سینٹ الیکشن کے بعد عمران خان حکومت ہوا میں معلق ہو گئی

سینیٹ انتخابات کے بعد نئی پارٹی پوزیشن سامنے آگئی ہے جس کے مطابق اپوزیشن کو ایوان بالا میں حکومت کے 47 اراکین کے مقابلے میں 53 اراکین سے برتری حاصل ہو گئی ہے جس کے بعد اب سینیٹ چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد آنے اور یوسف رضا گیلانی کے نیا چیئرمین سینیٹ بننے کے واضح امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سینٹ الیکشن کے نتائج کے بعد اس وقت عمران خان کی حکومت ہوا میں معلق ہے کیونکہ قومی اسمبلی میں حکومتی امیدوار حفیظ سیخ کی یوسف رضا گیلانی کے ہاتھوں شکست کے بعد وزیراعظم عمران خان پہلے ہی اکثریت کھو چکے ہیں اور سینیٹ میں بی اپوزیشن اتحاد کے اراکین اکثریت حاصل کر چکے ہیں۔ ایوان بالا میں اس وقت تحریک انصاف 26 نشستوں کے ساتھ سب سے آگے ہے، اسکے بعد پیپلزپارٹی دوسری ، مسلم لیگ ن تیسری جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی چوتھی بڑی جماعت بن گئی۔ سینیٹ میں نئی پارٹی پوزیشن کے مطابق حکمران اتحاد کو کل 47 ارکان جبکہ اپوزیشن اتحاد کو سینٹ میں 53 ارکان کی حمایت حاصل ہوگئی، یوں اب سنیٹ چئیرمین شپ کے لیے صادق سنجرانی اور یوسف رضا گیلانی کے درمیان بڑا مقابلہ ہونے کا امکان ہے۔
سنیٹ انتخابات 2021 کے غیر حتمی نتائج کے بعد سینیٹ کی نئی پارٹی پوزیشن کے مطابق 100 ارکان کے ایوان بالا میں کل جماعتوں کی تعداد 13 ہوگئی ہے۔ ان جماعتوں میں تحریک انصاف نے ایوان بالا میں 18 نئی نشستیں حاصل کرلیں جس کے بعد ان کی کل 26 نشستیں ہوگئیں، پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا سے 10، پنجاب سے 5، سندھ سے 2 جبکہ اسلام آباد سے ایک نشست پر کامیابی حاصل کی۔
پیپلزپارٹی سنیٹ میں 8 نئی نشستیں جیت گئی یے۔ اس نے 7 نشستوں پر سندھ جبکہ 1 نشست پر اسلام آباد سے کام یابی حاصل کی اس طرح پیپلزپارٹی 20 نشستوں کے ساتھ ایوان بالا کی دوسری بڑی جماعت بن گئی۔ مسلم لیگ ن نے پنجاب سے 5 نشستیں حاصل کیں، اور سنیٹ میں 18 نشستوں کے ساتھ تیسری بڑی جماعت بن گئی ہے۔ بلوچستان عوامی پارٹی 6 نئی نشستیں جیت کر ایوان بالا میں 12 نشستوں کے ساتھ چوتھی بڑی جماعت بن گئی، اسکے علاوہ سنیٹ میں 2 نئے آزاد ارکان آنے سے تعداد ان کی مجموعی تعداد 6 ہوگئی ہے۔
جمعیت علمائے اسلام نے بلوچستان سے 2 جبکہ خیبر پختونخوا سے 1 نشست پر کامیابی حاصل کی اور سینیٹ می تین نئی نشستوں کے ساتھ جے یو آئی کے ارکان کی تعداد 5 ہوگئی۔ ایم کیو ایم پاکستان نے سندھ سے 2 نشستوں پر کامیابی حاصل کی جس کے بعد ایوان بالا میں اس کے نمائندوں کی تعداد 3 ہوگئی ہے۔  اس کے علاوہ ایوان بالا میں نیشنل پارٹی،اے این پی اور پی کے میپ کی دو دو نشستیں ہو گئیں۔ مسلم لیگ ق،مسلم لیگ فنکشنل، جماعت اسلامی اور بی این  پی مینگل کی سینٹ میں ایک ایک نشست ہوگئی۔
سینیٹ انتخابات 2021 کے بعد تحریک انصاف، بلوچستان عوامی پارٹی، ایم کیو ایم، مسلم لیگ فنکشنل، مسلم لیگ ق اور 4 آزاد ارکان کی حمایت پر مشتمل حکومتی اتحاد  کو 47 ارکان جبکہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، جمیعت علمائے اسلام، پختونخوا ملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی، بی این پی، اے این پی جماعت اسلامی اور 2 آزاد ارکان کی حمایت پر مشتمل اپوزیشن ارکان کی تعداد 53 ہوگئی ہے۔
