایم کیو ایم، مسلم لیگ ق اور جی ڈی اے نے تحریک انصاف کے امیدوار حفیظ شیخ کی حمایت کا اعلان کیا تھا لیکن سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کی جانب سے سینیٹ انتخابات خفیہ رائے شماری کے ذریعے کروانے کے بعد اپوزیشن کو امید تھی کہ وہ ناراض حکومتی ارکان کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔ ویسے بھی اپوزیشن امیدوار یوسف رضا گیلانی کو جیت کے لیے حکومتی اتحاد سے گیارہ ووٹ حاصل کرنا تھے۔ اب یہ نہیں معلوم کہ حکومتی اراکین نے اپنے وزیر خزانہ کو ووٹ نہیں ڈالے یا حکومت کے اتحادیوں نے کوئی ڈنڈی ماری۔ لیکن اس ایک الیکشن رزلٹ نے عمران خان کی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کے بعد وزیراعظم عمران خان کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بج گئی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
%d bloggers like this: