بے جان پتہ بن کر شکار کرنے والی حیرت انگیز مچھلی

بولیویا، پیرو، کولمبیا، برازیل اور وینزویلا کے ایمیزون جنگلات میں لیف یا پتہ مچھلی عام ملتی ہے۔ یہ کسی بے جان مڑے تڑے پتے کی طرح تیرتی رہتی ہے اور شکار کو لبھا کر اسے نوالہ بنالیتی ہے۔
ارتقائی عمل نے اسے ایک پتے کی شکل دی ہے اور اس کے نچلے جبڑے کا کنارہ بھی پتے کے ڈنٹھل جیسا لگتا ہے۔ کتھئی رنگ کی یہ مچھلی مڑتی ہے، ٹیڑھی ہوتی ہے اور اکثر نیچے دیکھتی رہتی ہے جس پر پتے کا گمان ہوتا ہے۔ اس طرح یہ اپنے شکار اور اپنے شکاری دونوں کو ہی دھوکا دیتی ہے۔ اسے ایمیزون لیف فِش بھی کہا جاتا ہے۔
اس کا شکار کرنے کا انداز بھی بہت خوب ہے۔ یہ اپنا جبڑا بڑھاتی ہے اور پانی میں آگے بڑھتی ہے اور شکار تک پہنچتی ہے۔ ڈیڈ لیف فش اپنے جسم سے ایک تہائی اور دو تہائی تک کے جانور کھا جاتی ہے۔ یہ اتنی پیٹو ہے کہ اپنے وزن کے برابر خوراک ایک دن میں چٹ کر جاتی ہے۔
پہلی مرتبہ اسے 1920ء میں دیکھا گیا تھا اور پہلی دستاویز میں اسے مردہ مچھلی قرار دیا گیا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ اس کا عاقلانہ انداز ہے جس سے وہ خود کو مردہ ثابت کرتی ہے۔ اگرچہ اسے پالا بھی جاتا ہے لیکن اپنی حملہ آور شکاری صفت کی بنا پر ہمیشہ یہ کوئی درست فیصلہ نہیں ہوتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close