تائیوان میں لوگ اپنا نام کیوں تبدیل کروا رہے ہیں؟

تائیوان میں ایک دم نام تبدیل کروانے کا کلچر پروان چڑھنے سے حکام بھی پریشانی میں مبتلا ہو گئے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق تائیوان میں چند روز کے دوران اب تک 150 لوگ اپنا نام تبدیل کروا چکے ہیں اور ان میں سے اکثریت نوجوانوں کی ہے۔ تائیوان میں حکومت کی جانب سے اجازت ہے کہ کوئی بھی فرد اپنا نام تین مرتبہ تبدیل کروا سکتا ہے اور آج کل وہاں لوگ اپنے نام میں ’سیلمون‘ کا اضافہ کرنے کے رجحان میں مبتلا ہیں۔ نوجوانوں کی جانب سے اپنا نام تبدیل کروانے کی وجہ وہاں ایک ریسٹورینٹ کی جانب سے نکالی جانے والی پروموشن ہے جس کے مطابق جس کسی کے شناختی کارڈ کے نام میں سیلمون (چائنیز میں گوئی یو) ہوگا تو وہ اپنے پانچ دوستوں کے ساتھ سوشی (جاپان کی مشہور ڈش) مفت کھا سکتا ہے۔ نام کی تبدیلی کے اس رجحان کے خلاف تائیوان کے اعلیٰ حکام کی جانب سے ایک درخواست دائر کی گئی ہے جب کہ تائیوان کے نائب وزیر داخلہ کا کہنا ہے اس طرح نام کی تبدیلی ناصرف وقت کا ضیاع بلکہ پیپر ورک کا بھی نقصان ہے، مجھے امید ہے کہ ہر کوئی اس حوالے سے سوچ بچار کرے گا۔ ایک طالبعلم نے اس حوالے سے بتایا کہ اس نے اپنا نام اس پروموشن سے فائدہ اٹھانے کےلیے تبدیل کیا اور اس پروموشن کے ذریعے اس نے 235 ڈالر کا فائدہ اٹھایا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق تائیوان میں لوگ اپنے نام سیلمون پرنس، میٹیور سیلمون کنگ اور سیلمون فرائیڈ رائس رکھ رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close