پی ڈی ایم اپوزیشن اتحاد کو انتشار سے بچانے کا فیصلہ

اس عمومی تاثر کے برعکس کے عوامی نیشنل پارٹی کے پی ڈی ایم چھوڑنے کے بعد اب اپوزیشن اتحاد خاتمے کی طرف گامزن ہے، مولانا فضل الرحمان کے قریبی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اتحاد کو بچانے کی کوشش کا آغاز کر دیا گیا ہے اور جلد ہی اس کے مثبت نتائج سامنے آ جائیں گے۔
یاد رہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کی علیحدگی اور پیپلزپارٹی کی ناراضی کے بعد اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ چکے ہیں۔ حکومتی وزرا کا تو کہنا ہے کہ عملاً یہ اتحاد ختم ہو چکا ہے اور اب عمران خان آسانی سے اپنے اقتدار کی مدت پوری کریں گے۔ لیکن اب معلوم ہوا یے کہ اتحاد کو بچانے کی کوششوں کا آغاز ہوچکا ہے اور پہلے مرحلے میں پیپلز پارٹی کو اس بات پر آمادہ کیا جا رہا ہے کہ وہ عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت کے ساتھ مذاکرات کرکے انہیں اتحاد میں واپس لانے پر آمادہ کرے۔
مولانا فضل الرحمن کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر پیپلزپارٹی نے اتحاد چھوڑنا ہوتا تو اس کا اب تک اعلان ہو چکا ہوتا۔ لیکن جیسا کہ سب جانتے ہیں آصف علی زرداری مفاہمت پسند آدمی ہیں اور کبھی بھی جذبات میں آکر ردعمل کی بنیاد پر بڑے فیصلے نہیں کیا کرتے۔ اسی لیے ان سے رابطہ کر کے عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت کو منانے کی درخواست کی گئی ہے۔ یہ آفر بھی کی گئی ہے کہ پی ڈی ایم کو بچانے کے لیے اے این پی اور پی پی پی کو جاری کردہ شوکاز نوٹسز بھی واپس لے لیے جائیں گے۔ اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمن اے این پی اور پیپلز پارٹی کو شوکاز نوٹسز جاری کرنے کی وجہ سے سخت تنقید کی زد میں ہیں اور ان کو اتحاد کے ٹوٹنے کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے لہذا انہوں نے اپنی ساکھ بچانے کے لیے اب پی ڈی ایم کو برقرار رکھنے کی کوششوں کا آغاز کر دیا ہے۔
اپوزیشن ذرائع کا کہنا یے اگر اپوزیشن جماعتیں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تو اتحاد کو اب بھی بچایا جا سکتا ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ مسلم لیگ نواز اپنے سخت موقف سے پیچھے ہٹے اور تھوڑی لچک دکھائے۔ خیال رہے کہ پہلے اسمبلیوں سے استعفوں اور بعدازاں سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے معاملے پر پی ڈی ایم جماعتوں کے اختلافات کھل کر سامنے آئے تھے۔ لیکن معاملہ تب خراب ہوا جب پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے اپوزیشن لیڈر کے لیے حکمراں بینچز سے ووٹ لینے پر پیپلزپارٹی اور اے این پی کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے۔ عوامی نیشنل پارٹی نے اس نوٹس پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے پی ڈی ایم سے علیحدہ ہونے کا اعلان کر دیا تھا جب کہ پیپلزپارٹی نے بھی اس حرکت پر سخت ردعمل دیا تھا۔
اس معاملے پر سینئر صحافی عارف نظامی کہتے ہیں کہ پی ڈی ایم کا مستقبل تاریک تو دکھائی دیتا ہے لیکن اگر مولانا فضل الرحمان اور نواز شریف لچک دکھائین تو اتحاد کو بچایا جا سکتا ہے۔ نظامی کا کہنا تھا کہ اتحادی جماعتوں کے باہمی اختلافات کو دور کرنے میں مولانا فضل الرحمٰن کو کردار ادا کرنا چاہیے تھا جس میں وہ ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ نظامی کہتے ہیں کہ پی ڈی ایم کے انتشار کی ایک وجہ اتحادی جماعتوں کی ایک دوسرے سے نظریاتی دُوری بھی ہے۔ اُن کے بقول ماضی میں پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں ایک دوسرے کی سخت حریف رہی ہیں۔ لہذٰا ان کے اپنے اپنے سیاسی مفادات ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم ایک سیاسی جماعت نہیں لہذٰا اسکا نواز لیگ کے اصرار پر اتحاد میں شامل دو بڑی جماعتوں کو سوکاز نوٹسز بھیجنا بھی غیر ضروری اور نامناسب عمل تھا۔
خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) نے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن پر زور دیا تھا کہ سینیٹ میں حکومتی سینیٹرز کی مدد لینے پر پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی سے وضاحت طلب کی جائے۔
سینئر تجزیہ کار زاہد حسین کہتے ہیں کہ اگر اب باہمی اختلافات کے باوجود پی ڈی ایم برقرار رہ بھی جاتی ہے تو اس کا حکومت کو کوئی نقصان نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے درمیان بیانیے اور حکمت عملی پر شروع سے ہی اختلاف تھے جو اب کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔زاہد حسین کہتے ہیں کہ نواز شریف کے بیانیے سے پیپلز پارٹی متفق نہیں تھی اور حکومت مخالف تحریک کی حکمت عملی پر بھی شروع سے اختلافات تھے۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نظام کے اندر رہ کر جدوجہد کرنا چاہتی ہے جب کہ مسلم لیگ (ن) اور مولانا فضل الرحمٰن موجودہ نظام کا خاتمہ چاہتے تھے۔
دوسری جانب سینیٹ میں قائد حزب اختلاف یوسف رضا گیلانی کا دعوی یے کہ مسلم لیگ (ن) خود بھی پارلیمنٹ سے مستعفی نہیں ہونا چاہتی اور استعفے نہ دینے کا ملبہ پیپلزپارٹی پر گرانا چاہتی ہے۔ گیلانی کے الزام کا جواب دیتے یوئے مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال کہتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) اپنے اراکینِ پارلیمنٹ کے استعفے پیپلز پارٹی کے حوالے کرنے کو تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم اتحاد پیپلز پارٹی اور اے این پی کے نکلنے جانے کے بعد بھی برقرار رہے گا بلکہ اسے انتخابی اتحاد بھی بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم مولانا فضل الرحمن کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز لیگ کو اپنے سخت رویے میں تھوڑی لچک رکھی لانی چاہیے تا کہ اتحاد کو برقرار رکھا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن اتحاد ٹوٹنے سے سے صرف ایک جماعت کو نہیں بلکہ سب جماعتوں کا نقصان ہوگا جس کا فائدہ حکومت کو پہنچے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close