پارلیمنٹ میں موجود خواتین کی کارکردگی مردوں سے بہتر


موجودہ پارلیمنٹ میں خواتین کا تناسب صرف 20 فیصد ہونے کے باوجود اسمبلیوں میں انکی کارکردگی 80 فیصد مرد اراکین سے بہت بہتر ثابت ہوئی ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق خواتین ممبران پارلیمنٹ نے گھریلو تشدد کی روک تھام، جنسی ہراسانی اور خواتین مخالف سرگرمیوں کو رکوانے، تیزاب پھینکنے اور ان جیسے دیگر معاشرتی مسائل کے خاتمے کے لیے قوانین منظور کروانے میں بھرپور کردار ادا کیا ہے۔
اسی طرح پاکستان میں آبادی کے اعتبار سے چھوٹے صوبوں یعنی خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے قومی اسمبلی، سینیٹ اور دونوں صوبائی اسمبلیوں میں موجود خواتین کی کارکردگی باقی صوبوں کی خواتین کی نسبت بہتر رہی ہے اور ان دونوں اسمبلیوں میں خواتین بہت موئثر طریقے سے اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ وفاق میں قومی اسمبلی کے پہلے سال کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو فافن کی رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں یعنی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش کردہ نجی بلوں کا 53 فیصد (یعنی 74 میں سے 39)، قراردادوں کا 27 فیصد (یعنی 100 میں سے 27) توجہ دلاؤ نوٹسوں کا 47 فیصد (یعنی 108 میں سے 51)، اور سوالات کا 32 فیصد (یعنی 1772 میں سے 561) خواتین ارکان کی جانب سے پیش کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ موجودہ پارلیمنٹ میں خواتین کا تناسب 20 فیصد ہے جن میں 69 ارکان قومی اسمبلی اور 20 ارکان سینیٹ شامل ہیں۔
موجودہ قومی اسمبلی میں بھی خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والی ارکان اسمبلی نفیسہ خٹک، شاندانہ گلزار، شاہدہ اختر علی اور طاہرہ بخاری نمایاں کارکردگی دکھانے والوں میں شامل ہیں۔
بلوچستان سے زبیدہ جلال، عالیہ کامران اور روبینہ عرفان قومی اسمبلی میں فعال نظر آتی ہیں جبکہ زبیدہ جلال تو دوسری مرتبہ وفاقی کابینہ کا حصہ ہیں۔
یاد رہے کہ قیام پاکستان کے ساتھ ہی خواتین ارکان نے مقننہ اور اسمبلیوں میں سیاسی شمولیت کا مطالبہ کرتے ہوئے آئین ساز اسمبلی میں پانچ فیصد مخصوص کوٹہ کی تجویز سامنے رکھ دی تھی۔ اسی مطالبے کی بنیاد پر 1956 کے آئین میں خواتین کےلیے 10 نشستیں مخصوص کی گئیں لیکن اس کو عملی شکل نہ مل سکی کیوں کہ انتخابات ہی نہیں ہوئے۔ 1962کے آئین میں خواتین کےلیے بالواسطہ انتخاب کے ذریعے چھ نشستیں مخصوص کی گئیں۔ 1973 کے آئین میں ایک بار پھر بالواسطہ انتخاب کے ذریعے ہی قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین کےلیے پانچ فیصد نشستیں مخصوص کی گئیں۔ 1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں خواتین کےلیے قومی اسمبلی کی 20 نشستیں مخصوص تھیں۔ تاہم 1988 کی منتخب اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد اگلے 12 سال تک خواتین کےلیے کوئی نشست مخصوص نہیں کی گئی تھی۔
2002 میں پرویز مشرف دور۔میں الیکشن ہوئے تو خواتین کو قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں 17 فیصد نمائندگی دی گئی۔ جس کے نتیجے میں سینیٹ میں 17، قومی اسمبلی میں 60، پنجاب میں 66، سندھ میں 24، خیبر پختونخوا میں 26 اور بلوچستان میں 11 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص کی گئیں۔ یوں جنرل الیکشن میں براہ راست حاصل کی گئی نشستوں کے تناسب سے سیاسی جماعتوں میں خواتین کی تقسیم کر دی جاتی ہیں۔ اسی فارمولے کے تحت 2018 کے عام انتخابات کے نتیجے میں قومی اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت تحریک انصاف کو 28 نشستیں ملیں۔ مسلم لیگ ن کو 16، پیپلز پارٹی کو نو اور متحدہ مجلس عمل کو خواتین کی دو نشستیں ملیں۔ بلوچستان عوامی پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس، متحدہ قومی موومنٹ اور مسلم لیگ (ق) کو ایک ایک نشست حاصل ہوئی۔اس کے علاوہ آٹھ خواتین پنجاب، سندھ اور بلوچستان سے براہ راست انتخابات میں حصہ لے کر قومی اسمبلی میں پہنچی ہیں۔
