فوجی اسٹیبلشمنٹ کا کون سا طاقتور کردار غیر سیاسی ہونے سے انکاری ہے؟

سینیٹ الیکشن میں اپوزیشن امیدوار یوسف رضا گیلانی کی حیران کن جیت کے بعد اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں یہ بحث تیز تر ہو گئی ہے کہ کیا واقعی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اب کپتان کی ناکام حکومت کا ساتھ چھوڑ کر سیاسی طور پر نیوٹرل ہو جانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس بحث کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پچھلے مہینے فوجی ترجمان کی جانب سے یہ بیان آنے کے بعد کہ پاکستانی فوج کا سیاست میں کوئی کردار نہیں ہے اور وہ سیاسی معاملات سے دور ہے، کپتان حکومت کو پے در پے سیاسی جھٹکے لگنا شروع ہو چکے ہیں اور وہ نقصان میں جانا شروع ہو گئی ہے۔
حالانکہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے سینیٹ الیکشن سے دو دن پہلے اپنی غیرجانبداری ختم کر کے وزیراعظم عمران خان کے امیدوار حفیظ شیخ کو ووٹ دینے کے لیے ممبران قومی اسمبلی پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا تھا، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حالیہ سینیٹ الیکشن میں اسٹیبلشمنٹ اس طرح ننگی ہو کر حکومت کے ساتھ کھڑی نہیں ہوئی جیسا کہ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے وقت ہوا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ سینیٹ چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف الیکشن لڑنے والے اپوزیشن اتحاد کے امیدوار حاصل بزنجو نے ہارنے کے فورا بعد سنجرانی کی جیت کا کریڈٹ آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو دے دیا تھا۔ یاد رہے کہ خفیہ رائے شماری سے پہلے جب اپوزیشن اور حکومتی اراکین کی گنتی کی گئی تو اپوزیشن کو حکومت پر 14 ووٹوں کی برتری حاصل تھی لیکن جب خفیہ رائے شماری کے بعد رزلٹ سامنے آیا تو بزنجو ہار گئے اور سنجرانی جیت گئے۔ تاہم ہم سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ سینیٹ الیکشن میں یوسف رضا گیلانی کی جیت کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل رہی۔
تاہم کچھ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسوقت پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ اور انٹیلی جنس اسٹیبلشمنٹ دو مختلف سمتوں میں گامزن ہیں جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اپنے آرمی چیف سے زیادہ عمران خان کا ساتھ دے رہے ہیں جو بحثیت وزیراعظم آئینی اور قانونی طور پر ان کے اصل باس ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ دوجی اسٹیبلشمنٹ کا خود کو غیر سیاسی کرنے کا فیصلہ جنرل باجوہ کا تھا جو انہوں نے خود پر ہونے والی شدید تنقید کے بعد لیا اور اسکا اعلان فوجی ترجمان نے کیا۔ لیکن پاکستانی انٹیلیجنس اسٹیبلشمنٹ ابھی تک اس پر پوری طرح عمل درآمد نہیں کر رہی جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ آئی ایس آئی وزیراعظم عمران خان کے احکامات پر چلتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی آرمی چیف کی جانب سے اپوزیشن کو مفاہمت کا پیغام دیا جاتا ہے کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ رونما ہو جاتا ہے جس سے ان کی پوزیشن خراب ہوتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی میں مریم نواز کے ہوٹل کے کمرے کا دروازہ توڑنے کی واردات بھی بنیادی طور پر عمران خان کے ایما پر انٹیلی جینس اسٹیبلشمنٹ نے کروائی جس کا مداوا کرنے کے لیے آرمی چیف نے انکوائری کروائی اور ایجنسی کے ذمہ داران کے خلاف ایکشن بھی لیا۔
تاہم ایسے واقعات کا سلسلہ رکا نہیں اور آرمی چیف کی جانب سے اپوزیشن کو ضمنی انتخابات میں نیوٹرل رہنے کی یقین دہانی کے باوجود ڈسکہ کے الیکشن میں پھر سے واردات ڈال دی گئی جس سے دوبارہ ان کی پوزیشن خراب ہوئی۔ کہنے والے تو کہتے ہیں کہ ڈسکہ الیکشن میں دھاندلی کروانے کا الزام تو انٹیلیجنس بیورو پر لگایا جا رہا ہے لیکن اس میں آئی ایس آئی بھی پوری طرح ملوث تھی ورنہ حکومت اپنے طور پر بیس پولنگ اسٹیشنز کے ریٹرننگ آفیسرز کو دھند میں غائب کرنے کا رسک نہیں لیتی۔ تاہم جب اپوزیشن نے شور مچایا تو فوجی اسٹیبلشمینٹ نے سوئے ہوئے الیکشن کمیشن کا ضمیر جگا دیا گیا جس کے بعد چیف الیکشن کمشنر نے سب کو ڈنڈا دے دیا اور ڈسکہ میں دوبارہ الیکشن کا اعلان کر دیا۔
