مودی کو ہٹلر کہنے والا کپتان اب اسے یار کیوں بنانے لگا؟

مقبوضہ جموں و کشمیر کی خود مختار حیثیت ختم کرنے پر بھارتی وزیر اعظم مودی کو ہٹلر قرار دینے والے وزیر اعظم عمران خان اب ایک اور یو ٹرن لیکر مودی کی زلفوں کے اسیر ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ کپتان نے انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے یومِ پاکستان پر لکھے گے ایک تہنیتی خط کا جواب دیتے ہوئے انکا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستانی عوام بھی انڈیا کے ساتھ پرامن اور باہمی تعاون پر مبنی تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے اس خط کی تصدیق کر دی ہے۔یوں ماضی میں نواز شریف کو مودی کا یار قرار دینے والے عمران خان نے اب مودی سے یاری کی ڈالنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک تقریر میں یہ اعتراف کیا تھا کہ پاکستان کو اپنے ہمسایہ ممالک کے معاملات میں دخل اندازی کرنے کی بجائے اپنے اندرونی معاملات درست کرنے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس موقع پر بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا تھا۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے پاکستانی وزیراعظم اور آرمی چیف کے بدلے ہوئے لہجے کے پیچھے دراصل امریکہ ہے جس کے ایما پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھارت اور پاکستان کے مابین صلح کروانے کی خفیہ کوششوں میں مصروف ہیں۔ اس طرح کی اطلاعات بھی آ رہی ہیں کہ ان کوششوں کے نتیجے میں پہلی سٹیج پر پاکستان اور بھارت اپنے سفیر دونوں ملکوں میں واپس بھجوا دیں گے جن کو پچھلے برس مودی کی جانب سے کشمیر کی خود مختار حثیت ختم کرنے کے بعد واپس بلا لیا گیا تھا۔
عمران خان نے مودی کے نام اپنے خط میں لکھا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام انڈیا اور پاکستان کے درمیان تمام زیرِ التوا تنازعات کے حل سے ہی ممکن ہے جس میں خصوصی طور پر جموں و کشمیر کا تنازع شامل ہے۔ اُنھوں نے اس خط میں کووڈ 19 کی عالمی وبا کے خلاف انڈیا کے لوگوں کی کوششوں کے لیے بھی نیک تمنّاؤں کا اظہار کیا۔ واضح رہے کہ 23 مارچ کو انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان کو یومِ پاکستان کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایک پڑوسی ملک کے طور پر انڈیا پاکستان کے عوام کے ساتھ خوشگوار تعلقات چاہتا ہے۔ اسی طرح انڈیا کے صدر رام ناتھ کووند نے بھی پاکستان کے صدر عارف علوی کے نام ایک خط میں اُنھیں یوم پاکستان کے موقعے کے حساب سے مبارکباد پیش کی تھی۔
عمران خان اور نریندر مودی کے درمیان خطوط کے اس تبادلے پر مشاہد حسین سید کہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان برف تو ضرور پگھلی ہے تاہم اسے ‘بریک تھرو’ نہیں کہا جا سکتا۔ اُنھوں نے کہا کہ پہلے تو دونوں ممالک کے درمیان بات بھی نہیں ہو رہی تھی، تاہم اب بات چیت ہو رہی ہے جو نہایت محتاط اور سفارتی آداب کے مطابق ہے جس میں دونوں اطراف سے اپنے اپنے پیغام دیے گئے ہیں۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ وہ نریندر مودی کی جانب سے خط بھیجنے میں پہل کو کیسے دیکھتے ہیں تو اُن کا کہنا تھا کہ یہ ایک مثبت قدم ہے اور انڈیا علاقائی بحرانوں کی وجہ سے یہ قدم اٹھانے پر مجبور ہوا ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ سال سے لے کر اب تک انڈیا کی چین کے ساتھ لداخ میں جھڑپیں ہو چکی ہیں جبکہ نیپال کے ساتھ بھی اس کے تعلقات خراب ہیں۔ مشاہد حسین کا کہنا تھا کہ باوجود اس کے کہ یہ ایک مثبت قدم ہے، اُنھوں نے دہشتگردی کے حوالے سے انڈیا کا روایتی مؤقف پیش کیا ہے اور پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان نے بھی اپنے خط میں جواباً یہ واضح کر دیا ہے کہ پاکستان انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی آئینی حیثیت بدلنے کے انڈین اقدام کو تسلیم نہیں کرتا اور اُس کے نزدیک سازگار ماحول کسی بھی نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے ضروری ہے۔ تاہم مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ یہ بات نہایت اہم ہے کہ دونوں وزرائے اعظم کے درمیان گفتگو نہایت مہذب اور شائستہ انداز میں ہو رہی ہے جو خوش آئند بات ہے۔ اُنھوں نے دونوں وزرائے اعظم کے خط کی ایک جیسی آخری سطر کے بارے میں کہا کہ یہ سفارتی آداب ہیں کہ بھلے ہی آپس میں تلخی ہو لیکن رابطے میں شائستگی کا پہلو برقرار رکھا جائے۔
اس معاملے پر پاکستان کے سابق سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری کہتے ہیں کہ انڈیا اور پاکستان کے وزرائے اعظم کے درمیان خطوط کا تبادلہ اور لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی امن کی خواہش کی علامت ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے کیونکہ دونوں ہی ممالک کو اپنے اپنے لوگوں کی سماجی اور اقتصادی ترقی پر توجہ دینے کے لیے پرامن ماحول کی ضرورت ہے۔ اعزاز چوہدری نے مزید کہا کہ اسی دوران پاکستان نے یہ باور کروا دیا ہے کہ گفتگو کے لیے سازگار ماحول صرف مسئلہ کشمیر کے معنی خیز حل کی صورت میں بن سکتا ہے۔
نریندر مودی اور عمران خان کے درمیان خط و کتابت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان لائن آف کنٹرول پر نئے سرے سے سیز فائر ہوا ہے۔ گذشتہ مہینے دونوں ملکوں کے ملٹری آپریشن کے ڈائریکٹرز نے اچانک کنٹرول لائن پر جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اور اس وقت سے جنگ بندی پر مکمل طور پر عمل ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کو ماضی بھلا کر آگے بڑھنا چاہیے۔ پاکستان اور انڈیا کے تعلقات میں حالیہ مثبت پیش قدمی کو دیکھتے ہوئے یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ اس میں تیسری طاقتیں بھی کردار ادا کر رہی ہیں۔
سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ عادل الجبیر نے چند دن قبل اعتراف کیا تھا کہ سعودی عرب انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ عرب نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں الجبیر نے کہا تھا کہ سعودی عرب پورے خطے میں امن چاہتا ہے اور اس کے لیے متعدد سطح پر کوشش کرتا ہے۔ اس دوران بین الاقوامی میڈیا میں یہ خبریں بھی شائع ہوئی کہ متحدہ عرب امارات بھی پاکستان اور بھارت کے مابین سفارتی تعلقات بحال کروانے کے لیے پس پردہ کوششوں میں مصروف ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بہتری لانے کی کوششوں کے پیچھے اصل ہاتھ امریکہ کا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close