دی وومن موومنٹ ان پاکستان نامی کتاب کی مصنفہ اسکالر عائشہ خان کا کہنا ہے کہ اسمبلیوں میں خواتین، مردوں کی نسبت زیادہ باقاعدگی کے ساتھ پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں حصہ لیتی ہیں۔ قانون سازی کے میدان میں ان کی کارکردگی ان کے تناسب کے مقابلے میں زیادہ رہی ہے۔ ان خواتین نے نجی ارکان کے تقریباً نصف بل اور ایک تہائی قراردادیں پیش کیں۔ قانون سازی کے میدان میں خواتین کی یہ کارکردگی بلاشبہ ان کی کامیابی ہے حالانکہ مرد ارکان انہیں سنجیدگی سے نہیں لیتے اور انہیں آزادانہ حیثیت میں مالی وسائل کی کمی درپیش رہتی ہے۔ اسکے علاوہ پارٹی کی طرف سے انہیں بھرپور مدد نہیں ملتی اور بعض اوقات تو کھلم کھلا امتیاز اور ہراسانی کے واقعات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔
سماجی کارکن ثناء گلزار کا کہنا ہے کہ خواتین ارکان پارلیمنٹ نے گھریلو تشدد کی روک تھام، جنسی ہراسانی، خواتین مخالف سرگرمیوں کو رکوانے، تیزاب کے جرائم، ہندو شادی، شادی کےلیے یکساں عمر کے تعین کے قوانین منظور کرانے کے لیے بھرپور طریقے سے کام کیا ہے۔ بیشتر صورتوں میں خواتین نے یہ بل نجی ارکان کے طور پر پیش کیے، کیوں کہ ان کی جماعتیں ان پر جوابی ردعمل کے ڈر کے مارے ان کی کھلم کھلا حمایت نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ یوں مختلف جماعتوں کی خواتین ارکان کی یکجہتی کی بدولت وہ یہ بل منظور کرانے میں کامیاب رہیں۔
خیبر پختون خواہ سے اس وقت سینیٹ میں تین خواتین موجود ہیں جن میں سے دو کا تعلق پیپلز پارٹی جب کہ ایک کا تعلق تحریک انصاف سے ہے۔ اگرچہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں خواتین ارکان کی بلحاظ صوبہ کارکردگی کا کوئی ریکارڈ مرتب نہیں کیا جاتا لیکن انفرادی کارکردگی کی بنیاد پر خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والی کئی خواتین ارکان نمایاں نظر آتی ہیں۔
سینیٹر مہر تاج روغانی اپنے وسیع تجربے کی بنیاد پر جمہوریت، پارلیمانی روایات، انصاف اور تعلیم کے شعبے پر ہونے والے مباحثوں میں بھرپور حصہ لیتی ہیں۔ سیاسی معاملات اور گورننس کے امور میں پی پی پی کی سینیٹر روبینہ خالد پر اپوزیشن جماعتیں بھی انحصار کرتی ہیں۔ اسی طرح قومی اسمبلی میں خیبر پختونخوا سے خواتین کے لیے مخصوص نشستوں پر آٹھ ایم این اے منتخب ہوئیں جن میں سے چھ کا تعلق تحریک انصاف سے ہے۔ ایک ایک رکن ن لیگ اور جمعیت علمائے اسلام سے ہیں۔
قومی اسمبلی میں شازیہ مری، نفیسہ شاہ، ساجدہ بیگم، شاہدہ اختر علی اور شاندانہ گلزار کی کارکردگی نمایاں ہے۔ اسی طرح شاہدہ اختر علی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی متحرک ترین رکن سمجھی جاتی ہیں۔ نفیسہ خٹک سماجی مسائل پر سوالات، توجہ دلاؤ نوٹسز اور تحاریک پیش کرتی ہیں جب کہ شاندانہ گلزار پارلیمانی سیکرٹری برائے تجارت ہونے کی حیثیت سے ایوان میں حکومت کی جانب سے بڑی موثر آواز سمجھی جاتی ہیں۔
2019 میں شاندانہ گلزار دولت مشترکہ کی خواتین پارلیمنٹیرینز کی تنظیم کی صدر بھی منتخب ہوئی تھیں۔
خیبر پختونخوا صوبائی اسمبلی میں خواتین ارکان کی تعداد 27 ہے جن میں ایک براہ راست منتخب ہوکر ایوان میں پہنچیں جب کہ 26 مخصوصی نشستوں پر آیی ہیں۔ ان 27 میں سے دس خواتین ایسی ہیں جو پہلی بار اسمبلی میں آئیں اور ماضی میں بلدیاتی نظام کا حصہ رہ چکی ہیں۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کی اپنی رپورٹ کے مطابق اس وقت مجموعی طور پر اگرچہ جماعت اسلامی کے رکن عنایت اللہ خان پارلیمانی کارکردگی میں سب سے آگے ہیں لیکن ان کے بعد عوامی نیشنل پارٹی کی شگفتہ ملک، جماعت اسلامی کی حمیرا خاتون اور جمعیت علمائے اسلامی کی نعیمہ کشور کارکردگی میں مرد ارکان سے بہت آگے ہیں۔
گزشتہ کئی اسمبلیوں کی کوریج کرنے والے پشاور کے سینئیر صحافی عامر شہزاد کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کی موجودہ صوبائی اسمبلی میں سب سے متحرک خواتین ایوان میں موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایوان میں سب سے زیادہ حاضری بھی خواتین کی ہوتی ہے۔ کورم کی کمی بھی خواتین ہی پوری کرتی ہیں۔ اگر سابق تین اسمبلیوں سے موازیہ کیا جائے تو موجودہ خیبر پختونخواہ اسمبلی سب سے بہتر ہے۔ قانون سازی، توجہ دلاؤ نوٹس، بچوں اور خواتین کے مسائل پر تو یہ خواتین ہمیشہ کھڑی ہوتی ہیں۔
سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اس وقت بلوچستان سے چار چار ارکان موجود ہیں جن میں ایک حال ہی میں وفات پانے والی سینیٹر کلثوم پروین کی جگہ پر آئی ہیں۔ سینیٹر کلثوم پروین اپنی کارکردگی کی وجہ سے مسلسل تین مرتبہ سینیٹ کی رکن منتخب ہوئی تھیں۔ وہ بلوچستان کے مسائل کے علاوہ ملکی سیاسی امور پر بھی کھل کر بات کرتی تھیں۔ انکے علاوہ سینیٹ میں موجودہ بلوچ خواتین ارکان کی کارکردگی اس لحاظ سے تو بہتر ہے کہ وہ سوالات اور تحاریک کی صورت میں پارلیمانی بزنس کا حصہ بنتی ہیں لیکن سینیٹ مباحثوں میں وہ اتنی فعال نظر نہیں آتیں۔ اس کے برعکس قومی اسمبلی میں جمعیت علمائے اسلام ف کی عالیہ کامران ایوان میں سب سے زیادہ حاضر رہنے والی خواتین میں شمار ہوتی ہیں جن کی حاضری گزشتہ دور حکومت میں سو فیصد تھی جب کہ وہ اب بھی پابندی کے ساتھ اجلاسوں میں شرکت کرتی ہیں۔ وہ سوالات، قانون سازی، توجہ دلاؤ نوٹسز اور قرار دادیں پیش کرنے میں بھی سب سے آگے رہتی ہیں۔
بلوچستان عوامی پارٹی کی روبینہ عرفان بھی ایوان میں کافی متحرک رکن ہیں۔ وہ مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر 2002 میں رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئی تھیں اور سال 2015 تک سینیٹر بھی رہ چکی ہیں۔ منورہ منیر بلوچ بلدیاتی سیٹ اپ میں رہنے کی وجہ سے عوام کے بنیادی مسائل سے آگاہی رکھتی ہیں اسی وجہ سے ایوان میں اس سے متعلق آواز اٹھاتی رہتی ہیں۔
بلوچستان اسمبلی میں خواتین ارکان کی تعداد 11 ہے۔ جن میں سب سے زیادہ چار خواتین ارکان کا تعلق حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی سے ہے۔ بی این پی اور جے یو آئی کی دو دو، تحریک انصاف، اے این پی اور بی این پی کی ایک ایک خاتون رکن مخصوص نشستوں پر اسمبلی میں نمائندگی کر رہی ہیں۔
بی اے پی کی ڈاکٹر ربابہ بلیدی، صوبائی پارلیمانی سیکریٹری بشریٰ رند اور اپوزیشن جماعت بی این پی کی شکیلہ نوید دہوار صوبائی اسمبلی میں سب سے فعال خواتین ارکان ہیں۔ تینوں ممبران نہ صرف ہر اسمبلی اجلاس میں شریک ہوتی ہیں بلکہ قانون سازی اور اسمبلی میں ہونے والے مباحثوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں۔
ڈاکٹر ربابہ بلیدی وومن کاکس کی چیئر پرسن بھی ہیں انہوں نے کئی بلز بھی اسمبلی سے منظور کرائے ہیں۔ تاہم بلوچستان کی صوبائی کابینہ میں بھی کوئی خاتون رکن شامل نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close