ایک زرداری دوبارہ سب ہر بھاری کیسے ثابت ہوئے؟


سابق صدر آصف علی زرداری کے حوالے سے یہ نعرہ تو سب نے سنا ہو گا کہ ” ایک زرداری سب پر بھاری”۔ سینٹ الیکشن میں سید یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کے بعد ایک مرتبہ پھر یہ نعرہ سیاسی حلقوں میں زبان زد عام ہے کیونکہ عمران خان کی شکست اور گیلانی کی کامیابی آصف زرداری کی بچھائی گئی سیاسی شطرنج اور سیاسی چالوں کے باعث ہی ممکن ہوئی۔ سیاست کا میدان ہو یا نیب کے مقدمات ہوں یا جیلوں کی سلاخیں، آصف علی زرداری نے اپنی استقامت اور دانش ہمیشہ ثابت کی ہے اور ہر مرتبہ سرخرو ہو کر سامنے آئے۔ اپنے پچھلے دور حکومت میں جس طرح انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین کو ساتھ ملائے رکھا اور اسٹیبلشمنٹ کو بھی ساتھ چلائے رکھا، وہ ان کی سیاسی بصیرت اور دانش کے باعث ہی ممکن تھا۔ زرداری نے تمام تر مخالفت اور سازشوں کے اپنی حکومت کے پانچ سال پورے کیے اور خود کو سب پر بھاری ثابت کیا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اپنی سابقہ روایات برقرار رکھتے ہوئے اس مرتبہ بھی آصف زرداری نے اسمبلیوں سے استعفوں اور انتخابی عمل سے لاتعلقی اختیار کرنے کی بجائے پارلیمنٹ کے ذریعے تبدیلی لانے کی کامیاب حکمت عملی اپنا کر نہ صرف اپوزیشن اتحاد کو بند گلی میں جانے سے بچا لیا بلکہ عمران خان کی حکومت کو بھی سیاسی طور پر مفلوج کرکے رکھ دیا ہے۔ یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کے بعد اب عمران خان کے لیے یہ صورت حال پیدا ہو چکی ہے کہ انہیں اعتماد کا ووٹ لینا پڑ رہا ہے۔
دراصل ایک زرداری سب پہ بھاری کا نعرہ تب ایک مرتبہ پھر گونج اٹھا جب پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار یوسف رضا گیلانی نے حکومتی امیدوار عبدالحفیظ شیخ کو اسلام آباد کی سیٹ سے ہرا دیا جو کہ ایک طرح سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف بھی عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ گیلانی کی فتح کی صورت میں آصف زرداری نے اپوزیشن کو سڑکوں سے پارلیمنٹ کے اندر لاکر ووٹ کی طاقت کے ذریعے تبدیلی لانے کا عملی مظاہرہ کرکے اپنے سیاسی جادوگر ہونے کا ثبوت بھی دے دیا۔ لہذا اب اپنے ہی نہیں بلکہ بیگانے بھی آصف زرداری کی سیاسی بصیرت کو دار دے رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سینیٹ الیکشن میں یوسف رضا گیلانی کی جیت دراصل سابق صدر آصف علی زرداری کے موقف کی جیت ہے کیونکہ وہ ہمیشہ یہی کہتے آئے ہیں کہ سسٹم کے اندر رہتے ہوئے بھی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ اسی لیے پیپلز پارٹی نے اپنی اتحادی جماعتوں نواز لیگ اور جمیعت علماء اسلام کے تمام تر اصرار کے باوجود اسمبلیوں سے اجتماعی استعفے دینے کی مخالفت کی تھی۔ تاہم تب کئی اپوزیشن رہنما زرداری کی اس حکمت عملی کو نہ سمجھتے ہوئے اسے کمزوری اور سمجھوتے کا نام دے رہے تھے تھے۔ حکومت نے بھی زرداری کی اس حکمت عملی کو اپوزیشن کی ناکامی سے تعبیر کیا تھا۔
واضح رہے کہ پیپلزپارٹی نے ہی عدم اعتماد سمیت پارلیمنٹ کے اندر سے تبدیلی لانے کے آپشن کو پی ڈی ایم کے پہلے مشترکہ اعلامیہ میں شامل کروایا تھا۔ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور ن لیگ کی رہنما مریم نواز نے اسمبلیوں سے استعفوں کا اعلان کیا تو پیپلز پارٹی نے اس کی مخالفت کی اور انہیں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ آصف علی زرداری نے بھرپور سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پی ڈی ایم کو بند گلی میں جانے سے بچایا جس کا آغاز مثبت نتیجہ سامنے آ چکا ہے اور عمران خان حکومت لڑکھڑا گئی ہے۔ یہ آصف علی زرداری ہی تھے جن کے اصرار پر دیگر اہوزیشن جماعتوں نے ضمنی الیکشن اور سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا اور پھر نون لیگ اور جمعیت علماء اسلام کو بھی اس پر آمادہ کیا۔ اور پھر دنیا نے دیکھا کہ ضمنی انتخابات اور سینٹ الیکشن دونوں میں اپوزیشن نے حکومت کو نیچے لگا لیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ اپوزیشن کی اتحادی جماعتیں سینٹ میں حکومت کے 47 اراکین کے مقابلے میں 53 اراکین کے ساتھ اکثریت حاصل کر چکی ہیں جس سے زرداری کا بیانیہ درست ثابت ہوا ہے۔
سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ملک کی سیاسی فضا میں جو حیران کن تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں ان سے واضح ہوگیا کہ آصف زرداری کی حکمت عملی سو فیصد کامیاب رہی ہے اور تحریک انصاف کی حکومت کے مقابلے میں پی ڈی ایم اپوزیشن اتحاد عوام کی نظروں میں سرخرو ثابت ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ضمنی انتخابات میں بھی اپوزیشن نے میدان مارا اور سینیٹ الیکشن میں بھی حکومت کو چاروں شانے چت کر دیا۔ اگرچہ اپوزیشن میں شامل دیگر جماعتوں کو ابتدا میں پیپلزپارٹی کی حکمت عملی پر اعتراض تھا تاہم نون لیگ اور جمعیت علماء اسلام ف نے جس طرح زرداری کی کال پر لبیک کہا اور کامیابی حاصل کی، اس سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ مستقبل میں پی ڈی ایم اتحاد کی سیاست میں آصف علی زرداری کا کردار اہم ترین ہو گا کیوں کہ انہوں نے خود کو میدان سیاست کا ایک کامیاب کھلاڑی ثابت کیا ہے۔
پاکستان کی سیاست کو سمجھنے والے اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کے سامنے صورت حال کی تبدیلی کا مکمل خاکہ موجود تھا اور وہ آصف علی زرداری کی قیادت میں اپنے سیاسی تجربے کی بنیاد پر مستقبل کی حکمت عملی طے کر رہے تھے۔ سینیٹ انتخابات کے بعد یہ طے ہو چکا ہے کہ پی ڈی ایم سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لاکر اپنے امیدوار کو ان اہم سیٹوں پر بٹھائے گی جبکہ آخر میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی۔ تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ سینیٹ انتخابات کے نتیجے میں تحریک انصاف کی حکومت شدید دباؤ میں آچکی ہے جبکہ اپوزیشن کا مورال بہت بلند ہوگیا ہے۔ ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کی شکست اور ڈسکہ میں ری الیکشن کے فیصلے کے بعد یوسف رضا گیلانی کی جیت تحریک انصاف حکومت کے لیے چند ہفتوں میں تیسرا بڑا دھچکہ ہے جس سے حکومت کے لئے خطرے کی گھنٹیاں بج گئی ہیں۔ تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے ارکان نے وزیراعظم سے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دیا ہے اس کے علاوہ گیلانی کے اراکین اسمبلی کے ساتھ ذاتی تعلقات بھی کام آئے۔ تاہم گیلانی اپنی کامیابی کا کریڈٹ بھی زرداری کو دیتے ہیں جن کی کامیاب حکمت عملی نے عمران خان کو ایک بند گلی میں دھکیل دیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ سینیٹ انتخابات میں آصف زرداری نے ایک تیر سے دو شکار کیے ہیں کیونکہ یوسف رضا گیلانی کی فتح کے بعد ملکی سیاست کا رخ تبدیل ہونا شروع ہو گیا ہے اور پی ٹی آئی کے لیے مشکلات بڑھتی نظر آ رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سینٹ الیکشن میں صرف گیلانی نے ہی کامیابی حاصل نہیں کی بلکہ اب وہ اپوزیشن اتحاد کی جانب سے چیئرمین سینیٹ کے بھی مضبوط ترین امیدوار بن گئے ہیں اور صاف نظر آ رہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا اگلا ہدف چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ہٹاکر یوسف رضا گیلانی کو اپوزیشن کا متفقہ چیئرمین منتخب کروانا ہو گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
%d bloggers like this: