فوج کے سیاسی کردار پر تنقید کا بل آئین کے منافی نکلا

فوج کے کندھوں پر سوار ہو کر اقتدار میں آنے والے وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے مسلح افواج کے سیاسی کردار پر تنقید کرنے والوں کی آواز دبانے کے لیے لئے سخت سزائیں نافذ کرنے کا فیصلہ کیا یے جسے سیاسی، سماجی اور صحافتی حلقوں نے شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے آزادی اظہار کے بنیادی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے جو کہ آئین پاکستان یقینی بناتا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ مقتدر قوتیں بار بار آئین توڑنے والے فوجی آمروں کا تو کچھ نہیں بگاڑ سکیں لیکن آئین شکنوں کے سیاسی کردار پر تنقید کرنے والے سیاستدانوں اور میڈیا کی آواز دبانے کے لیے نیا قانون لایا جا رہا ہے جو کہ 1973 کے آئین کی بنیادی شقوں کے بھی منافی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک طرف مشرف جیسے طالع آزما بھگوڑے کو غداری کا جرم ثابت ہونے کے باوجود سزا سے بچایا جا رہا ہے اور دوسری جانب فوج کی سیاست میں مداخلت پر تنقید کو روکنے کے لئے سخت قانون سازی کر کے عوام کی زبانوں پر تالے لگانے کی غیر آئینی اور غیر قانونی کوشش کی جا رہی ہے جو کہ حکومت کی آمرانہ سوچ کی غماز ہے۔
یاد رہے کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے 7 اپریل کوایک ایک ایسے مجوزہ بل کی منظوری دی ہے جس کے تحت مسلح افواج اور اس کے اہلکاروں پر جانتے بوجھتے تنقید کرنے والوں کو دو سال تک قید اور پانچ لاکھ تک جرمانے کی سزاؤں کی تجویز دی گئی ہے۔ خیال رہے کہ جب یہ کرمنل لاء ترمیمی بل گذشتہ برس ستمبر میں تحریک انصاف کے رکن امجد خان کی جانب سے بطور پرائیویٹ بل پیش کیا گیا تھا تو اس بل پر شدید تنقید کے بعد وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے وضاحت کی تھی کہ یہ بل ’پرائیویٹ ممبر‘ کا ہے، نہ کے حکومتی بل۔اب دوبارہ پیش ہونے والے ترمیمی بل کے تحت افواج اور ان کے اہلکار جانتے بوجھتے کی جانے والی تضحیک، توہین اور بدنامی سے مبرا ہوں گے اور ایسا کرنے والے کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 500 اے کے تحت کارروائی ہو گی اور اسے دو سال تک قید کی سزا، پانچ لاکھ تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔
اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف سول عدالت میں کیس چلے گا۔ یاد رہے کہ گذشتہ برس ستمبر میں قومی اسمبلی میں ایک ترمیمی بل پیش کیا گیا تھا جو کہ ملکی اداروں بالخصوص فوج کے خلاف ہرزہ سرائی سے متعلق ہے۔ اس بل کو پاکستان پینل کوڈ 1860 اور کوڈ آف کرمنل پروسیجر 1898 میں ترمیم کرنے کے لیے کرمنل لا ترمیمی ایکٹ بل 2020 کا نام دیا گیا۔ یہ بل تحریک انصاف کے رُکن قومی اسمبلی امجد علی خان نیازی نے پرائیویٹ ممبر بل کے طور پر پیش کیا تھا۔ بل میں یہ تجویز دی گئی کہ جو کوئی بھی مسلح افواج کا تمسخر اڑاتا ہے، انخے وقار کو گزند پہنچاتا ہے یا بدنام کرتا ہے وہ ایسے جرم کا قصوروار ہو گا جس کے لیے دو سال تک قید کی سزا یا پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔ تاہم اس بارے کسی میں نہیں سوچا گیا کہ جب کوئی فوجی جرنیل ملک کے آئین کو توڑتے ہوئے مارشل لاء نافذ کرتا ہے تو وہ بھی فوج کی بدنامی کا باعث بن رہا ہوتا ہے، ایسے جرنیل کے خلاف اس ترمیمی بل میں کوئی سزا تجویز نہیں کی گئی۔ ظاہر ہے اس ملک میں سزائیں صرف بلڈی سولینز کے لیے ہیں، آئین شکن وردی والوں کے لیے نہیں۔
