عورت مارچ والی خواتین کو رنڈیاں قرار دینے پر تنازعہ


پاکستان کے چار شہروں سے شائع ہونے والے اردو اخبار امت کی جانب سے اپنے صفحہ اول کی ایک خبر میں عورت مارچ کرنے والی خواتین کو رنڈی قرار دینے پر اخبار کو شدید تنقید کا سامنا ہے لیکن انتظامیہ کی جانب سے معافی مانگنے کا مطالبہ رد کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے لفظ رنڈی عرف عام میں ایک انتہائی غلیظ گالی ہے جسکا انگریزی ترجمہ SLUT ہے۔ رنڈی ایک ایسی عورت کو کہا جاتا جو اپنے بدکردار ہو، لہذا کسی عورت کو رنڈی کہنا سیدھا اس کے کردار پر حملہ کرنا ہے یا اس کو طوائف قرار دینا ہے۔ رنڈی جیسا نازیبا لفظ دراصل امت اخبار میں ایک ایسی خبر کے متن میں لکھا گیا ہے جس کی شہ سرخی کہتی ہے “14 ملکوں میں سب سے زیادہ عورتوں سے زیادتی ہوتی ہے”۔ اس خبر کے متن میں عورت مارچ کرنے والی خواتین کے لیے کہا گیا ہے کہ “ان رنڈیوں کو یہ 14 ممالک نظر نہیں آتے”۔روزنامہ امت کی 5 اپریل 2021 کی اشاعت میں اخبار کے پہلے صفحے پر اسلام آباد سے ’وقائع نگار خصوصی‘ کی جانب سے جنسی زیادتیوں پر ایک خبر شائع کی گئی، جس میں امریکہ، جاپان، جنوبی افریقہ، بھارت، بنگلہ دیش اور افریقی ممالک میں ہونے والی جنسی زیادتیوں کے کیسوں کا ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ حالیہ عورت مارچ میں شریک خواتین کے لیے بھی رنڈی جیسے نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے۔
یاد رہے کہ امت اخبار میں اس سے قبل بھی عورت مارچ اور اسکی منتظمین کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ امت میں چھپنے والے مضامین اور اداریوں کے ذریعے بھی مارچ کے شرکا کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔ خیال رہے کہ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے، امت اخبار اس سے قبل بھی اپنی متنازع شہ سرخیوں اور تجزیوں کی وجہ سے زیرِ بحث رہا ہے۔ 2019 میں حکومت سندھ نے انسدادِ پولیو کے لیے قائم ایمرجنسی آپریشن سینٹر اسلام آباد کو خط لکھا جس میں انھوں نے امت اخبار کے خلاف کارروائی کی درخواست کرتے ہوئے کہا تھا کہ اخبار اپنی کوریج سے مسلسل پاکستان میں جاری پولیو کے پروگرام کو ‘بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس سے نہ صرف پولیو مہم کی افادیت متاثر ہو رہی ہے بلکہ پولیو ٹیم کے اراکین کی جانیں بھی خطرے میں ہیں۔
واضح رہے کہ امت اخبار چار شہروں کراچی، حیدرآباد، راولپنڈی اور پشاور سے شائع ہوتا ہے۔امت کی ویب سائٹ مطابق عورت مارچ کی منظمین کو رنڈی قرار دینے والی واہیات خبر کراچی کے علاوہ پشاور، حیدرآباد اور راولپنڈی کے اخبارات میں بھی شائع ہوئی تھی۔ اس خبر پر حقوق نسواں کی تنظیموں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے اور وہ تمام صحافی تنظیموں سے مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ کارروائی کریں۔اس بارے میں ویمن ایکشن فورم، تحریک نسواں اور پولیٹیکل ویمن نے ایک مشترکہ بیان میں نازیبا زبان استعمال کرنے کی مذمت کی ہے اور کہا کہ امت اخبار نے صحافت کے بنیادی اخلاقیات کی خلاف ورزی کی ہے۔ان کا کہنا ہے ’اس اخبار کی عورتوں سے حقارت، غلط بیانی اور غط رپورٹنگ کی ایک تاریخ رہی ہے جس کا مقصد اشتعال انگیزی اور مذہبی جذبات بھڑکانا رہا ہے۔ صحافی تنظیموں کو اس کی مذمت کرنی چاہیے اور حکام کو اس کے اس رویے کی چارہ جوئی کرنی چاہیے۔ ویمن ایکشن فورم کی رہنما انیس ہارون کہتی ہیں کہ امت اخبار نے ایسا پہلی بار نہیں کیا ہے، بلکہ اس سے پہلے بھی خواتین کے حوالے سے ناشائستہ زبان استعمال کی ہے۔اس حوالے سے سوشل میڈیا پر بھی شدید ردِ عمل دیکھنے میں آ رہا ہے اور خاص کر خواتین اس بارے میں اس اخبار کی ’منافقت‘ کے حوالے سے بات کر رہی ہیں۔
