فوج سیاست چھوڑ کر سرحدوں کی حفاظت کرے


پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ فوج کا کام پولنگ اسٹیشن پر قبضے کرنا نہیں، انھیں عوامی مینڈیٹ چوری کرنے کی بجائے سرحدوں کی حفظت کی ذمہداری ادا کرنی چاہیے. انھوں نے مزید کہا کہ عمران خان ایوان میں اکثریت کھوچکے ،فوری مستعفی ہوجائیں، اب جو مرضی کہیں کہ اعتماد کا ووٹ لینا ہے، وزیراعظم کے منصب پر رہنے کا کوئی جواز نہیں، فوری مستعفی ہوں تاکہ مہنگائی کی چکی میں پسنے والی عوام سکھ کا سانس لے سکے۔
نواز شریف نے پارٹی کے جنرل کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج اپنے باوفا اور دیرینہ دوست مشاہداللہ کی وفات پر بڑا رنجیدہ ہوں جنہوں نے بڑی بہادری اور جرات کے ساتھ جمہوریت کا الم اٹھائے رکھا ، وہ مجھے ہر ہفتے اڈیالہ جیل میں ملتے تھے، ان کے کچھ اشعار مجھے آج بھی یاد ہیں، ہم ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، ایسے انمول ساتھی نصیب سے ملتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اللہ پاک ان کے گھر والوں کو صبرجمیل عطا فرمائے،حمزہ شہبازشریف کو بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں جنہوں نے جرات اور بہادری کے ساتھ جھوٹے مقدمات میں جیل کاٹی۔ موجودہ حکومت نے جو ظلم شہبازشریف اور خواجہ آصف پر ڈھایا ہے، ہمارے کارکنوں اور قائدین پر ڈھایا ہے، جس جرات سے اس جبرظلم کا مقابلہ کیا، قید وبند کی سختیاں برداشت کرتے ہوئے کارکنان کا اپنے نظریے کے ساتھ جڑے رہنا کوئی معمولی بات نہیں، نظریے پر کھڑے رہنے والوں کو دل کی گہرائیوں سے سلام پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں یوسف رضا گیلانی کی فتح پر ان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور ان کی فتح اس بات کی عکاس ہے کہ موجودہ حکومت اور عمران خان ایوان میں اکثریت کھوچکے ہیں، اب جو مرضی کہیں کہ اعتماد کا ووٹ لینا ہے، وہ کراچی سے خیبرتک اوربلوچستان کے میدان میں بھی ہار چکے ہیں وہ ایوان اور عوام میں ہارچکے ہیں، عمران خان کے پاس وزیراعظم کے منصب پر ایک لمحہ بھی رہنے کا جواز نہیں، انہیں فوری مستعفی ہوجانا چاہیے تاکہ اڑھائی سال سے غربت اور مہنگائی کی چکی میں پسنے والی عوام سکھ کا سانس لے سکے۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کو توڑنے کی کوششیں مشرف کے زمانے میں بھی ہوئیں، مشرف کا ظلم جبر ہمیں نہیں توڑسکا؟نہیں توڑسکا، بلکہ ہم 2013ء میں پہلے سے زیادہ عزم کے ساتھ آئے اور پاکستان کو ایشیائی ممالک میں معاشی قوت بنا دیا، جی ٹونٹی میں شامل ہونے کیلئے تیزی کے ساتھ سفر شروع کیا، پاکستان میں لوڈشیڈنگ کے اندھیرے ختم کیے، سڑکوں کا جال بچھایا، کراچی کی روشنیاں بحال کیں، دہشتگردی ختم کی، افسوس اس بات ہے ترقی خوشحالی کی راہ پر چلتے ملک پر تباہی بربادی کی دلدل میں پھینک دیا گیا کہ کچھ لوگوں کو نوازشریف اچھا نہیں لگتا، اسی بغض کی وجہ سے انتخابات چرائے اور سلیکٹڈ کو وزیراعظم کی کرسی پر بٹھا دیا۔
اس نے جو ملک کا حال کیا وہ سب کے سامنے ہے، اس اجلاس کو بلانے کا مقصد دادا دینا ہے پہلے مرحلے میں آپ کامیاب ہوچکے ہوں، مسلم لیگ ن کے پلیٹ فورم سے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگا ، ن لیگ اس نعرے کی امین ہے، عوام کے دلوں میں یہ نعرہ گھر چکا ہے، حکومت عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہوچکی ہے، دھاندلی کی پیداوار سلیکٹڈ حکومت نے ڈسکہ میں دھاندلی کی کاروائی کی جو آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے، جہاں پی اوز کو اغواء کیا، ووٹرز کی شرح 35 فیصد زیادہ کی گئی۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ بہادر جانثار کارکنوں اور رانا ثناء اللہ نے شدید دھند میں ان کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ پوری قوم جان چکی 2018ء کے انتخابات کو بھی اسی طرح چوری کیا گیا۔ چند آئین شکنوں نے فیصلہ کیا ایسے مہرے کو جتوانا ہے جس سے وہ اپنی مرضی کی چالیں چل سکیں۔ ایک نااہل اور ناتجربہ کار مہرے کو قوم کے سروں پر مسلط کردیا گیا، آج 22 کروڑ عوام ان سے پوچھ رہی ہے کیوں ترقی کرتے پاکستان کو پیچھے کیا گیا، خوشحالی کا پہیہ کیوں جام کیا گیا؟ کیوں ان کے بچوں کو فاقوں پر مجبور کیا گیا؟ غربت مہنگائی، بے روزگاری اور گربت کی کھائی میں پھینکا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
%d bloggers like this: