کیا عمران خان قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ جیت لیں گے؟

وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے سینیٹ الیکشن میں اپوزیشن کے ہاتھوں شکست کے فوری بعد اعتماد کا ووٹ لینے کے فیصلے سے اسلام آباد میں سیاسی سرگرمیاں تیز تر ہو گئی ہیں اور یہ بحث زور پکڑ گئی ہے کہ کیا عمران اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ حکومتی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ وزیراعظم آسانی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیں گے چونکہ قومی اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ شو آف ہینڈ کے ذریعے دیا جاتا ہے جبکہ سینیٹ میں حکومت کی شکست کی بنیادی وجہ خفیہ رائے شماری تھی۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے سینیٹ الیکشن میں یوسف رضا گیلانی کی جیت کے بعد ہونے والے اجلاس میں یہ اعلان کیا تھا کہ وہ نہ تو چوہوں کی طرح وزیراعظم بن کر رہنا چاہتے ہیں اور نہ ہی اپنی جماعت میں موجود چوہوں کو برداشت کریں گے جنہوں نے سینیٹ الیکشن میں اپنا ووٹ ضائع کیا۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ قومی اسمبلی میں اوپن بیلٹ کے تحت رائے شماری میں اگر کسی شخص کو عمران خان سے اختلاف ہے تو وہ کھل کر سامنے آجائے گا۔ انکا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم کی جانب سے اعتماد کا ووٹ لینے کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ آئندہ چھ ماہ کے لیے اپوزیشن عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک نہیں لا سکے گی۔
یاد رہے کہ اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے وزیراعظم کی ایڈوانس پر صدر عارف علوی نے 6 مارچ کو قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔ دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے جمعرات کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید سے ملاقات بھی کی ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی اسٹیبلشمنٹ ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ تاہم ٹیلی ویژن پر دکھائی جانے والی ملاقات کی فوٹیج میں ان کا اترا ہوا چہرہ صاف نظر آ رہا تھا۔ یاد رہے کہ اسلام آباد سے قومی اسمبلی کی نشست پر یوسف رضا گیلانی کی کامیابی دراصل عمران خان کے خلاف عدم اعتماد ہے جس نے انہیں مجبور کیا ہے کہ وہ ایوان زیریں سے دوبارہ اعتماد کا ووٹ حاصل کریں۔ واضح رہے کہ سینیٹ انتخاب میں گیلانی نے عمران کے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو شکست دی ہے، جو اب تک سینیٹ انتخاب میں سب سے بڑے اپ سیٹ کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ سینیٹ انتخاب میں گیلانی کی جیت کے بعد بلاول بھٹو نے وزیر اعظم عمران خان کو اسمبلیاں توڑنے سے متعلق انھیں ان کا وعدہ یاد دلاتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان نے کہا تھا کہ اگر وہ شکست کھا گئے تو پھر وہ ایسا کریں گے۔‘ بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ ہار چکے ہیں اور ہم جیت چکے ہیں۔ انھوں نے سوال پوچھا کہ اب وزیر اعظم کو مستعفی ہونے سے کیا چیز روک رہی ہے؟ کیا وہ الیکشن سے ڈر رہے ہیں؟ دوسری جانب نواز شریف نے بھی عمران خان سے فوری ا استعفی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پی ڈی ایم اپوزیشن اتحاد کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی ایک پریس کانفرنس میں یوسف رضا گیلانی کی جیت کو عمران خان کی شکست فاش قرار دیتے ہوئے ان سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان حالات میں عمران خان کے پاس وزارت عظمی پر بیٹھے رہنے کا کوئی اخلاقی جواز باقی نہیں رہ گیا تھا لہٰذا انہوں نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
لیکن اس فیصلے کے بعد یہ سوال پیدا کیا جا رہا ہے کہ کیا عمران خان کا یہ اقدام ایک نپا تلا قدم ہے یا کہ جذباتی فیصلہ ہے۔ اس خدشے کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ اعتماد کا ووٹ نہ ملنے کی صورت میں وزیر اعظم بند گلی میں تو نہیں چلے جائیں گے۔ حکومتی سائیڈ کا خیال ہے کہ وزیراعظم عمران خان آسانی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیں گے اور اس معاملے پر انہوں نے پاکستان کی فوجی اور انٹیلیجنس قیادت سے بھی مشورہ کر لیا یے۔ دوسری جانب اگر وزیراعظم اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیتے ہیں تو آئین کے مطابق اگلے چھ ماہ اپوزیشن اتحاد ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک نہیں لا سکے گا لہذا اب اپوزیشن نے بھی فیصلہ کرنا ہے کہ انہوں نے ہفتے کے روز عمران خان کو نکالنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگانا ہے یا پھر اگلے چھ ماہ انتظار کرنا ہے۔ اپوزیشن حلقوں کا کہنا ہے کہ عہ وزیراعظم کو نکالنے میں جلدی نہیں کریں گے اور ایک فول پروف منصوبہ بنا کر حملہ آور ہوں گے۔ ذرائع کا کہنا یے کہ پہلے مرحلے میں سنجرانی کی جگہ یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینیٹ بنایا جائے گا جس کے بعد دوسرے مرحلے میں پنجاب میں وزیر اعلیٰ بزدار کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آئےگی۔ تیسرے مرحلے میں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی جائے گی کیونکہ اگر وزیراعظم کو فارغ کرنا ہے قومی اسمبلی کا اسپیکر اپوزیشن کے ساتھ ہونا چاہیے۔ اسکے بعد عمران خان کی باری آئے گی۔ تاہم اگر کوئی انہونی ہو گئی تو کوئی بعید نہیں کہ 6 مارچ کے روز وزیراعظم عمران خان قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے میں ناکام ہوجائیں۔
اس معاملے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے بتایا کہ یہ وزیر اعظم کا اختیار نہیں ہے بلکہ آئین، قانون اور قاعدے کے تحت صرف صدر ہی وزیر اعظم کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے کہہ سکتا ہے۔ ان کے مطابق ’یہ بات بڑی واضح ہے کہ وزیر اعظم ہار گئے ہیں اور انھوں نے خود اپنے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی مہم چلائی تھی مگر خود ان کے اپنے ارکان نے ان پر عدم اعتماد کر دیا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اب حکومت فنکشن نہیں کر سکتی ہے اور اب عوام اپنے ووٹ سے فیصلہ کرے گی کہ ملک کس نے چلانا ہے۔‘
لیکن وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اس بارے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے لوگوں میں بہت ذیادہ غصہ پایا جاتا ہے اور اب وہ اس کا بدلہ قومی اسمبلی میں وزیر اعظم پر اعتماد کے ووٹ کی صورت میں دیں گے۔‘ ان کے مطابق اس وقت وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے اور انھیں امید ہے کہ اس فیصلے سے سینیٹ میں ہونے والی شکست کے اثرات کو کم کیا جا سکے گا۔
دوسری خانب سینیئر صحافی سہیل وڑائچ نے موجودہ سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے خیال میں یہ وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے لیا گیا ایک درست فیصلہ ہے کیونکہ اگر وہ یہ فیصلہ نہ لیتے تو پھر حـزب اختلاف کی طرف سے عدم اعتماد کی تحریک پیش ہونی جس سے پھر وزیر اعظم خود عدم استحکام کا شکار ہوتے اور ملک بھی عدم اعتماد کا شکار ہوتا۔‘ سہیل وڑائچ کے مطابق ’چونکہ اعتماد کا ووٹ شو آف ہینڈز کے ذریعے سے ہو گا تو یہ سینیٹ کی طرح کوئی مشکل مرحلہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق لوگ کھل کر وزیر اعظم کے سامنے نہیں آنا چاہیں گے۔ ‘ تاہم ان کے خیال میں اگر یہ سب بھی خفیہ طریقے سے ہوتا تو پھر سینیٹ کی طرز کا عمل دہرایا جا سکتا تھا۔ سہیل وڑائچ کے خیال میں یہ وزیر اعظم کی ایک ’کیلکولیٹڈ موو‘ ہے اور ان کے لیے سینیٹ انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جواب دینا اس طرح کے فیصلہ کرنے سے ہی ممکن تھا۔
تاہم سینئر صحافی طلعت حسین کہتے ہیں ک ’سینیٹ میں اپ سیٹ کے بعد عمران کے پاس ایک ہی راستہ بچا تھس کہ وہ اعتماد کا ووٹ حاصل کرے چاہے اس میں کامیابی حاصل ہو یا ناکامی کا سامنا کرنا پڑے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اب حکومت کے لیے بہت مشکل صورتحال بن چکی ہے۔ طلعت حسین کے خیال میں وزیر اعظم عمران کی طرف سے یہ اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا فیصلہ ایک سیاسی جوا ہے، جس کا مقصد سینیٹ میں ہونے والی شکست کے دھچکے کے اثرات کو کم کرنا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اب حکومت سینیٹ میں عبدالحفیظ شیخ کی شکست کو بھی الیکشن کمیشن میں چیلنج نہیں کرے گی۔ ان کے مطابق اگر وزیر اعظم اعتماد کا ووٹ حاصل نہ کر سکے تو پھر اس کا نتیجہ ‘اِن ہاؤس‘ تبدیلی کی صورت میں نکلے گا۔‘
تاہم کچھ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر وزیراعظم عمران خان کو قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کر لینے کا یقین نہ ہوتا تو شاید وہ اسمبلی توڑنے کی آپشن کے بارے میں سوچتے اور اپنے اس فیصلے کا جواز وہ یہ پیش کرتے کہ چونکہ سینیٹ الیکشن میں اراکین پارلیمینٹ کی خریدو فروخت ہوئی ہے لہذا میں نے ایسی اسمبلی توڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ایسا ہو جانے کے بعد اپوزیشن اتحاد وزیراعظم کے خلاف اگلے چھ ماہ عدم اعتماد کی تحریک نہیں لا پائے گا اور یوں عمران خان کو مزید چھے مہینے مل جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
%d bloggers like this: