میڈم نورجہاں نے ایوب خان کو کس بات پر چیلنج کیا؟

لیجنڈری گلوکارہ نورجہاں اس قدر دبنگ خاتون تھیں کہ پچاس کے عشرے میں انہوں نے فیص احمد فیض کی مشہور زمانہ نظم ‘مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ’ گانے سے منع کرنے پر فوجی آمر ایوب خان کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں اس سے زیادہ غصیلی اور سخت مزاج ہوں، بالآخر سرکاری مشینری کو ہار ماننا پڑی اور نورجہاں نے لہک لہک یہ نظم گائی۔
یہ 1950ء کی دہائی کی بات ہے جب پنجاب یونیورسٹی میں چندہ جمع کرنے کےلیے ایک محفل موسیقی کا انعقاد کیا گیا تھا۔ یہ جنرل ایوب خان کے اقتدار کا زمانہ تھا۔ میڈم نور جہاں نے یونیورسٹی انتظامیہ کو ان گیتوں کی فہرست دی جو وہ اس محفل میں گانے جا رہی تھیں۔ ان گیتوں میں ’مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ‘ بھی شامل تھا۔ فیض کے اس باغیانہ گیت کو ایوب خان کے دور اقتدار میں گانا اس کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے نورجہاں کو کہا گیا کہ وہ یہ گیت نہیں گائیں گی، جس پر نورجہاں نے کہا کہ ’اگر میں یہ گیت نہیں گاﺅں گی تو میں اس محفل میں بالکل نہیں گاﺅں گی۔‘ یونیورسٹی کے ایک آفیسر کی طرف سے نورجہاں سے کہا گیا کہ ’تم نہیں جانتیں کہ جنرل ایوب کتنا سخت ہے۔‘ اس پر نورجہاں نے کہا کہ ‘جاﺅ اور اپنے جنرل کو بتاﺅ کہ میں اس سے زیادہ سخت اور غصیلی ہوں۔ اگر مجھے یہ نظم گانے کی اجازت نہیں تو میں کسی طور نہیں گاﺅں گی۔’ نورجہاں جب اپنے موقف پر ڈٹ گئیں تو یونیورسٹی انتظامیہ کو پیچھے ہٹنا پڑا اور نورجہاں نے محفل میں فیض کی یہ نظم بھی گائی۔
اہم بات یہ تھی کہ یہ محفل موسیقی ریڈیو پاکستان کے ذریعے پورے پاکستان نے سنی۔ لاہور سے سینکڑوں کلومیٹر دور حیدرآباد کی جیل میں فیض احمد فیض بھی اپنے کچھ دیگر ساتھی قیدیوں کے ہمراہ نورجہاں کو اس محفل میں گاتے سن رہے تھے۔ انہیں یقین تھا کہ نورجہاں فیض کی یہ نظم نہیں گائیں گی لیکن جب نورجہاں نے یہ نظم گانی شروع کی تو وہ حیرت سے مبہوت رہ گئے اور نورجہاں کی جرأت کی داد دینے لگے۔ جب نورجہاں نے یہ نظم ختم کی تو تمام قیدیوں نے ’زندہ باد نورجہاں‘ کا نعرہ لگا دیا۔
فیض احمد فیض نورجہاں کی اس جرأت سے اس قدر متاثر ہوئے تھے کہ بعد ازاں انہوں نے ایک موقع پر کہا تھا کہ ’یہ گیت اب میرا کہاں رہا، یہ گیت اب نورجہاں کا ہو چکا ہے۔ نور جہاں کو کانوں میں رس گھولتی آواز کی وجہ سے ملکہ ترنم کا خطاب دیا گیا اور انہوں نے اپنے 5 دہائیوں سے زائد عرصے پر پھیلے کیریئر میں 10 ہزار کے قریب گیتوں اور نغموں میں سر بکھیرے۔
ملکہ ترنم نور جہاں 21 ستمبر 1926 کو متحدہ ہندوستان میں حالیہ پاکستانی صوبے پنجاب کے شہر قصور میں پیدا ہوئیں، ان کا اصل نام اللہ وسائی جب کہ نور جہاں ان کا فلمی نام تھا۔انہوں نے اپنے فنی کریئر کا آغاز 1935 میں ‘پنڈ دی کڑی’ سے کیا جب کہ قیام پاکستان کے بعد وہ اپنے شوہر شوکت حسین رضوی کے ہمراہ ممبئی سے کراچی شفٹ ہوگئیں۔ کم عمری میں شادی کرنے کے باعث وہ متحدہ ہندوستان میں اس وقت ممبئی منتقل ہوگئی تھی، تاہم قیام پاکستان کے بعد واپس اپنی دھرتی آگئیں۔ 1965 کی جنگ میں انہوں نے میرے ڈھول سپاہیا، اے وطن کے سجیلے جوانوں، ایہہ پتر ہٹاں تے نئی وکدے، او ماہی چھیل چھبیلا، یہ ہواؤں کے مسافر، رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو، میرا سوہنا شہر قصورنیں سمیت بے شمار ملی نغمے گا کر قوم اور فوج کے جوش و ولولہ میں اضافہ کیا۔نور جہاں نے مجموعی طور پر 10 ہزار سے زائد غزلیں و گیت گائے جن میں ان کا سب سے پہلا گانا مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ بے پناہ ہٹ ہوا جس نے ملکۂ ترنم کو کامیابیوں کے نئے سفر پر گامزن کر دیا۔نور جہاں بیک وقت گلوکارہ بھی تھیں اور صفِ اول کی اداکارہ بھی۔ ان کی تمام پنجابی فلمیں کلکتہ میں تیار کی گئی تھیں جبکہ 1938 میں وہ لاہور منتقل ہو گئیں۔ انہوں نے 11 خاموش فلموں میں بھی کام کیا۔ 1957 میں انہیں شاندار پرفارمنس کے باعث صدارتی ایوارڈ تمغہ امتیاز جب کہ 1965 میں تمغہ حسنِ کارکردگی سے نوازا گیا، علاوہ ازیں دیگر اعزازات بھی ان کے حصے میں آئے۔
دنیا بھر سے پذیرائی اور مقبولیت سمیٹنے والی نور جہاں کے نصیب میں ازدواجی زندگی کا سکھ نہیں تھا۔ ان کی پہلی شادی 1942 میں فلم ساز شوکت حسین رضوی سے ہوئی جن سے ان کے تین بچے ہوئے لیکن یہ شادی 1953 میں طلاق پر ختم ہوئی۔ اسی طرح وہ دوسری مرتبہ اعجاز درانی سے 1959 میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں، جن سے بھی ان کی تین اولادیں ہوئیں تاہم اس رشتے کا اختتام بھی طلاق پر ہی ہوا۔ ملکہ ترنم کو 1965 میں تمغہءِ حسنِ کارکردگی سے نوازا گیا اور کئی دیگر اعزازات بھی ان کے حصے میں آئے۔ سریلی آواز اور خداداد صلاحیتوں کی مالک ‘ملکہءِ ترنم دل کے عارضے میں مبتلا ہو کر 23 دسمبر 2000 کو اس دارِ فانی سے کوچ کر گئیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close