ان حالات میں اپوزیشن کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کو اپوزیشن کے علاوہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جیت اور انٹیلیجنس اسٹیبلشمنٹ کی ہار سے بھی تعبیر کیا جا رہا ہے۔ حفیظ شیخ کی شکست دراصل عمران خان کی شکست ہے اور انکی حکومت کیلئے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوئی ہے۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ سے تعلق رکھنے والے ذرائع کا کہنا ہے کہ کہ بنیادی طور پر عمران خان کے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اختلافات کی بڑی وجہ ان کا اپنا رویہ ہے اور انہیں اپنی سیاست کے انداز پر غور کرنا چاہئے۔ عمران خان پر محسن کشی کا الزام لگاتے ہوئے ان ذرائع کا کہنا تھا کہ ساری دنیا جانتی ہے ان کو اقتدار میں کون اور کس طرح سے لے کر آیا لیکن جب وہ اپنے بڑوں کو بلا وجہ آنکھیں دکھائیں گے اور انکے ساتھ کھیل کھیلنے کی کوسش کریں گے تو پھر معاملہ خرابی کی طرف ہی جائے گا۔
دوسری طرف سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور ان کی حکومت کے لیے معاملات گھبیر تر ہو گئے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اس صورتحال میں عمران خان کیا کریں گے۔ پی ڈی ایم کی جانب سے یوسف رضا گیلانی کی جیت کے بعد وزیراعظم عمران خان کے فوری استعفے کے مطالبے سے ان کی حکومت کے کے لئے معاملات اور بھیبخراب ہوگئے ہیں اور تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال میں ان کے لئے آسانی سے اعتماد کا ووٹ لینا اتنا آسان نہ ہوگا خصوصا جب فوجی اسٹیبلشمنٹ خود کو نیوٹرل رکھنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ بدلتی ہوئی صورتحال میں اب فیض کی زیر قیادت انٹیلیجنس اسٹیبلشمنٹ کے لئے بھی مزید عمران خان کا ساتھ دینا مشکل تر ہو جائے گا۔
ان حالات میں وزیراعظم کو دی جانے والی تجاویز میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ قومی اسمبلی کو تحلیل کر دیں اور نئے انتخابات کرائیں۔ تاہم، موجودہ سیاسی صورتحال ایسے کسی اقدام کیلئے سازگار نہیں کیونکہ اس کی کارکردگی خراب ہے، مہنگائی زیادہ ہے اور معاشی صورتحال بھی بُری ہے۔ نہ صرف حالیہ ضمنی انتخابات کے نتائج نے حکمران جماعت کو دکھا دیا ہے کہ اس کی مقبولیت ختم ہو رہی ہے بلکہ آزاد سروے سے بھی معلوم ہوا ہے کہ عمران خان کی جماعت زوال کا شکار ہے۔ ایسے وقت میں جب اسٹیبلشمنٹ مزید سیاسی معاملات میں کودنے سے ہچکچا رہی ہے، وزیراعظم خود کو مشکل حالات میں محسوس کریں گے کیونکہ انہوں نے قومی معاملات پر بھی کبھی اپوزیشن کے ساتھ بات کرنے میں دلچسپی نہیں دکھائی۔ اس کی بجائے وہ متکبرانہ انداز سے اپنی حکومت کے ابتدائی دنوں میں معیشت، طرز حکمرانی اور ادارہ سازی کے حوالے سے مشاورت اور پالیسی سازی پر مذاکرات کیلئے اپوزیشن کی پیشکش ٹھکراتے رہے ہیں۔
ایسی مثالیں بھی موجود ہیں جہاں قومی اہمیت کے معاملات پر بھی وزیراعظم نے اپوزیشن رہنمائوں کے ساتھ بیٹھنے سے انکار کردیا اور آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے کہا کہ وہ اُن کے سیاسی مخالفین سے مذاکرات کر لیں تاکہ اُن معاملات پر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔ اس پس منظر میں دیکھیں تو عمران حکومت کو سنگین سیاسی مشکل کا سامنا ہے۔ انہیں جارحانہ اپوزیشن اور ناقابل پیشگوئی اتحادیوں سے نمٹنا ہے اور ساتھ ہی اپنی حکومت کو بھی بچانا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا عمران خان اپنا اقتدار بچانے پاتے ہیں یا نہیں؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
%d bloggers like this: