ایون فیلڈ ریفرنس: اسلام آباد ہائی کورٹ نے رجسٹرار کی رپورٹ طلب کرلی

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف سابق وزیر اعظم نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی اپیلیں طے کرنے سے متعلق رجسٹرار کے دفتر سے رپورٹ طلب کرلی۔
تاہم عدالت نے سابق وزیر خزانہ شوکت ترین، سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف اور دیگر کی بریت کے خلاف دائر اپیل پر سماعت کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف مقدمات میں اپیلوں کے سیٹ کی جلد سماعت کےلیے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر درخواستوں کا معاملہ اٹھایا۔ نیب نے عدالت سے ایون فیلڈ ریفرنس میں شریف خاندان کی طرف سے ان کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی درخواست کی ہے۔ معاملے پر سماعت 13 اپریل تک ملتوی کردی گئی۔ نیب کی ایک فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں نواز شریف کی بریت کے خلاف ایک اور اپیل بھی عدالت میں موجود ہے۔ تیسری اپیل نواز شریف کو دی گئی سزا کو سات سے 14 سال تک بڑھانے کے بارے میں ہے۔ دریں اثنا جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے ساہیوال اور پیراں غائب رینٹل پاور پراجیکٹس ریفرنسز میں سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کی بریت کے خلاف نیب کی جانب سے دائر اپیل کو جلد نمٹانے کےلیے درخواست نمٹا دی۔
واضح رہے کہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے 6 جولائی 2018 کو سابق وزیر اعظم نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو سزا سنائی تھی۔ احتساب عدالت نے نوازشریف کو ان کی آمدن سے زائد اثاثوں پر 10 سال قید اور 80 لاکھ ڈالر جرمانہ، مریم نواز کو 7 سال قید اور 20 لاکھ ڈالر اور کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ تاہم مجرمان نے اس سزا کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور عدالت نے سزا معطل کردی تھی۔ نیب نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی اور عدالت سے استدعا کی کہ ان اپیلوں کی جلد سماعت کی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close