عالمی عدالت کا اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں میں جنگی جرائم کی تحقیقات کا آغاز

بین الاقوامی فوجداری عدالت نے فلسطینی علاقوں میں مبینہ جنگی جرائم کی باضابطہ تحقیقات کا آغاز کردیا۔
عالمی عدالت کے اس اقدام کو اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے ‘انسداد یہودیت کا نچوڑ’ بتایا جب کہ فلسطینی حکام نے اسرائیلی مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کے ساتھ جون 2014 سے چاروں طرف سے بند غزہ کی پٹی کی صورت حال کی ‘فوری اور ضروری’ تحقیقات کے طور پر آئی سی سی کے چیف پراسکیوٹر فاتو بنسودا کے فیصلے کو سراہا۔ اس اقدام سے ہیگ میں قائم ٹربیونل، جو اسرائیل اور اس کی حلیف امریکا کی طرف سے مسلسل تنقید کا سامنا کرتا رہتا ہے، کو دنیا کے ایک انتہائی مشکل تنازع اور خطرے میں ڈال دیا ہے۔ فاتو بنسودا نے کہا کہ انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ دونوں اطراف میں ‘قابل قبول امکانی کیسز’ موجود ہیں اور تحقیقات نے 2014 کے غزہ تنازع پر توجہ مرکوز کی تھی جس میں 2 ہزار سے زائد افراد قتل ہوگئے تھے۔ پراسکیوٹر نے کہا کہ آخر میں ہماری مرکزی تشویش فلسطینی اور اسرائیلی، دونوں طرف سے تشدد اور عدم تحفظ کے طویل عرصے سے پیدا ہونے والے جرائم کے متاثرین کےلیے ہونی چاہیے جو ہر طرف گہرے دکھ اور مایوسی کا باعث بنا ہے۔ آئی سی سی کے ججز نے جنگی جرائم کی تفتیش کی راہ ہموار کردی تھی جب انہوں نے ایک ماہ قبل یہ فیصلہ سنایا تھا کہ فلسطینیوں کی رکنیت کی وجہ سے اس صورت حال پر عدالت کا دائرہ اختیار موجود ہے۔ اس تحقیقات میں توجہ آپریشن پروٹیکٹو ایج پر مرکوز کی جائے گی جو اسرائیل کی طرف سے 2014 کے موسم گرما میں مزاحمت کاروں حماس کی جانب سے ملک میں کیے گئے راکٹ فائر کو روکنے کے بیان کردہ مقصد کے ساتھ شروع کیا گیا تھا۔ 2014 کی لڑائی میں تقریبا 2 ہزار 250 فلسطینی شہید ہوئے تھے جن میں زیادہ تر عام شہری جب کہ 74 اسرائیلی، جن میں بیشتر فوجی تھے۔ آئی سی سی کے اس فیصلے کے بارے میں بینجمن نیتن یاہو نے ٹوئٹر پر ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی جس میں انہوں نے کہا کہ ‘آج شام اسرائیل پر حملہ ہوا ہے، دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی عدالت نے ایک فیصلے پر پہنچ گئی ہے جو یہود دشمنی کا نچوڑ ہے’۔اسرائیلی وزیر خارجہ گبی اشکنازی نے کہا کہ ملک ‘اپنے شہریوں اور فوجیوں کو قانونی ظلم و ستم سے بچانے کےلیے ہر ضروری اقدام کرے گا’۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تحقیقات امن عمل پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب فلسطینی حکام نے اس فیصلے کو سراہا۔ فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی نے ایک بیان میں کہا کہ ‘فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیل کی طرف سے کیے جانے والے جرائم، جو منظم اور بڑے پیمانے پر جاری ہیں، اس تحقیقات کو ضروری اور فوری بناتے ہیں’۔ اس فیصلے پر امریکا کی طرف سے فوری طور پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے فروری میں کہا تھا کہ آئی سی سی کے دائرہ اختیار سے متعلق فیصلے کے بارے میں اسے ‘شدید تحفظات’ ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل کو عدالت کا پابند نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ ممبر نہیں ہے۔ 2019 میں فاتو بنسودا نے تحقیقات کےلیے اپنی ابتدائی درخواست میں کہا تھا کہ اسرائیلی دفاعی فورسز، اسرائیلی حکام، حماس اور فلسطینی مسلح گروہوں کے ممبران کی جانب سے جرائم کا ارتکاب کرنے کی ایک ‘معقول بنیاد’ موجود ہے۔ آئی سی سی کے پراسکیوٹر نے یہ بھی کہا کہ 2018 کے بعد سے فلسطینی مظاہرین کی ہلاکتوں کی بھی تحقیقات کی گنجائش موجود ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
%d bloggers like this: