فحاشی کو ریپ کی وجہ قرار دینے پر جمائمہ کی عمران پر تنقید


وزیر اعظم عمران خان اپنے اس متنازعہ بیان کے بعد کہ ریپ کا پردے اور لباس سے گہرا تعلق ہے، ایک مرتبہ پھر نہ صرف سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید تنقید کی زد میں ہیں بلکہ ان کی سابقہ اہلیہ جمائما خان نے بھی ان کی کلاس لے ڈالی یے۔
وزیراعظم کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاشرہ ذہنی طور پر مفلوج اور منافقانہ الجھن کا شکار ہے اور عمران خان اسی معاشرتی منافقت کی عکاسی کر رہے ہیں۔ ماضی کے پلے بوائے اور آج کے روحانی ہوجانے والے عمران پر تنقید کرتے ہیں سوشل میڈیا صارفین کہتے ہیں کہ مذہب کے پیچھے چھُپنا ایک مشغلہ بن گیا ہے، محض روایات کو مذہب سمجھ لیا گیا ہے اور بنیادی اخلاقیات جو مذہب سکھاتا ہے، ان کا خانہ بلکل خالی کر دیا گیا ہے، حالانکہ دراصل ریاست کا مذہب سے کوئی لینا دینا ہی نہیں۔
وزیرِ اعظم عمران خان کی جانب سے ملک میں بڑھتے ہوئے ریپ کے واقعات کی وجہ بے پردگی اور فحاشی قرار دیے جانے کے بعد ان کی سابق اہلیہ جمائما خان نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ وہ امید کرتی ہیں کہ عمران کی بات کا غلط حوالہ دیا گیا ہے یا غلط ترجمہ کیا گیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ‘جس عمران کو میں جانتی تھی وہ تو کہتا تھا کہ مرد کی آنکھوں پر پردہ ڈالنا چاہیے نا کہ عورت پر’۔ اس سے پہلے پاکستان میں کئی معروف خواتین سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں نے وزیر اعظم عمران خان کے اس بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان سے بیان واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور کئی حلقوں نے ان سے معافی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اور ویمن ایکشن فورم سمیت انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں کی طرف سے جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک ایسا ملک جہاں پر ریپ کے مقدمات رپورٹ ہونا نہ ہونے کے برابر ہیں وہاں کے وزیر اعظم کی طرف سے اس طرح کا بیان ’ریپ کا شکار ہونے والی خواتین اور ان کے خاندان کے لیے ان کے زخموں پر نمک پاشی کرنے کے مترادف ہے‘۔ مشترکہ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعظم کے بیان سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے ذمہ دار اس جرم کا ارتکاب کرنے والے نہیں بلکہ وہ خود اس کی ذمہ دار ہیں۔ اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ وزیر اعظم کی طرف سے ایسا بیان دیا گیا ہے بلکہ یہ بیان ریپ اور جنسی تشدد کے بارے میں ان کی سوچ کا عکاس ہے۔
تین اپریل کو عوام سے ’براہ راست‘ کال وصول کرنے والے ایک پروگرام میں ایک کالر کی طرف سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’اگرچہ ریپ کے بارے میں حکومت نے سخت قوانین بنائے ہیں لیکن ایسے جرائم کے بڑھنے کی وجوہات کو بھی دیکھنا ہوگا اور ان میں سے ایک وجہ فحاشی کا پھیلنا ہے‘۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے صرف قانون بنانا ہی کافی نہیں ہے بلکہ اس کے لیے پورے معاشرے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ان کا کہنا تھا ’معاشرے نے فیصلہ کرنا ہے کہ یہ معاشرے کی تباہی ہے اور اس کی وجوہات ہیں۔ آج جس معاشرے کے اندر آپ فحاشی بڑھاتے جائیں تو اس کے اثرات ہوں گے۔ ہمارے دین میں کیوں منع کیا گیا ہے؟ پردے کی تاکید کیوں کی گئی ہے؟ تاکہ کسی کو ترغیب نہ ملے۔‘ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہر انسان میں اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ خود کو روک سکے۔۔۔ آپ معاشرے میں جتنی فحاشی بڑھاتے جائیں گے تو اس کے اثرات ہوں گے۔‘
پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز نے وزیر اعظم کے اس بیان کی شدید مذمت کی ہے اور ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کی ترجمان مریم اورنگزیب کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ بیان دے کر عمران صاحب نے ریپ کا شکار ہونے والوں اور ان کے گھر والوں کا دل دکھایا ہے۔انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی طرف سے دیا گیا یہ بیان ’ہر باشعور شخص کے لیے حیران کن ہے‘۔پاکستان مسلم لیگ کی ترجمان نے سوال اٹھایا کہ ’کمسن بچوں کو جو ریپ کا نشانہ بنایا جارہا ہے کیا اس کی وجہ بھی فحاشی ہی ہے؟‘
دوسری جانب حزب مخالف کی جماعت پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی نفیسہ شاہ نے بھی وزیر اعظم کے اس بیان کی مذمت کرتے ہوئے ان کے بیان کو لاہور پولیس کے سابق سی سی پی او عمر شیخ کے بیان کے ساتھ جوڑا ہے جس میں پولیس افسر نے لاہور سیالکوٹ موٹر وے پر گینگ ریپ کا نشانہ بننے والی خاتون کو اس واقعہ کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔
کچھ عرصہ قبل پاکستانی سائیکلسٹ ثمر خان نے بھی اپنے ساتھ ہونے والا ایک واقعہ شئیر کیا تھا۔ سڑک کے بیچ پر کھڑے ہو کر انھوں نے ویڈیو میں کہا کہ: ‘آپ نے ہمیشہ میری طرف سے لڑکیوں کے سائیکل چلانے پر حوصلہ افزائی کا سنا ہوگا۔۔۔ میں جھوٹ نہیں بولنا چاہتی۔ یہ غیر محفوظ ہے۔ میں اسلام آباد میں سائیکلنگ کر رہی تھی۔ ‘فیض آباد کے قریب ایک بندہ آیا جو شاید دفتر سے آرہا تھا۔ اس نے مجھے پیچھے سے پکڑا اور بھاگ گیا۔‘
سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے اس بیان پر ملا جلا ردِ عمل سامنے آ رہا ہے۔ جہاں ایک طرف صارفین ان پر شدید تنقید کر رہے ہیں وہیں ان کے بیان کی حمایت کرنے والوں کی بھی کمی نہیں۔سوشل میڈیا پر وزیرِاعظم کے بیان کے خلاف ایک مذمتی خط بھی شیئر کیا جارہا ہے جس میں اب تک 200 سے زائد افراد اور خواتین کے حقوق سے وابستہ تنظیموں کے دستخط موجود ہیں۔اس خط میں ان کے بیان کی مذمت کے ساتھ ساتھ عمران خان سے معافی مانگنے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعظم نے عوام کے ساتھ خطاب کے دوران خواتین کے پردے کی اہمیت پر بھی زور دیا جس کے بارے میں بھی سوشل میڈیا پر خاصی بحث چل پڑی ہے۔
نجی ٹی وی سے وابستہ اینکر شہزیب خانزادہ نے ٹویٹ کیا کہ ’وزیر اعظم کا ریپ واقعات کو لباس اور پردے سے جوڑنا افسوسناک ہی نہیں بلکہ خطرناک بھی ہے۔ براہ راست وِکٹم بلیمنگ ہے۔ ریپ کا لباس سے کوئی تعلق نہیں، شہوانیت بھی ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔‘
ایک صارف لکھتی ہیں کہ ’کسی نے کیسا لباس پہنا ہے، کیسا دوپٹہ اوڑا ہے اور میڈیا پر کیا دیکھاتا ہے اس بارے میں فیصلہ کرنا ریاست کا کام نہیں‘۔ انھوں نے کہا کہ ’کوئی انسان برقع پہنے ہو جینز پہنے ہو، اپنے محرم کے ساتھ ہو یا اکیلی ہو، وہ پورن دیکھتی ہو یا ارتغرل کے ڈرامے، ہر شخص کی حفاظت کی ذمہ داری ریاست کی ہوتی ہے۔‘
اس بحث کے دوران سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی وائرل ہے جس میں ایک لڑکی نے اپنا سر دوپٹے سے ڈھانپا ہوا ہے اور وہ ایک گلی میں سے گزر رہی ہے، اسی دوران اس کی مخالف سمت سے آنے والا ایک موٹر سائیکل سوار اس لڑکی کی چھاتی کو زبردستی ہاتھ لگا کر فرار ہو جاتا ہے۔ اس ویڈیو کو شیئیر کرنے والے اس کے ساتھ یہ سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ اس ویڈیو میں تو لڑکی نے ڈوپٹہ اوڑہ رکھا ہے تو پھر اس کے ساتھ جو ہوا اس کی وجہ لباس کیسے ہوئی؟
خاتون وکیل جلیلہ حیدر لکھتی ہیں کہ ایسے واقعات میں ریپ کرنے والے کی طاقت اور اس کے کسی کو زیر اثر لانے کی سوچ کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close