واضح رہے کہ اس وقت پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 500 میں ہتک عزت کے خلاف سزا تو درج ہے مگر اس شق میں ملک کی مسلح افواج کا نام نہیں لکھا گیا ہے۔سیکشن 500 کے متن کے مطابق جب بھی کوئی، کسی دوسرے کی رسوائی، بدنامی کا باعث بنے گا تو اس کو دو سال کی قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ ترمیمی بل میں اضافہ کی جانے والی شق 500۔الف یعنی ہے اور اس کو مسلح افواج وغیرہ کے ارادتاً تمسخر اڑانے کی بابت سزا قرار دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ 7 اپریل کو تحریک انصاف کے رکن راجہ خرم نواز کی زیرصدارت ہونے والے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں یہ بل پیش کیے جانے کے موقع پر حزب اختلاف کی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ ممکن ہے کہ اس قانون کی آڑ میں آزادی اظہار رائے پر قدغن لگائی جائے گی۔ اپوزیشن جماعتوں کی تنقید کے بعد مجوزہ بل پر ووٹنگ کروائی گئی تو اس کی حق اور مخالفت میں پانچ، پانچ ووٹ آئے جس کے بعد چیئیرمین کمیٹی خرم نواز نے مجوزہ بل کے حق میں ووٹ دیا اور یوں یہ مجوزہ بل کثرت رائے کی بنیاد پر منظور کر لیا گیا۔ اس بل کو سیاسی، سماجی اور صحافتی حلقوں میں ایک بار پھر شدید تنقید کاسامنا ہے۔ بالخصوص میڈیا سے وابستہ افراد کو خدشہ ہے کہ اگر یہ قانون پارلیمنٹ سے پاس ہوگیا تو اس کی آڑ میں صحافت پر مزید سخت پابندیاں عائد یو جائیں اور سوشل میڈیا کو بھی زنجیروں میں جکڑ دیا جائے گا۔
یاد رہے کہ گذشتہ برس صرف ستمبر کے ہی مہینے میں ایسے الزامات کے تحت بعض صحافیوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ان میں سینیئر صحافی اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی یعنی پیمرا کے سابق چیئرمین ابصار عالم بھی شامل ہیں جن کے خلاف پنجاب پولیس نے پاکستان فوج کے خلاف اکسانے کا مقدمہ درج کیا جبکہ ان کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت سنگین غداری کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست بھی دی گئی۔ اس سے پہلے کراچی میں صحافی بلال فاروقی کے خلاف پاکستان آرمی کے خلاف بغاوت پر اکسانے اور مذہبی منافرت پھیلانے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔جبکہ اس کے بعد راولپنڈی کی پولیس نے سوشل میڈیا پر پاکستانی اداروں بالخصوص فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے، پوسٹس اور تبصرہ کرنے کے الزام میں صحافی اسد علی طور کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا۔
قائمہ کمیٹی سے بل کی منظوری کے بعد سوشل میڈیا صارفین اس پر اپنی تشویش کا اظہار کیا رہے ہیں۔ عمار رشید نامی صارف نے اس بل کی منظوری پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستان کے کئی قومی اداروں کی سربراہی حاضر سروس یا سابق فوجی افسران کر رہے ہیں اور اس بل کی وجہ سے کسی بھی قومی ادارے پر تنقید کرنا غیر قانونی ہو جائے گا۔ ایک اور صارف ندا کرمانی نے کہا کہ تو کیا ہم اب بھی محکمہ زراعت، خلائی مخلوق، بوائز اور ایسے کسی بھی گروپ پر تنقید کر سکتے ہیں جن کا ہماری باوقار فوج سے کوئی تعلق نہ ہو؟
سینئر صحافی وجاہت مسعود نے بل کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے ٹویٹ کی کہ میں نیا قانون بننے کے بعد فوج کی توہین کر کے دو سال قید یا پانچ لاکھ جرمانہ ادا نہیں کر سکتا۔ اس لیے میں ابھی سے اعلان کرتا ہوں کہ ایوب خان نے 1956 کا آئین نہیں توڑا تھا۔ یحییٰ خان نے پاکستان نہیں توڑا تھا۔ ضیا الحق نے 11 برس کا وعدہ کر کے 90 دن میں انتخاب کروا دیا تھا اور مشرف نے دو بار کیا ایک مرتبہ بھی آئین شکنی نہیں کی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close