گیلانی کی جیت سے کپتان حکومت کا زوال شروع ہو گیا


سینیٹ الیکشن میں یوسف رضا گیلانی کی جیت دراصل حفیظ شیخ کی نہیں بلکہ وزیراعظم عمران خان کی شکست یے جس نے انہیں قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کے اعلان پر مجبور کر دیا ہے کیونکہ وہ ایوان زریں میں اکثریت کھو بیٹھے ہیں۔ اسلام آباد کی سیٹ سے اپوزیشن اتحاد کے مشترکہ امیدوار یوسف رضا گیلانی کی غیر متوقع کامیابی اور کپتان کے امپورٹڈ وزیر خزانہ حفیظ شیخ کی شکست سے ایک بالکل نیا منظر نامہ تشکیل پا گیا ہے۔ اب ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت کے برے دن شروع ہو چکے ہیں اور اپوزیشن سینیٹ میں اپنی فتح کے بعد پر اعتماد ہو کر کپتان اور انکی حکومت پر اب مذید وار کرے گی جن سے بچنا کافی مشکل ہو گا خصوصا جب جب فوجی اسٹیبلشمنٹ نے بھی نیوٹرل رہنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور اینکر پرسن سہیل وڑائچ نے اپنے تازہ ترین سیاسی تجزیے میں کیا ہے۔ سہیل وڑائچ کے مطابق تحریک انصاف کو توقع تھی کہ ایک بار سینیٹ الیکشن گزر جائے پھر سکون ڈاٹ کام ہو گا اور اگلے اڑھائی سال آرام سے گزریں گے۔ مگر سینیٹ الیکشن میں آصف زرداری کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کی اسلام آباد سیٹ سے غیر متوقع کامیابی اور وزیر خزانہ حفیظ شیخ کی شکست سے ایک بالکل نیا منظر نامہ تشکیل پا گیا ہے جس میں اب عمران خان اور ان کی حکومت لڑکھڑاتی اور ڈگمگاتی دکھائی دیتی ہے۔ فی الحال عمران خان نے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کر کے خود پر آئے دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کی ہے لیکن سب کو علم ہو گیا ہے کہ تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی نا خوش اور ناراض ہیں۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی تمام تر لابنگ اور دباؤ کے باوجود پانچ حکومتی ارکان اسمبلی کا یوسف رضا گیلانی کے لیے ووٹ ڈالنا اور سات ووٹوں کا مسترد ہونا، تحریک انصاف کی اندرونی صفوں میں اضطراب کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ وزیراطلاعات شبلی فراز کے اس موقف سے اتفاق نہیں کرتے کہ حفیظ شیخ کو 7 ووٹ مسترد ہونے کی وجہ سے شکست ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ مسترد شدہ ووٹوں کے پیچھے بھی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور کارفرما ہے ورنہ اسلام آباد کی دو سیٹوں میں سے ایک پر حفیظ شیخ کو 164 ووٹ لیکر شکست اور دوسری سیٹ پر حکومتی خاتون امیدوار کو 174 ووٹوں سے کامیابی حاصل نہ ہوتی۔ سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ حفیظ شیخ کی ناکامی دراصل وزیراعظم عمران خان سے حکومتی اراکین اسمبلی کی ناراضی کا اظہار ہے۔ وزیراعظم عمران خان جب سے برسر اقتدار آئے ہیں گیلانی کی جیت ان کے لیے پہلا بڑا سیاسی دھچکہ ہے۔ یہ جیت دراصل ظاہر کرتی ہے کہ حکومت کی منصوبہ بندی اور سیاسی دانش کمزور تھی وگرنہ حکومت میں ہوتے ہوئے ایسی شکست ممکن نہ تھی۔ آخر کیا وجہ ہے کہ کئی درجن وزیروں ،مشیروں ، گورنروں اور پس پردہ کرداروں کی موجودگی میں حکومت کو یہ پتہ ہی نہ چل سکا کہ اس کے ارکان اسمبلی اس کا ساتھ نہیں دیں گے اور دارالحکومت کی نشست پر حکومت کے وزیر خزانہ کو شکست ہو جائے گی۔
یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کے بعد اس وقت عمران خان کی حکومت ہوا میں معلق نظر اتی ہے کیونکہ قومی اسمبلی میں حکومتی امیدوار کی گیلانی کے ہاتھوں شکست کے بعد وزیراعظم عمران خان پہلے ہی اکثریت کھو چکے ہیں اور سینیٹ میں بی اپوزیشن اتحاد کے اراکین اکثریت حاصل کر چکے ہیں۔ ایوان بالا میں اس وقت تحریک انصاف 26 نشستوں کے ساتھ آگے ہے، اسکے بعد پیپلزپارٹی دوسری ، مسلم لیگ ن تیسری جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی چوتھی بڑی جماعت بن گئی۔ سینیٹ میں نئی پارٹی پوزیشن کے مطابق حکمران اتحاد کو کل 47 ارکان جبکہ اپوزیشن اتحاد کو سینٹ میں 53 ارکان کی حمایت حاصل ہوگئی، یوں اب سنیٹ چئیرمین شپ کے لیے صادق سنجرانی اور یوسف رضا گیلانی کے درمیان بڑا مقابلہ ہونے کا امکان ہے۔
سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ شروع میں سننے میں آیا تھا کہ سینیٹ الیکشن میں تحریک انصاف کی حمایت کے لیے جہانگیر ترین حکومت کے وزیر خزانہ کی کامیابی کے لیے متحرک ہوں گے مگر اس حوالے سے عملی طور پر ان کی کوئی سر گرمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ جنوبی پنجاب سے چونکہ حکومتی جماعت نے کسی بھی شخص کو سینیٹ کے لیے نامزد نہیں کیا تھا اس لیے ہو سکتا ہے کہ جنوبی پنجاب محاذ کے لوگوں نے اپنا ووٹ ضائع کر کے ملتان کے سپوت یوسف رضا گیلانی کو بالواسطہ حمایت کی ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کا المیہ یہ ہے کہ اس کے پاس جہانگیر ترین جیسا ایک بھی اور شخص نہیں جو سیاسی ڈیلنگ کا ماہر ہو بلکہ حد تو یہ ہے کہ وزیر دفاع پرویز خٹک اور وزیر قانون فروغ نسیم اہم ترین سیاسی وزارتوں کے انچارج ہونے کے باوجود سیاسی طورپر امور مملکت میں کوئی کردار ادا نہیں کر رہے۔ وزیر اعظم کی کچن کابینہ غیر سیاسی افراد پر مشتمل ہے اسی لیے حکومت کو سینیٹ الیکشن کی صورت میں جو پہلا سیاسی امتحان درپیش ہوا، کپتان حکومت اسی میں ڈھے گئی۔
سہیل وڑائچ کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں حکومت کا سفر مذید دشوار گزار ہو جائے گا، اب اور کئی بحران اور مذید کئی مشکلات آئیں گی جن سے نمٹنے کے لیے ایک تجربہ کار سیاسی ٹیم کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم کو چاہیے کہ فوری طور پر اپنی سیاسی ٹیم کو منظم کریں اور قابل و ہوشیار لوگوں سے رہنمائی لیں تاکہ حکومت آئندہ کسی اور گڑھے میں نہ گرے۔ حکومت کو فوری طور پر ایسے وزیر خزانہ کی تلاش بھی ہو گی جو حفیظ شیخ کا صحیح متبادل ہو جو ان ہی کی طرح آئی ایم ایف کو بھی مطمئن کرے اور پاکستان میں بجٹ کی تقسیم پر بھی سب کو خوش کر سکے۔ بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ حفیظ شیخ کو اس شکست کے بعد جلد یا بدیر مستعفی ہونا ہو گا۔ یوسف رضا گیلانی کی جیت کے بعد اپوزیشن کا حوصلہ بڑھ گیا ہے اوراب وہ حکومت کے راستے میں احتجاج، عدم اعتماد اور لانگ مارچ کے کانٹے بچھانے میں اور زیادہ سوچ و بچار سے کام لے گی۔ پی ڈی ایم سے حکومت کے خلاف تحریک کے پہلے مرحلے میں جو غلطیاں ہوئیں اب اجتماعی قیادت ان کے سدباب کی کوشش کرے گی۔
سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ یوسف رضا گیلانی کی جیت سے پی ڈی ایم اب پارلیمانی اور سیاسی محاذ، دونوں پر کھیل سکے گی وگرنہ پہلے پارلیمانی محاذ پر طویل عرصے سے خاموشی تھی۔ اب اس بات کا بھی امکان ہے کہ اپوزیشن تحریک عدم اعتماد کا آپشن بھی استعمال کرے اور سیاسی دباؤ کے لیے لانگ مارچ بھی کرے۔ سینیٹ انتخابات میں یوسف رضا گیلانی کو اسلام آباد سے امیدوار بنانے، ان کی لابنگ کرنے اور پہلے دن سے آخری وقت تک پر امید رہنے والے آصف زرداری بجا طور پر یہ دعویٰ کر سکتے ہیں اپنی بچھائی ہوئی سیاسی بساط میں وہ کامیاب ہوئے ہیں اور انہوں نے خود کو ایک مرتبہ پھر خود کو سب پر بھاری ثابت کیا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ آصف علی زرداری نہیں پی ڈی ایم اتحاد کی دیگر جماعتوں کو اس پے دن کی بجائے ضمنی انتخابات لڑنے اور سینٹ کے الیکشن میں بھی حصہ لینے پر قائل کیا۔ یوں سیاسی میدان میں اب وزیراعظم عمران خان کو ایک بڑی شکست ہو چکی ہے ہے جو انکی حکومت کے خاتمے پر بھی منتج ہو سکتی ہے۔ اب اس بات کا روشن امکان ہے کہ زرداری اگلے مرحلے میں گیلانی کو سینیٹ چیئرمین بنانے کی کوشش بھی کریں۔ اگر پی ڈی ایم کی قیادت زرداری صاحب کی اس تجویز کو مان گئی تو حکومت کے لیے یہ ایک نیا چیلنج ہو گا کیونکہ پیپلز پارٹی کا چیئرمین سینیٹ اس کے لیے قانون سازی کو مشکل بنا دے گا۔
سہیل وڑائچ مزید کہتے ہیں کہ سینیٹ کے حالیہ الیکشن اور یوسف رضا گیلانی کی جیت نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے کردار کے حوالے سے بھی کئی سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔ڈسکہ ضمنی انتخاب اور سینیٹ الیکشن کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کے ترجمان اور ان کے ہمدرد طبقے یہ دعوے کر رہے تھے کہ اسٹیبلشمنٹ اب نیوٹرل ہو گئی ہے اس نے نہ تو ڈسکہ کے ضمنی انتخاب میں کوئی حصہ لیا اور نہ ہی سینیٹ الیکشن میں اس کا کردار ہو گا۔ تاہم سینیٹ الیکشن سے دو روز پہلے کچھ سرکاری لوگوں نے ایم این ایز کو حفیظ شیخ کے حق میں ووٹ ڈالنے کا کہا جس پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے باقاعدہ متعلقہ حکام کو اس حوالے سے شکایت بھی کی۔ کہا جا رہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن اراکین کو آخری ایک دو دنوں میں بھائی لوگوں کی جانب سے رابطہ کیا گیا۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی ایک ٹی وی پروگرام میں دعوی کیا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ شروع میں تو نیوٹرل رہی لیکن الیکشن سے دو روز پہلے اس نے کھل کر اراکین اسمبلی پر دباؤ ڈالا اور انہیں دھمکیاں دیں۔ تاہم یہ طے ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ کے موقع پر حکومت کے لیے جتنا اوپن کردار ادا کیا تھا اس دفعہ ویسا ماحول دیکھنے میں نہیں آیا۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف یہ اندازہ ہی نہیں کر سکی کہ اس کی پیٹھ اب ننگی ہے۔ سہیل وڑائچ کے مطابق تحریک انصاف کو جتنی پہلے سپورٹ حاصل تھی وہ اسکے برقرار رہنے کہ توقع کر رہی تھی مگر اس مرتبہ اسے اتنی حمایت نہ ملی اور نتیجہ سامنے ہے کہ عمران خان کے امیدوار، اور اسٹیبلشمنٹ کے پسندیدہ حفیظ شیخ شکست کھا گئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
%d bloggers like this: