سندھ: بڑے اسپتالوں میں جان بچانے والی ادویات سمیت دیگر کی فراہمی بند

سی ایم سی ایچ کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) ڈاکٹر ارشاد کاظمی نے لاڑکانہ کے ڈپٹی کمشنر کو 19 مارچ کو ارسال کردہ ایک خط میں کہا ہے کہ اگر مرکزی میڈیسن اسٹور اور اسٹاک کا ڈپٹی کمشنر کی جانب سے معائنہ مزید تاخیر کا شکار ہوا تو چانڈکا میڈیکل کالج اسپتال (سی ایم سی ایچ) اور شیخ زید اسپتال برائے خواتین کو ادویات کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایم ایس نے نشاندہی کی کہ لاڑکانہ ڈی سی نے اسسٹنٹ کمشنر احمد علی سومرو کو انسپیکشن کمیٹی کا رکن نامزد کیا تھا جسے حکومت سندھ نے نوٹیفائی کیا تھا۔ انہوں نے ڈی سی کو مطلع کیا کہ احمد علی سومرو نے بغیر کوئی وجہ بتائے مرکزی دوا کے اسٹور پر جانے اور معائنہ کی رپورٹوں پر دستخط کرنے سے انکار کردیا ہے جس کے نتیجے میں دو اسپتالوں کے اے آر وی سینٹر، حادثے اور ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ، آپریٹنگ تھیٹرز، ڈائلیسس سینٹر، تھیلیسیمیا سینٹر، او پی ڈی اور اِن ڈور مریضوں کو جان بچانے والی ادویات سمیت دیگر جاری نہیں کی جاسکی ہیں۔ ایم ایس نے کہا کہ ادویات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو بل ادا کرنے کےلیے انسپیکشن لازمی عمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کمپنیوں کے بلوں کو کلیئر نہ کیا گیا تو وہ سپلائی بند کردیں گی اور اس کے نتیجے میں ادویات کی قلت پیدا ہوگی۔ انہوں نے خط میں مسئلے کو ’نہایت سنجیدہ‘ قرار دیا جس پر ڈی سی کے فوری ردعمل کا مطالبہ کیا گیا کیوں کہ مریضوں کی جان کو خطرہ ہے۔ ایم ایس نے خط کی کاپیاں سیکریٹری صحت، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ اور سی ایم سی ایچ چیئر پرسن، منیجمنٹ بورڈ، سندھ ہائی کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار، لاڑکانہ کمشنر اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو ارسال کیں۔ جب اے سی احمد علی سومرو سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ انہیں نہ تو نامزد کیا گیا ہے اور نہ ہی وہ انسپکشن کمیٹی کے نامزد رکن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی افسر کو اپنا نمائندہ نامزد کرنا ڈی سی کا کام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ کی جانب سے سی ایم سی اسپتال مینجمنٹ بورڈ کے قیام کے بعد جس کی سربراہی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی (ایس ایم بی بی ایم یو) لاڑکانہ کے وائس چانسلر کر رہے ہیں، سی ایم سی ایچ کے سینٹرل میڈیسن اسٹور کا دورہ اور معائنہ کرنے کا اختیار بورڈ کو ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپتال انتظامیہ بورڈ تشکیل دیے جانے کے بعد کمیٹی کا کردار ختم ہوگیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ڈی سی نے بھی ان سے ادویات کے اسٹور کا معائنہ کرنے کےلیے نہیں کہا تو وہ خود وہاں کیسے جاسکتے تھے’۔ سی ایم سی ایچ کے سینٹرل میڈیسن اسٹور کے انچارج ڈاکٹر گل شیخ نے ڈان کو بتایا کہ وارڈز اور دیگر محکموں کو سپلائی کرنے سے قبل ادویات معائنے کی منتظر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بروقت فراہمی میں تاخیر کی گئی تو قلت پیدا ہوسکتی ہے اور مریضوں کو تکلیف ہو سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close