ایسی صورت میں حکومت اپنا چیئرمین سنیٹ بچانے اور اپوزیشن یوسف رضا گیلانی کو بطور نیا چیئرمین لانے کی کوشش کریں گی، اعدادو سمار کے مطابق حکومت کی جانب سے اگر صادق سنجرانی امیدوار ہوئے تو پھر بھی اپوزیشن کے پاس 50 ووٹ ہوں گے کیونکہ مسلم لیگ ن کے اسحاق ڈار کی سنیٹ رکنیت معطل ہے، جماعت اسلامی کا اپنی ایک نشست پر غیر جانبدار رہنے کا امکان ہے جبکہ اے این پی کے بلوچستان سے منتخب سنیٹرعمر فاروق چئیرمین سنیٹ کے لیے صادق سنجرانی کو ووٹ دے سکتے ہیں کیونکہ بلوچستان میں اے این پی کا اتحاد سنجرانی کی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی سے ہے۔ تاہم ہواؤں کا رخ بدلنے کے بعد اب اس بات کا واضح امکان ہے کہ ماضی کے کی تحریک تحریک عدم اعتماد کی طرح اس مرتبہ پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل رہے گی اور عمران خان کے ساتھ مل کر صادق سنجرانی کو بچانے کی کوشش نہیں کرے گی۔
دوسری جانب پی ڈی ایم کی دیگر جماعتوں کی نسبت سینٹ الیکشن پر واضح موقف رکھنے والی پیپلز پارٹی اپنی حکمت عملی سے گیم میں مکمل داخل  ہوچکی ہے۔ چیئرمین سینیٹ کے لیے پیپلز پارٹی اپنے امیدوار کا نام پی ڈی ایم کے سامنے رکھے گی اور یوسف رضا گیلانی پر  اتفاق رائے ہونے کی صورت میں متفقہ امیدوار کا اعلان بھی ہوگا جبکہ ڈپٹی چیئرمین کے لئے اپوزیشن کی بڑی جماعت مسلم لیگ ن یا جے یو آئی کے ساتھ مشاورت ہوگی۔ ان حالات میں عمران خان اور ان کی حکومت کے لئے خطرے کی گھنٹیاں بج چکی ہیں اور سیاسی تجزیہ نگار سمجھتے ہیں کہ ملک میں سیاسی تبدیلی کے واضح امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔
اسی لیے تحریک انصاف نے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی نشست پر شکست کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ وزیر اعظم پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لیں گے۔ تحریک انصاف کے رہنما اور وفاقی وزیر شاہ محمود قریشی نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرس کے دوران کہا ہے کہ وزیر اعظم نے ووٹ آف کانفیڈینس یعنی اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ شاہ محمود نے بتایا کہ عمران خان کا کہنا ہے کہ میں وزیر اعظم تب تک ہوں جب تک مجھے پارلیمنٹ کا اعتماد حاصل ہے لہذا میں الیکشن نتائج کے بعد قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لونگا۔ تاہم سینیٹ الیکشن مکمل ہونے کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس ختم کردیا گیا ہے اور یہ امید کی جا رہی ہے کہ اب جس روز بھی قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا جائیگا عمران خان وزیراعظم اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان اپنی وزارت عظمیٰ بچانے میں کامیاب ہوں گے یا نہیں۔
یاد رہے کہ اسلام آباد سے سینٹ کی سیٹ کے لئے یوسف رضا گیلانی کے مقابلے میں حفیظ شیخ کے 16 حکومتی ووٹ کم پڑے حالانکہ انہیں وزیراعظم عمران خان کا ذاتی امیدوار سمجھا جا رہا تھا۔ حفیظ شیخ کے مقابلے میں یوسف رضا گیلانی کو متحدہ اپوزیشن پی ڈی ایم کی حمایت حاصل تھی۔ یوسف رضا گیلانی کو 169 ووٹ جبکہ حفیظ شیخ کو 164 ووٹ ملے حالانکہ قومی اسمبلی میں حکومتی اتحادی جماعتوں کے اراکین کی تعداد 180 اور اپوزیشن کے اتحادی اراکین کی تعداد 160 ہے۔ قومی اسمبلی میں 340 ووٹ کاسٹ کیے گئے جن میں سے سات ووٹ مسترد ہوئے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ مسترد شدہ ووٹ ان حکومتی اراکین کے تھے جو کہ وزیراعظم سے نالاں تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
%d bloggers like this: