شوبز کی دنیا ہوس کے پجاریوں سے بھری پڑی ہے


معروف پاکستانی اداکارہ صبا بخاری نے انکشاف کیا ہے کہ شوبز کی دنیا ہوس کے پجاریوں سے بھری پڑی ہے اور انہیں ڈراموں میں کام کے بدلے جنسی تعلق قائم کرنے کے لیے مجبور کیا گیا۔ انکا کہنا ہے کہ انکی جانب سے انکار کرنے پر بہت سارے پراجیکٹ کوئی وجہ بتائے بغیر ان سے واپس لے لیے گے۔
عالمی سطح پر جب سے جنسی ہراسانی کے خلاف مہم ’می ٹو‘ شروع ہوئی ہے تب سے بہت ساری خواتین بالخصوص شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی اداکاراؤں نے اپنے ساتھ ہونے والی جنسی ہراسانی پر کھل کر بات کرنے کی ہمت کی ہے۔ ان ہی میں سے ایک اداکارہ صبا بخاری بھی ہیں۔ صبا نے سوشل میڈیا پر شوبز انڈسٹری میں کام ملنے سے قبل پیش آنے والی بے شمار دشواریوں کو بیان کیا۔ صبا بخاری نے بتایا کہ جب وہ شوبز انڈسٹری میں کام لینے جاتی تھیں تو یہ کہہ کر انکی حوصلہ شکنی کی جاتی تھی کہ تم میں اتنا کانفیڈنس تو ہے نہیں کہ تم اس فیلڈ میں آگے جا سکو۔ مسئلہ یہ ہے کہ تم ایک اچھی لڑکی ہو اور اس فیلڈ میں اچھی لڑکیاں نہیں چل پاتیں۔ صبا کے مطابق انہیں کہا جاتا تھا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کسی نے تمہارے ساتھ کچھ غلط کرنے کی کوشش نہ کی ہو۔ ویسے بھی ہم تم جیسی شریف لڑکی کو کام اور پیسے کیوں دیں جب کہ یہاں لڑکیاں کام کے لیے نازیبا کام کرنے کو تیار ہیں۔
یہ وہ جملے ہیں جو صبا بخاری کو تب سننے کو ملے جب وہ مختلف لوگوں کے پاس کام لینے جاتی تھیں۔ انہوں نے کسی کا نام تو نہیں لیا تاہم صرف اتنا کہا کہ مختلف ڈائریکٹرز کی جانب سے ادا کردہ ان جملوں نے نہ صرف انہیں اندر سے توڑ کر رکھ دیا بلکہ ان کے خواب بھی چکنا چور کردئیے۔
سنہ 2013 سے شوبز سے وابستہ اداکارہ صبا بخاری نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ انہیں بچپن سے اداکاری کا شوق تھا۔ انہوں نے ایف اے تک تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد شوبز فیلڈ سے وابستہ ہوگئیں۔ انہوں نے ڈراموں کے کسی تخلیق کار یا ہدایتکار پر براہ راست جنسی ہراسانی کے الزامات نہیں لگائے مگر وہ اس بات پر قائم ہیں کہ ان سمیت کئی لڑکیوں کو اس قسم کی پیشکش کی گئی اور بعض نے تو یہ ‘غلط قدم اٹھا کر پچھتاوا بھی سہا ہے۔ 2013 میں صبا کافی کم عمر تھیں، بڑی مشکل سے انہیں ‘ہم سب امید سے ہیں’ نامی ایک ٹی وی شو میں مزاحیہ کردار نبھانے کا موقع ملا تھا۔ اس کے بعد جب ایک دوسرے پراجیکٹ کےلیے وہ پہلی مرتبہ ڈیشن کے لیے اپنی والدہ کے ساتھ ایی سٹوڈیو پہنچیں تو انہوں نے دیکھا کہ وہاں تو سب ایک سے بڑھ کر ایک چہرے تھے۔ میں تو تب تک ٹھیک طرح گروم بھی نہیں ہوئی تھی۔۔۔ جیسے شروع میں لوگ گھریلو قسم کے ہوتے ہیں، میں بھی ویسی ہی تھی لیکن چھوٹی عمر کے کردار کی مانگ کی وجہ سے میرا انتخاب کر لیا گیا۔
صبا نے بتایا کہ ان کے لیے اس شعبے میں کام کرنا کسی انہونی سے کم نہیں۔ میری جیسی لڑکی کو تو کام ملنا ہی نہیں تھا لیکن پھر بھی ملا اور میرے لیے سارے پراجیکٹ ہی ایک انہونی ہیں۔ وہ سمجھتی تھیں کہ شوبز میں اتنے بڑے ستاروں کے ساتھ کام کرنا بڑی قسمت کی بات ہوتی ہوگی۔ مگر آہستہ آہستہ ان کی نظروں میں یہ ‘چارم’ مانند پڑگیا۔ انکے مطابق شروع میں ہم سوچتے ہیں کہ پتا نہیں اتنے بڑے ناموں کے ساتھ کام کرنے کا موقع کتنا بڑا ہوگا۔ ہم اپنے ذہن میں انڈیا پہنچے ہوتے ہیں۔ لیکن اندر گھس کر بس سب بدل جاتا ہے۔ اندر بہت محنت کرنا پڑتی ہے۔ اگر آپ کے پاس پیسے یا تعلقات نہیں تو آپ تو یہ کام رہنے ہی دیں۔
لاہور سے تعلق رکھنے والی صبا اب شوبز میں کام کے بدلے جنسی تعلقات قائم کرنے کے مطالبے سے تنگ آچکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب میں چھوٹی تھی تب مجھے یہ باتیں سننے کو نہیں ملی تھیں۔ پھر میں نے خود کو گروم کیا تاکہ بڑے رول مل سکیں۔ اب اگر کاسٹنگ ٹیم کے سامنے جاؤ تو ان کی نیت ہی کچھ اور ہو جاتی ہے۔ لہازا میرا دل بہت زیادہ ٹوٹ گیا ہے۔ اپنے کیرئیر کے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایک بار ایک پراجیکٹ کے لیے انہوں نے آڈیشن دیا اور ان کی سلیکشن بھی ہوگئی لیکن بعد میں انہیں وہ کردار نہیں دیا گیا۔ مجھے رات کے گیارہ بجے کال آئی کہ سوری ہم آپ کو ابھی نہیں رکھ رہے، اگلی بار رکھیں گے۔ میرا بہت دل ٹوٹا۔ وہ بتاتی ہیں کہ پھر اسی پروڈکشن نے ان کا دوبارہ آڈیشن لیا۔ مجھے رات کو کال آئی کہ آپ کی سلیشکن ہوگئی ہے۔۔۔ ہم آپ کو اچھا کردار دے رہے ہیں، پیسے دے رہے ہیں۔ لیکن اس کے بدلے آپ ہمیں کیا دیں گی؟۔
یہاں صبا کا اشارہ کاسٹنگ کاؤچ کی طرف ہے، یعنی فلموں یا ڈراموں میں کام کے بدلے جنسی استحصال۔ ماضی میں خواتین کے حقوق کی می ٹو موومنٹ کے دوران بھی کچھ پاکستانی فنکاروں نے شوبز میں جنسی ہراسانی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ صبا کہتی ہیں کہ میرے ذہن میں بالکل نہیں تھا کہ وہ اصل میں کیا کہہ رہے ہیں لہازا میں نے کہا کہ آپ کام کے بدلے تھوڑے پیسے رکھ لیجیے گا۔ جواب میں ان صاحب نے میرے ساتھ سونے کی ڈیمانڈ کر دی، میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی اور میں نے کال کاٹ دی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے انہیں سمجھ آ گئی کہ پہلے بھی انہیں اسی وجہ سے نہیں رکھا گیا تھا۔
ایک اور پراجیکٹ کے بارے میں صبا نے بتایا کہ اس میں بھی ان کی سلیکشن ہو گئی لیکن کام شروع نہیں ہو سکا۔ میں نے انہیں کال کرکے پوچھا کہ کام کب شروع ہو رہا ہے تو انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو جلد بتائیں گے۔ چند دن بعد مجھے ایک لڑکی کی کال آئی اور اس نے بتایا کہ میری جگہ یہ پراجیکٹ اسے دے دیا گیا ہے۔ صبا کہتی ہیں کہ اس انڈسٹری میں اگر آپ کو مشکل سے کام مل بھی جائے تو ساتھ میں کام کرنے والے سینیئر آرٹسٹس بھی بہت مسئلہ کرتے ہیں۔ مجھے ایک پراجیکٹ میں ایک سینئر اداکارہ کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا لیکن انہوں نے مجھے بہت ٹف ٹائم دیا۔ ایک بار انہوں نے مجھے سامنے بیٹھا دیکھ کر یہ بھی کہا کہ آج کل تو ذرا سا بھی چہرہ ہوتا نہیں اور منہ اٹھا کر آ جاتی ہیں۔ صبا نے بتایا کہ وہ حساس طبیعت کی مالک ہیں اور ان کے خیال میں آرٹسٹ بھی حساس طبیعت کے مالک ہوتے ہیں۔ میں نے ایک بار ایک پراجیکٹ میں ثمینہ پیرزادہ سے پوچھا کہ آرٹسٹ لوگوں کے دل تو بہت حساس ہوتے ہیں، لیکن انہوں نے کہا کہ سب ایسے نہیں ہوتے، کچھ کے دل پتھر کے بھی ہوتے ہیں اور جلد ہی مجھے اس بات کا اندازہ بھی ہوگیا۔
صبا کا کہنا ہے کہ شوبز کی دنیا کے لوگ ہوس سے بھرے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ مجھے اداکاری کا خواب نہیں دیکھنا چاہیے تھا لیکن اب میں اس فیلڈ میں آ چکی ہوں اور اس طرح کے ہوس بھرے لوگوں سے خود کو بچانا سیکھ چکی ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close