عمران خان اپنی شکست کا ملبہ الیکشن کمیشن پر مت ڈالیں


مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ عمران خان کی تقریر ایک ہارے ہوئے شخص کی تقریر ہے،’عمران خان اپنی شکست کا الزام جس الیکشن کمیشن پر لگا رہے ہیں یہ انہی کا نامزد کردہ ہے۔‘ وہ اپنی شکست کا ملبہ الیکشن کمیشن پر مت ڈالیں.
جمعرات کو وزیراعظم کے قوم سے خطاب کے بعد اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے ہمراہ پریس کانفرنس میں ردعمل دیتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اداروں کے سربراہوں کو ہارے ہوئے عمران خان سے ایسے وقت میں ملاقات نہیں کرنی چاہیے تھی۔مریم نواز اور بلاول بھٹو نے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کی فتح کو پوری قوم، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اور پاکستان کے عوام نے جشن منایا۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عوام کے اندر اس سلیکٹڈ کے خلاف سخت نفرت ہے اور پی ڈی ایم کے بارے میں کہتے تھے کہ یہ ناکام ہوگئی لیکن پی ڈی ایم نے ان کو دن میں تارے دکھائے ہیں اور ان کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پورا ملک جشن منا رہے ہیں اور خوشی میں پی ڈی ایم کے ساتھ ہیں کیونکہ ہم نے مل کر عمران خان کو ہرایا اور اب ان کا اپنا صدر کہہ رہا ہے کہ وزیراعظم اسمبلی میں اعتماد کھو چکا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی تقریر سے لگتا ہے کہ اب ووہ گھبرا چکے ہیں اوران کو پتہ ہے کہ ان کا وقت ختم ہونے والا ہے اور مستقبل پی ڈی ایم اور جمہوریت کا ہے اور ہمیشہ کے لیے ہم سیاست سے ان کٹھ پتلیوں کو ختم کردیں گے۔
مریم نواز نے وزیراعظم کے قوم سے خطاب سے متعلق سوال پر کہا کہ میں نے وہ تقریری نہیں سنی لیکن مجھے بتایا گیا کہ وہ ایک ہارے ہوئے شخص کی تقریر تھی اور ان کے کانوں سے دھواں نکل رہا اور الفاظ ان کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن پر تنقید کر رہے ہیں حالانکہ ای سی پی چیئرمین کو خود انہوں نے مقرر کیا تھا اور جب ڈسکہ میں 20 پریزائیڈنگ افسران کو اغوا کیا اور دھاندلی ہوئی تو انہوں نے دباؤ سے باہر نکل کر آئین اور قانون پر مبنی فیصلے دیے ہیں چاہے وہ آپ کے خلاف ہیں تواس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اداروں پر دباؤ ڈالیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یاد رکھیں یہ وہی الیکشن کمیشن ہے جہاں فارن فنڈنگ کیس پر پردہ ڈالے رکھا اور اپوزیشن خصوصاً مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی کو نااہل قرار دلوایا اور دباؤ ڈال کر اپنے اراکین کو بچالیا حالانکہ ان اراکین واضح چیزیں عوام کے سامنے آچکی ہیں۔
صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ ہم نہیں سمجھتے یہ لڑائی ایک دن کی نہیں یا پاکستان کے حالات یکدم بدل جائیں گے اور ایک سوئچ سے جمہوریت بحال ہوگی لیکن ہم نے مل کر ضمنی انتخاب لڑا اور اس طرح تھوڑا حصہ مل گیا اور آہستہ آہسہ عوام کے لیے جگہ حاصل کرنا پڑے گا۔
مریم نواز نے کہا کہ عمران خان کے لیے تو یہ اچھا تھا کہ وہ سلیکٹرز کا نام بھی لے اور ان کو استعمال کرکے عوام، اداروں، اراکین اسمبلی کو دباؤ میں رکھے، اس لیے عمران خان کی نااہلی سے اداروں پر اثر ڈالا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں سمجھتی ہوں کہ جب عمران خان ناکام ہوا اور ان کو شکست ہوئی تو اداروں کے سربراہوں کو اس کے ساتھ بیٹھ کر یہ ملاقات نہیں کرنی چاہیے تھی، قومی سلامتی یا کوئی مسئلہ ہوتا ہے تو مل کر بیٹھتے ہیں لیکن اس سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ قوم دیکھ رہی ہے وہ آپ کے چہرے دکھا کر آپ کو استعمال کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ابھی صفحہ ہوا سے ہلا تو لوگوں نے ڈرنا اور دباؤ میں آنا چھوڑ دیا ہے، اگر یہ پیچھے نہیں ہٹے تو انہیں ہٹنا چاہیے، اپنے آئینی اور قانونی دائرہ کار تک محدود ہونا چاہیے اور یہی ساری سیاسی جماعتوں کی کوشش ہے۔
نائب صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں ان کی عزت کریں اور اداروں کے وقار پر کوئی داغ نہ لگے، ہم اس سے بچانا چاہتے ہیں لیکن انہیں خود بھی احساس کرنا ہوگا کہ ایک ہارے ہوئے شخص جس کو 22 کروڑ عوام مجرم سمجھتی ہے، اس کے پیچھے کھڑے ہوئے نظر نہیں آنا چاہیے۔
ایک سوال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان سمجھتا ہے کہ ڈراما بازی کرکے وہ اس معاملے کو دبا سکیں گے لیکن اب پی ڈی ایم اور 11 جماعتیں فیصلہ کریں گی کہ عدم اعتماد کب لانا ہے اور ہم جانتے ہیں چند لوگ حکومت کے ساتھ ہیں لیکن ان کے دل ہمارے ساتھ ہیں اور جب انہیں کال دیں گے تو وہ ہمارے ساتھ مل لیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ قومی ٹی وی پر آکر الزام لگانا کافی نہیں ہے بلکہ اس پر کارروائی کریں اور الیکشن کمیشن کو بتادیں تاکہ وہ کارروائی کرے لیکن سچ یہ ہے کہ عمران خان جانتا ہے کہ یہ اراکین ضمیر کے مطابق ووٹ دیا ہے۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کو بکاؤ کہتے ہیں ان سے اعتماد کا ووٹ کیسے مانگ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پیسے کا جو الزام لگا رہے ہیں تو عوام کے ٹیکس کے پیسے 50 کروڑ کے فنڈز اور رشوت دینے کی کوشش کی تاکہ وہ ڈوبتی ہوئی کشتی سے چھلانگ نہ لگائیں تو کیا وہ پیسہ نہیں تھا اور جن کو پیسے دینے کا وعدہ ہوا ہے تو آپ سرکاری خزانے سے پیسہ کیوں دے رہے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
%d bloggers like this: