کیا شہریار آفریدی نے حفیظ شیخ سے گدھا کہنے کا بدلہ لیا؟


کیا سینیٹ الیکشن میں شہریار آفریدی نے اپنا قیمتی ووٹ حفیظ شیخ کو دیتے وقت جان بوجھ کر غلطی کی تاکہ ان کا ووٹ ضائع ہوجائے؟ پاکستانی سوشل میڈیا پر یہ سوال زیر بحث ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ ماضی میں ایک حکومتی اجلاس کے دوران حفیظ شیخ نے شہریار آفریدی کو گدھا کہہ دیا تھا جس کا بدلہ انہوں نے اپنا ووٹ ضائع کر کے لیا اور پھر بہانہ لگا دیا کہ ان سے غلطی ہوگئی ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ شہریار آفریدی نے حفیظ شیخ کو ووٹ ڈالتے ہوئے تو غلطی کی لیکن اسلام آباد کی نشست پر حکومت کی خاتون امیدوار فوزیہ ارشد کو ووٹ ڈالتے ہوئے انہوں نے کوئی غلطی نہہیں کی۔ تاہم سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے اس حوالے سے تو صرف شہریار آفریدی بتا سکتے ہیں لیکن ان کا ماضی گواہ ہے کہ وہ حلفیہ جھوٹ بھی بول دیتے ہیں جسکا مظاہرہ انہوں نے رانا ثناء اللہ پر منشیات کا جعلی کیس ڈالتے ہوئے کیا تھا۔
شہریار آفریدی کا سینیٹ کے لیے ووٹ ضائع ہونے پر سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصروں کی بھرمار ہے۔ سینیٹ انتخاب کے دوران قومی اسمبلی تمام دن دلچسپ صورت حال کا مرکز بنی رہی۔ جہاں حکومت کے امیدوار عبدالحفیظ شیخ کو اپوزیشن اتحاد کے یوسف رضا گیلانی کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا وہیں بڑبولے وفاقی وزیر شہریار آفریدی کی معصومانہ غلطی نے وزیراعظم عمران خان کو بھی پریشانی سے دوچار کر دیا۔ آفریدی کا ووٹ ضائع ہونے پر مسلسل دلچسپ تبصرے سننے کو ملتے رہے، بعض افراد کا خیال تھا کہ شہریار نے موسیٰ گیلانی کی ہدایات کے عین مطابق اپنا ووٹ ضائع کیا کیونکہ وہ حفیظ شیخ کو جیتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ پاکستانی سیاست میں آئے روز کوئی نہ کوئی نیا تنازع سر اُٹھاتا ہے اور اکثر سوشل میڈیا پر زیر بحث آنے کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے مزاح اور طنز کا روپ بھی اختیار کر لیتا ہے۔ ایسا ہی کچھ سینیٹ انتخابات میں بھی دیکھنے کو ملا جہاں اسلام آباد کی نشست پر پیپلز پارٹی کے امیدوار یوسف رضا گیلانی نے حکمراں جماعت کے امیدوار حفیظ شیخ کو ہرا کر بڑا اپ سیٹ کر دیا۔ الیکشن کمیشن کے ریٹرننگ افسر کی جانب سے اعلان کردہ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق 340 ارکانِ پارلیمان کی جانب سے ڈالے گئے ووٹوں میں سے یوسف رضا گیلانی کو 169 جب کہ حفیظ شیح کو 164 ووٹ ملے۔
تاہم اس نتیجے میں دلچسپ بات یہ تھی کہ سات ووٹوں کو مسترد کر دیا گیا تھا جن میں سے ایک تحریک انصاف کے رکنِ قومی اسمبلی شہریار آفریدی کا تھا، جو وہ تسلیم کر چکے ہیں کہ انہوں نے غلطی سے حفیظ شیخ کے نام کے سامنے مہر لگانے کی بجائے دستخط کر دیے جس سے انکی شناخت ظاہر ہو گئی اور ووٹ ضائع ہو گیا۔ یاد رہے کہ الیکشن سے ایک روز پہلے ہی ’ووٹ ضائع‘ کرنے کی تراکیب بتاتی علی گیلانی کی ویڈیو تمام ٹی وی اسکرینز پر چل رہی تھی۔ تاہم اگلے ہی روز ابھی پولنگ کا عمل جاری ہی تھا کہ حکمراں جماعت کے ایم این اے شہریار آفریدی کی جانب سے ایک تحریری درخواست کی گئی کہ طبیعت ناساز ہونے کے باعث وہ اپنی جماعت کی جانب سے الیکشن کی تیاری میں حصہ نہیں لے سکے اور اس وجہ سے انہیں ووٹ کاسٹ کرنے کا طریقہ معلوم نہیں تھا لہذا انہوں نے ووٹ پر دستخط کر دیے اس لیے انہیں دوبارہ ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے خط میں یہ بھی لکھا کہ متعلقہ انتخابی عملہ ووٹ ڈالنے میں ان کی رہنمائی کرنے میں ناکام رہا۔ لیکن ان کی یہ درخواست مسترد کر دی گئی کیونکہ جب اپنی شناخت ظاہر کر دیتے ہیں اور وووٹ بھی بیلٹ بکس میں ڈال دیتے ہیں تو پھر آپ کے پاس اور کوئی چانس باقی نہیں رہتا۔
خبروں کی مطابق آفریدی کو اپنی حرکت پر عمران خان سے سخت سرزنش کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسے میں یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ اتنے عرصے سے رکنِ پارلیمان رہنے والے شہریار آفریدی اتنے اہم موقع پر یہ غلطی کیسے کر سکتے ہیں؟ یاد رہے کہ یوسف رضا گیلانی کے ہاتھوں حفیظ شیخ کو صرف پانچ ووٹوں سے شکست ہوئی لیکن مسترد ہونے والے ووٹوں کی تعداد سات رہی اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہ تمام حکومتی ووٹ تھے۔ اس خیال کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ 340 ممبران قومی اسمبلی کے ایوان میں حکومت اور اسکے اتحادی اراکین کی تعداد 180 ہے جبکہ اپوزیشن اور اس کے اتحادیوں کی تعداد 160 ہے لہذا حفیظ سیخ کو 164 ووٹ ملنے کا مطلب یہ ہوا کہ انہیں 16 حکومتی اراکین کے ووٹ نہیں ملے جن میں شہریار کا ووٹ بھی شامل ہے۔
واضح رہے کہ سینیٹ انتخابات میں خفیہ رائے شماری کے طریقہ کار کے باعث اگر کوئی امیدوار خود اس بات کا اعلان نہ کرے تو قواعد کے مطابق یہ پتا نہیں چلایا جا سکتا کہ کس کے ووٹ مسترد ہوئے۔ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ بیلٹ پیپر پر یہ واضح طور پر لکھا ہوتا ہے کہ آپ کو نمبر لکھ کر واضح کرنا ہے کہ آپ کس کو ووٹ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میں خود بھی سینیٹ انتخابات میں ریٹرننگ افسر رہ چکا ہوں اور اکثر اراکین جان بوجھ کر بیلٹ پیپر پر دائرہ بنا آتے ہیں یا دستخط کر دیتے ہیں یا پھر ٹک کا نشان لگا دیتے ہیں جس سے ووٹ ضائع ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون میں خفیہ رائے شماری کے عمل کے مطابق اس بات کا پتا تو نہیں لگایا جا سکتا کہ کن افراد کے ووٹ مسترد ہوئے لیکن عام طور پر نجی محفلوں میں اس بات کا علم سب کو ہوتا ہے۔ کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ شہریار آفریدی کافی عرصے سے پارلیمان کا حصہ ہیں اور ان کا سینیٹ میں غلط ووٹ ڈالنا سمجھ سے بالاتر ہے کیوں کہ یہ بیلٹ پیپر انتہائی سادہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ویسے بھی آفریدی کا صرف حفیظ شیخ کو ڈالا جانے والا ووٹ ضائع ہوا جب کہ ھکومتی خوتون امیدوار کو دوسرا ووٹ انہوں نے درست انداز میں ڈالا۔تاہم شہریار آفریدی نے ایسے کسی تاثر کو رد کیا ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے اور وہ خود کو گدھا کہنے کی وجہ سے حفیظ شیخ سے ناراض تھے۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر کچھ صارفین سینیٹ الیکشن میں آفریدی کے علاوہ دیگر چھ مسترد ہونے والے ووٹوں کو علی گیلانی کی ویڈیو میں ووٹ ضائع کرنے کے مشورے سے جوڑ رہے ہیں اور اس حوالے سے تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے ہمدرد اپنا غصہ شہریار آفریدی پر نکال رہے ہیں۔ صحافی عدیل راجہ کا کہنا تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ شہریار آفریدی کو یہ معلوم نہ ہو کہ ووٹ کیسے کاسٹ کرنا ہے۔ یہ تو ووٹ ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ لیکن صحافی مہر تارڑ نے شہریار آفریدی سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بے چارے شہریار آفریدی، غلطی انسان سے ہی ہوتی ہے لیکن سینیٹ کے ووٹ بہت کم ہیں اس لیے ہر غلطی بہت مہنگی ثابت ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ پولنگ کے دوران سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی ایک بیلٹ پیپر پر غلط ووٹ دینے کے بعد نیا بیلٹ پیپر مانگ لیا تھا۔ تاہم انہوں نے ایسا ووٹ کاسٹ کرنے سے پہلے کیا اور یہ استدعا کی کہ بیماری کے باعث ان کے ہاتھ کانپتے ہیں اس لیے انہیں دوبارہ ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے۔ ان کی یہ درخواست منظور کر لی گئی تھی۔
تاہم زیادہ تر سوشل میڈیا صارفین یہ اصرار کرتے دکھائی دیے کے شہریار آفریدی نے جان بوجھ کر اپنا ووٹ ضائع کیا۔ ایک صارف نے لکھا کہ شہریار آفریدی کی یہ غلطی خاصی مایوس کن ہے کیوں کہ صورت حال ہی بہت سنگین تھی۔ ایک صارف نے لکھا کہ آفریدی نے جان اللہ کو دینی ہے اور ووٹ کسی کو بھی نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
%d bloggers like this: