عمران نے ثابت کیا کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا


”‏سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا“ والی مشہور کہاوت آج کے حالات میں تحریک انصاف، اسکے سربراہ عمران خان اور انکے سابقہ دست راست جہانگیر ترین پر صادق آتی دکھائی دیتی ہے اور لوگ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ سیاست واقعی بے رحم لوگوں کا کھیل ہے۔
جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ جہانگیر ترین نے عمران خان کی تحریک انصاف کو ایوان اقتدار تک پہنچانے کے لئے سخت محنت کی۔ پارٹی کو مضبوط کرنے کے لئے شب و روز جدوجہد کرتے رہے۔ تاہم ایک وقت آیا جب انہیں آیئن کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت صادق اورامین نہ ہونے کی وجہ سے سپریم کورٹ نے نااہل قرار دے دیا حالانکہ ان کا اور عمران خان کا کیس تقریبا ایک جیسا تھا۔ لیکن جہانگیر خان ترین نے پھر بھی عمران خان کا ساتھ نہیں چھوڑا اور انکے ساتھ کھڑے رہے۔ جب تحریک انصاف 2013 کا الیکشن ہاری، تو جہانگیر ترین ہی تھے جنہوں نے کپتان کو الیکشن جیتنے کی سائنسی تکنیک بتائی۔جہانگیر ترین نے ایک انٹرویو میں یہ بات کچھ اس طرح سے کی کہ جب ہم 2013 کا الیکشن بری طرح ہار گئے تو میں نے عمران خان کو بتایا کہ اس الیکشن میں ہم نے ٹکٹ صحیح طریقے سے نہیں دیے تھے، یعنی وہ لوگ جو الیکشن جیتنے کی پوزیشن میں ہوں وہ ہمارے پاس نہیں ہیں۔ اگر یہی پوزیشن رہی تو آپ کبھی بھی وزیراعظم نہیں بن سکیں گے۔ عمران خان نے اس پر ترین سے سوال کیا کہ پھر ہم کیا کریں؟ جہانگیر ترین نے عمران کو بتایا کہ وہ لوگ جو تحریک انصاف کو انتخابات میں کامیابی دلا سکتے ہیں، ان کو پارٹی میں شامل کریں۔ پھر ترین ہی تھے جو بہت سارے ایسے الیکٹیبلز کو تحریک انصاف میں لے کر آئے۔ اس وجہ سے جہانگیر ترین کو تحریک انصاف میں مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ان پر بار بار یہ الزام لگتا رہا کہ وہ اپنے بندوں کو پارٹی میں شامل کرانا چاہتے ہیں لیکن ترین بار بار یہ کہتے رہے کہ یہ میرے بندے نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جو تحریک انصاف کی انتخابات میں کامیابی کے ضامن ثابت ہوں گے کیونکہ یہ بااثر سیاسی خاندانوں کے لوگ ہیں، یہ طاقتور لوگ ہیں جو اپنے اپنے حلقوں یا علاقوں میں اپنا اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔
لیکن یہ بھی یاد رہے کہ یہ بااثر الیکٹیبلز اسی پرانے سٹیٹس کو کا حصہ ہیں جس کا عمران خان مقابلہ کرنے نکلے تھے اور تحریک انصاف بنائی تھی۔ لیکن عمران خان کو یہ بات باور کرا دی گئی کہ اگر آپ ان لوگوں کو اپنے ساتھ نہیں ملاتے تو آپ کسی صورت بھی پاور کوریڈور تک نہیں پہنچ پائیں گے۔ اقتدسر۔کے پیاسے عمران خان نے بھی مجبوراً ان سب لوگوں کو اپنے ساتھ ملا لیا اور 2018 کا الیکشن جیتنے میں کامیاب ہو گئے، لیکن مشکل یہ کہ وہ بھاری اکثریت تو کیا، سادہ اکثریت بھی حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ تب اخک مرتبہ پھر جہانگیر ترین ہی تھے جنہوں نے آزاد اراکین کو اپنے ساتھ ملایا اور انہیں تحریک انصاف میں شامل کرایا تاک خان اقتدار میں آ سکے۔ تحریک انصاف کو صرف وفاق میں ہی نہیں پنجاب میں بھی آزاد اراکین کی حمایت کی ضرورت تھی چنانچہ تب بھی ترین تھے جنہوں نے یہ ضرورت پوری کی اور وفاق کے ساتھ پنجاب میں بھی تحریک انصاف کی حکومت بنوانے میں مدد کی۔
جہانگیر ترین نے اپنے ایک انٹرویو میں یہ انکشاف بھی کیا تھا کہ انہوں نے تحریک انصاف کو جتوانے کی بڑی بھاری قیمت اپنی نااہلی کی صورت میں ادا کی، بقول ان کے ان کی نا اہلی عمران خان کو بچانے کے لئے بیلیسنگ ایکٹ تھا۔ یعنی ان دونوں میں سے کسی ایک کو نااہل قرار دیا جانا تھا لہٰذا قرعہ فال عمران کی بجائے ترین کے کے نام نکلا۔ جہانگیر ترین عدالت عالیہ سے نا اہل ہونے کی وجہ سے خود تو انتخابی عمل میں حصہ نہیں لے سکتے تھے، اس لے وہ کسی بھی صوبائی اسمبلی یا قومی اسمبلی کا حصہ نہ بن سکے۔ تاہم انہیں وزیراعظم کی زرعی ٹاسک فورس کا چیئرمین ضرور بنایا گیا کیونکہ وہ پاکستان کے جانے پہنچانے زرعی ماہر ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وزیراعظم نے عدالت کی جانب سے صادق اور امین نہ ہونے کی وجہ سے نا اہل قرار پانے والے شخص کو یہ پوزیشن کیسے اور کیوں دی اور یہ جانتے بوجھتے ہوئے کہ ترین کی اپنی شوگر ملیں ہیں اور مفادات کا ٹکراو ہو کر رہنا ہے۔
بعد میں جب ترین کی زیر نگرانی ملک میں چینی کا بحران پیدا کر کے اس کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تو ایک بڑا شوگر سکینڈلا بن گیا۔ اس پر ہونے والی انکوائری میں ترین پکرے گے اور انکو زرعی ٹاسک فورس کے چیئرمین کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ جہانگیر ترین پر یہ الزام تھا کہ وہ چینی کا بحران پیدا کر کے ناجائز منافع کمانے والوں میں شامل ہیں۔ لیکن عمران خان کو پتہ ہونا چاہیے تھا کہ ایسا تو ہو کر رہنا تھا کیونکہ ان پر مال لگانے والوں نے مال بنانا بھی تو ہوتا ہے۔ اب شوگر سکینڈل تحقیقات جاری ہیں اور اس سلسلے میں کچھ نئے مقدمات بھی قائم کیے گئے ہیں۔ ایف آئی اے ان تمام کیسسز کو ڈیل کر رہا ہے۔ جہانگیر ترین اور ان کی فیملی کے لوگوں پر بھی مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ ترین اور ان کے بیٹے نے ان کیسسز میں ضمانت قبل از گرفتاری کرا لی ہے۔ ترین کا موقف ہے کہ ان کا دامن صاف ہے، انکے خلاف سازش ہو رہی ہے اور انہیں انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ باقی پورے پاکستان کی شوگر ملز کو چھوڑ کر صرف ان کا ہی کیوں احتساب کیا جا رہا ہے؟ یہ معاملہ اب عدالت میں ہے اور عدالت کو ہی اس کا فیصلہ کرنا ہے۔
جہانگیر خان ترین شوگر سکینڈل میں سرخرو ہوتے ہیں یا نہیں اس بارے میں تو ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ اس ساری کہانی میں عمران خان نے بڑی کامیابی کے ساتھ ترین کو دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال کر سائیڈ پر کر دیا اور ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ سیاست بے رحم لوگوں کا کھیل ہے اور اس کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج ترین اپنے ہی ہاتھوں بنائی گئی تحریک انصاف سے انصاف مانگ رہے ہیں؟
وہ تحریک انصاف جس کی انہوں نے آبیاری کی اور اسے ایک تناور درخت بنایا۔ آج وہی ترین اپنی ہی پارٹی کے احتسابی عمل کو انتقامی کارروائی کا نام دے رہے ہیں، کیونکہ سیاست بے رحم لوگون کا کھیل ہے اور اس کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close