کپتان خفیہ ایجنسی کی کس مخبری پر ترین کے خلاف ہوئے؟

معلوم ہوا ہے کہ جہانگیر خان ترین کے خلاف ایف آئی اے کی حالیہ کارروائی کی بنیادی وجہ وزیراعظم عمران خان کو ملنے والی خفیہ انٹیلی جنس رپورٹس تھیں جن میں بتایا گیا تھا کہ سینیٹ الیکشن کے دوران جہانگیر ترین نے حفیظ شیخ کی بجائے یوسف رضا گیلانی کی حمایت کی اور ان کا جہاز بھی انتخابی مہم کے دوران گیلانی کے زیر استعمال رہا۔
اب وزیراعظم عمران خان کے عتاب کا شکار جہانگیر ترین نے ان انٹیلی جینس رپورٹس کو جھوٹا قرار دیا یے جن میں وزیراعظم کو بتایا گیا تھا کہ سینیٹ الیکشن کے دوران اپوزیشن کے امیدوار یوسف رضا گیلانی اپنی انتخابی مہم کے دوران مختلف ملاقاتوں کے لیے ان کا جہاز استعمال کرتے رہے۔ اس سے پہلے انٹیلی جنس بیورو کی جانب سے وزیراعظم کو ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ترین سینیٹ الیکشن کے دوران نہ صرف گیلانی کی حمایت کر رہے تھے بلکہ انہوں نے اسلام آباد، لاہور، کراچی اور ملتان کے سفر کے لیے اپنا جہاز بھی فراہم کر رکھا تھا۔ لہٰذا جیسے ہی سینیٹ الیکشن ختم ہوا، وفاقی تحقیقاتی ادارے نے واجد ضیا کی احکامات پر جہانگیر ترین کے خلاف شوگر سکینڈل کیس میں کاروائی شروع کر دی۔ یاد رہے کہ ایف آئی اے کے سربراہ واجد ضیا وزیر اعظم عمران خان کے کافی قریب ہیں اور نیب کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی طرح ایف آئی اے کو بھی کپتان کا ذاتی ایجنڈا آگے بڑھانے کے لئے انکے سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
تاہم اب جہانگیر ترین نے وضاحت کی ہے کہ انہوں نے پوری ایمانداری اور خلوص سے وزیر اعظم کا ساتھ دیا ہے اور وہ انہیں نقصان پہنچانے کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی نے اپنی سینیٹ انتخابی مہم کے دوران سابق گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود کا جہاز استعمال کیا، جس کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مخدوم صاحب کا اپنا الگ جہاز ہے، لیکن وزیراعظم کو میرا جہاز استعمال ہونے کے بارے میں غلط رپورٹ دی گئی، میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ یوسف رضا گیلانی نے مخدوم احمد محمود کا جہاز استعمال کیا تھا، اور اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔ جہانگیر خان ترین نے کہا کہ میرا دامن صاف ہے اور میں وزیر اعظم کو نقصان پہنچانے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو انکے بارے بدگمان کرنے کے عمل کے پیچھے وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، اور شہزاد اکبر کا ہاتھ ہے۔
یاد رہے کہ جنوبی پنجاب کی سیاست میں جہانگیر ترین ایک با اثر شخصیت مانے جاتے ہیں اور خاص طور پر صوبہ پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت بنوانے میں ان کا کردار اہم تصور کیا جاتا ہے۔ ماضی میں وہ عمران خان کی اے ٹی ایم کہلاتے تھے اور یہ مشہور تھا کے کپتان کے بنی گالہ کچن کا سارا خرچہ بھی ترین ہی اٹھاتے ہیں۔ 2018 کی الیکشن مہم بھی عمران خان نے جہانگیر ترین کا ذاتی جہاز استعمال کرتے ہوئے ہی چلائی تھی۔ پھر اسکے بعد حکومت سازی کے دنوں میں ترین اپنے جہاز میں آزاد امیدواران کو اسلام آباد اور لاہور لانے ار پی ٹی آئی جوائن کروانے کی وجہ سے توجہ کا مرکز بنے رہے تھے۔ یعنی جہانگیر ترین کا جہاز ان کی سیاسی طاقت بھی ہے جسے گیلانی کے لیے استعمال ہونے کا عمران خان نے اتنا زیادہ برا منایا کہ شوگر سکینڈل کے ایک برس بعد ایف آئی اے کو ترین کے پیچھے لگا دیا اور انکے خلاف تین ایف آئی آرز درج کروا دیں۔
7 اپریل کو لاہور کی بینکنگ کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ترین نے ومران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میرے خلاف جو انتقامی کارروائی کی جا رہی ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ اسکے پیچھے چھپے ہاتھوں کو بے نقاب کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ میں تو تحریک انصاف سے انصاف مانگ رہا ہوں، میں تو دوست تھا، مجھے دشمنی کی طرف کیوں دھکیل رہے ہو؟ میں تو دوست ہوں، مجھے دوست ہی رکھو۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان پر ایک نہیں بلکہ تین ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں اور کیس شروع ہونے سے پہلے ہی اُنکے بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ ایک سال سے خاموش ہیں، اسکے باوجود اُن کی وفاداری کا مزید کیا ثبوت درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھ سے وفاداری کا امتحان لیا جا رہا ہے، میں خاموش ہوں، میں چپ ہوں، لیکن تحریک انصاف سے انصاف کی امید رکھتا ہوں۔‘ ایک سوال کے جواب میں ترین کا کہنا تھا کہ ایسے لوگوں کو بےنقاب کرنا بہت ضروری ہے جو انھیں عمران خان سے دور کرنے کی سازشیں کر رہے ہیں۔ ایسا کرنے سے تحریک انصاف کو کوئی فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہو گا۔
اسی موقع پر جہانگیر ترین کے ساتھی اور ممبر پنجاب اسمبلی راجہ ریاض نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں وزیر اعظم عمران خان نے اسمبلی سے اعتماد کا جو ووٹ حاصل کیا ہے اس میں بڑا کردار جہانگیر ترین کا تھا۔ راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ ’اگر جہانگیر ترین اپنا مثبت کردار ادا نہ کرتے تو عمران خان اعتماد کا ووٹ نہ لے سکتے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کی حکومت بھی جہانگیر ترین نے بنائی۔ اس کے بعد وفاق کی حکومت بھی انھی کی محنت سے بنی۔ لیکن آج عمران خان کے ارد گرد جو لوگ ترین کے خلاف سازش کر رہے ہیں، یہ زیادتی ہے جس کے خلاف وزیر اعظم کو ایکشن لینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے سے نقصان پی ٹی آئی کو پہنچ رہا ہے، جہانگیر ترین کو نہیں۔ یاد رہے کہ ایف آئی اے کی جانب سے اپنے خلاف ایف آئی آرز کے اندراج کے بعد سے جہانگیر ترین سیاسی طور پر متحرک ہوچکے ہیں اور 7 اپریل کو پہلا موقع تھا کہ جب بینکنگ کورٹ میں پیشی کے موقع پر ان کے ساتھ ایک درجن سے زائد حکومتی وزرا اور ممبران قومی اور صوبائی اسمبلی میں موجود تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close