اس بارے میں ایمان راشد نامی صارف نے لکھا کہ ان جاہلوں کے خیال میں ایسی خواتین جو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی ہیں، اپنی حفاظت، پرائیویسی، جسم اور دیگر حقوق کی خلاف ورزی کے حوالے سے بات کرتی ہیں وہ جسم فروش ہیں۔ لیکن جو خواتین ایسا کرنے سے ڈرتی ہیں یا مرد کے تشدد کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں وہ نیک اور پرہیزگار ہیں۔شاد بیگم نے لکھا کہ ’یہ کس طرح کی زبان ہے، امت اخبار میں عورت کے بارے میں اس قدر نازیبا زبان انتہائی افسوسناک ہے۔ مغرب میں عورت کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے تو اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں کے ہمارے ہاں عورت کے ساتھ زیادتی کو نارمل قرار دیا جائے۔ایک صارف ایمن نے اس حوالے سے ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہماری ثقافت پر ایک حملہ کیسے نہیں ہے؟ یہ بے حیائی کیوں نہیں ہے؟ یہ غیر اسلامی کیوں نہیں ہے؟ یہ ایک جرم کیوں نہیں ہے؟پاکستان میں میڈیا کے حقوق و آزادی سے متعلق کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیم میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی کی شریک بانی صدف خان نے اس خبر کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسی زبان کا بالکل بھی استعمال نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ اخبار عوام کے لیے چھاپا جاتا ہے تو اس طرح ایک ادارتی ذمہ داری ہوتی ہے، جس میں یہ دیکھا جائے کہ اس قسم کے الفاظ نہ لکھے جائیں۔ ایسے الفاظ یہ تاثر دیتے ہیں کہ یہ پہلے سے جاری عورت مارچ کی رہنماؤں کے خلاف مہم کا حصہ ہے۔
دوسری جانب پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے امت اخبار کے صفحہ اول پر شائع ہونے والی خبر کو ‘غیر اخلاقی’ قرار دیتے ہوئے اسے صحافت کے ‘تمام اصولوں اور اخلاقیات کے خلاف’ قرار دیا۔یونین کے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستانی صحافت کی تاریخ میں کبھی بھی ایسے لفظ معاشرے کے کسی طبقے کے خلاف استعمال نہیں کیے گئے اور بظاہر محسوس ہوتا ہے کہ روزنامہ امت جیسے اخباروں کو ‘انتہاپسند عناصر’ کا ایجنڈا پورا کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔اس حوالے سے جہاں سوشل میڈیا پر صارفین اخبار کے عہدیداروں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں وہیں اس حوالے سے میڈیا پر نظر رکھنے والے نگراں اداروں کی توجہ بھی اس بات کی جانب دلوانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاہم اکثر افراد اس کی شکایت پیمرا سے کر رہے ہیں جبکہ اخبارات پر نظر رکھنے والا ادارہ دراصل پریس کونسل آف پاکستان ہے۔ پریس کونسل آف پاکستان کے ایک عہدیدار کے مطابق فی الحال انھیں اس حوالے سے کوئی باقاعدہ شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔ تاہم سوشل میڈیا کے ذریعے انھیں اس خبر کے شائع ہونے کا علم ضرور ہوا ہے۔انھوں نے کہا کہ ‘اگر کل تک کوئی شہری یا رجسٹرڈ ادارہ ذاتی حیثیت میں اس حوالے سے باقاعدہ شکایت درج نہیں کروائے گا تو پریس کونسل آف پاکستان اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے بطور ادارہ اس ذیل میں کارروائی کو آگے بڑھائے گا۔کاؤنسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز کے چیئرمین عارف نظامی کا کہنا ہے کہ اگر امت نے ایسے الفاظ استعمال کیے ہیں تو اس کے خلاف سی پی این ای کو کارروائی کرنی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ سی پی این ای از خود نوٹس بھی لے سکتی ہے اور کوئی شکایت بھی کرسکتا ہے جس کی بنیاد پر شوکاز نوٹس جاری کیا جاتا ہے۔
پریس کونسل آف پاکستان کے مطابق کوئی بھی شہری معاملے میں فریق بن سکتا ہے تاہم اس کے لیے اس شہری کو اپنی شکایت کے ہمراہ ایک ہزار روپے فیس بنام پریس کونسل آف پاکستان جمع کروانی ہوتی ہے۔شکایت کے اندارج کے بعد معاملہ پریس کونسل کی جوڈیشل برانچ کے سپرد کر دیا جاتا ہے جو اخلاقیات کی مبینہ خلاف ورزی کی بنیاد پر فریقین کو نوٹس جاری کرتی ہے۔اس نوٹس کی شنوائی ایک تین رکنی کمیٹی کرتی ہے جس کے ممبران میں ادارے کے رجسٹرار اور ریٹائرڈ جج شامل ہوتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close