سابق ڈی جی ISI اسد درانی نے طاقتور اسٹیبلشمنٹ کو پچھاڑ دیا


پاکستان کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کو اس وقت سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا جب اسلام آباد ہائی کورٹ نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹینیٹ جنرل ریٹائیرڈ اسد درانی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا کہ درانی ایک عام شہری ہیں اور آزادی سے گھومنا ان کا بنیادی حق ہے جسے کسی ھالت میں چھینا نہیں جا سکتا۔
4 مارچ کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے انٹرسروسز انٹیلی جنس کے سابق سربراہ اسد درانی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ بظاہر ان کے خلاف نہ تو کسی قسم کا کوئی کے زیر التوا ہے اور نہ ہی کوئی انکوائری چل رہی ہے اس لئے ان کو بیرون ملک جانے سے نہیں روکا جا سکتا۔ عدالت عالیہ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے دوران سماعت ڈپٹی اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ کیا اسد درانی کا نام، انکوائری زیر التوا ہونے کی وجہ سے ای سی ایل میں ڈالا گیا تھا، کیونکہ ہم نے سارا ریکارڈ دیکھا ہے اور یہ معلوم ہوا ہے کہ اس وقت اسد درانی کے خلاف کوئی انکوائری زیر التوا نہیں، نہ ہی کوئی اور گراؤنڈ ہے جس کی بنیاد پر ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا جائے آئے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہر عام شہری کی طرح ان کے سابق تھری اسٹار جنرل ہونے کے ناطے بھی کچھ حقوق ہیں، اس پر عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے کہا کہ ای سی ایل کے لیے کوئی گراؤنڈ بتائیں، اگر کوئی گراونڈ نہیں ہے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ اس درانی کا نام ای سی ایل میں رکھا جائے۔
بعد ازاں عدالت میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل پیش ہوئے جس پر چیف جسٹس نے ان سے مکالمہ کیا کہ آپ نے کہا تھا کہ اسد درانی کا نام ای سی ایل میں اس لیے رکھا کہ ان کے خلاف انکوائری چل رہی ہے۔عدالت نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق اس وقت کوئی انکوائری نہیں چل رہی، درخواست گزار ایک تھری اسٹار جنرل (ر) ہے اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی بھی رہا ہے، مزید یہ کہ اب وہ ایک عام شہری ہے اور آزاد گھومنا ان کا حق ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت کو کھلی چھوٹ تو حاصل نہیں کہ کسی کا بھی نام ای سی ایل میں ڈال دے، اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزارت دفاع کے نمائندے کو نوٹس کرکے ان سے جواب طلب کرلیا جائے۔ان کی اس بات پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کسی کو بھی بلانے کی کوئی ضرورت نہیں، ریکارڈ کے مطابق اسد درانی کے خلاف کوئی انکوائری نہیں ہو رہی اس کیے ان کا نام ای سی ایل میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔
اسکے بعد عدالت عالیہ نے اسد درانی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیتے ہوئے سابق ڈی جی آئی ایس آئی کی درخواست نمٹا دی۔ یاد رہے کہ اس سے قبل 12 فروری 2021 کے روز سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹینینٹ جنرل (ر) اسد درانی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کی درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس محسن کیانی نے وکلا کو آگاہ کیا کہ وہ اس مقدمے کی مزید سماعت سے معذرت چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ‘میں اس کیس کا سارا بیگ گراؤنڈ جانتا ہوں اور فیصلہ لکھنے کے مرحلے میں تھا لیکن یہ افسوسناک ہے کہ اب میں اس کیس کی مزید سماعت نہیں کر سکتا۔’ جسٹس محسن اختر کیانی نے سماعت کے دوران عدالت میں موجود وکلا اور فریقین کو آگاہ کیا کہ ‘کچھ ایسی وجوہات ہیں جو بتائی نہیں جا سکتیں، میں یہ کیس چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کو بھیج رہا ہوں، وہ نیا بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ کریں گے۔’ اس واقعے کے بعد یہ خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ جسٹس محسن اختر کیانی پر طاقتور حلقوں کی جانب سے اسد درانی کا نام ای سی ایل سے نہ نکالنے کے لیے دباؤ ڈالا جارہا تھا چنانچہ جسٹس اطہر من اللہ نے یہ کیس خود سننے کا فیصلہ کیا۔
واضح رہے کہ اسد درانی نے انڈین خفیہ ادارے را کے سابق سربراہ اے ایس دلت کے ساتھ ایک کتاب لکھی تھی جس میں پاکستانی حکام کے بقول ایسا مواد بھی شامل تھا جو کہ پاکستان کی قومی سلامتی سے متعلق ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے فوج کے موجودہ سربراہ لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ پر بھی بالواسطہ طور پر تنقید کی ہے۔ وزارت دفاع کا موقف ہے کہ اسد درانی نے انڈین را کے سابق سربراہ کے ساتھ مل کر کتابیں لکھ کر آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کی بھی خلاف ورزی کی ہے اور اس جرم پر کارروائی آرمی ایکٹ کے تحت کی جاتی ہے۔ حکومت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو آرمی ایکٹ سنہ 1952 کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ درحواست گزار تو فوج میں رہے ہیں لیکن اگر کوئی سویلین بھی ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہو جس سے ملکی مفاد کو خطرہ ہو تو اس ایکٹ کے تحت اس کا بھی کورٹ مارشل ہوسکتا ہے۔
وزارت دفاع کے جواب میں ای سی ایل کے قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ اگر کوئی شخص دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہو یا اس سے قومی سلامتی کو خطرہ ہو تو وفاقی حکومت کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ اس شخص کا نام نوٹس دیے بغیر ای سی ایل میں شامل کر دے اور اسے ملک چھوڑنے کی اجازت نھیں دی جاسکتی.
وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کے خلاف تحقیقات آخری مراحل میں ہیں اور ایسے مرحلے پر ان کا نام ای سی ایل سے نھیں نکالا جاسکتا۔ وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر درخواست گزار کا ملک سے باہر جانے کا مقصد کانفرنسز، فورمز اور ٹاک شوز میں حصہ لینا ہے جس سے ملکی سلامتی کے لیے پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔‘
تاہم عدالت میں جمع کروانے گے جواب میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی نے ان تمام الزامات کو سختی سے رد کیا ہے۔ ان کا موقف تھا کہ وہ پہلے ریٹائرڈ فوجی افسر نہیں ہیں جس نے کہ کتاب لکھی ہے اور ماضی میں بھی ایسی کتابیں لکھنے والے ریٹائرڈ فوجی حضرات نے کسی سے کوئی کلیئرنس حاصل نہیں کی تھی۔ اس سے پہلے بی بی سی سے ایک انٹرویو میں اسد درانی نے کہا تھا کہ ‘جب تک کسی کتاب میں تنازع نہ ہو تو پھر فائدہ کیا ہے؟ وہ تو پھر ایک سرکاری قسم کی تحریر ہو گی جو آپ آئی ایس پی آر سے لے لیں یا سرکار سے لے لیں۔ تنازع تو آپ کو پیدا کرنا ہوتا ہے تاکہ بحث ہو سکے.
ریاست کے راز افشا کرنے کے الزامات کے جواب میں انھوں نے کہا تھا کہ ‘اس حوالے سے شور تو بہت مچایا گیا ہے لیکن کسی نے آج تک انہیں یہ نہیں بتایا کہ اس کتاب میں ریاست سے منسلک کون سے راز تھے۔ انکا کہنا تھا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت لوگوں پر مقدمہ چلانا سب سے آسان کام ہے۔ جتنی باتیں راز تھیں وہ بھی آہستہ آہستہ کسی نے اِدھر سے بتا دیں، کسی نے اُدھر سے، تو رازداری کی تو اب کوئی بات باقی نھیں ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ کتاب لکھ کر میں نے کسی کی کمزوری کو ظاہر کر دیا ہے یا کسی کی دُم پر پاؤں رکھ دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ فوج میں کئی لوگوں نے اپنی کتابیں لکھیں اور کسی نے ان سے نھیں پوچھا کہ انھوں نے کیا لکھا ہے اور کیوں لکھا۔’
یاد رہے کہ جنرل اسد درانی کو 90 کی دہائی میں فوج سے بے دخل کیا گیا تھا جب انہوں نے یہ الزام سپریم کورٹ میں تسلیم کیا تھا کہ 1990 کے الیکشن سے پہلے انہوں نے آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ کے کہنے پر بے نظیر ھٹو کے مخالف سیاستدانوں میں کروڑوں روپے تقسیم کیے تھے تاکہ نواز شریف کی زیر قیادت اسلامی جمہوری اتحاد کو کامیاب کروایا جا سکے۔ اس معاملے کو اصغر خان کیس کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی تھی تاکہ کہ یہ رقم تقسیم کرنے والوں کے خلاف قانونی کاروائی ہو سکے۔ اصغر خان کیس میں ان کا نام آنے کے بعد اسد درانی کو آئی ایس آئی سے جی ایچ کیو بلوا لیا گیا تھا اور پھر جب دوبارہ یہ الزام سامنے آیا کہ وہ اب بھی سیاسی امور میں مداخلت کر رہے ہیں تو انھیں قبل از وقت ریٹائر کر دیا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
%d bloggers like this: