ڈسکہ الیکشن میں دھاندلی کا کتنا امکان ہے؟


این اے 75 ڈسکہ میں 10 اپریل کو دوبارہ ضمنی انتخاب سے قبل الیکشن کمیشن نے پریزائیڈنگ افسران سے دھاندلی نہ کرنے اور کسی بھی امیدوار کی حمایت نہ کرنے کا حلف لے لیا ہے جسے ملکی تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ڈسکہ کے حلقے میں 19 فروری کو ہونے والے انتخابی معرکے میں 20 پریزائیڈنگ افسران کے مبینہ طور پر ھکومت اہلکاروں کے ہاتھوں گہری دھند میں لاپتہ ہونے کے بعد الیکشن کمیشن حکام کو دوبارہ دھاندلی ہونے کا خدشہ ہے اسی لئے تمام پریزائیڈنگ افسران سے غیر جانبدار رہنے کا حلف لیا گیا ہے۔ دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سب جانتے ہیں کہ ڈسکہ میں 19 فروری کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں دھاندلی پریزائیڈنگ افسران نے نہیں کی تھی بلکہ اس میں حکومتی مشینری اور ایجنسیوں کے خفیہ ہاتھ ملوث تھے جنہیں نہ تو عدالت نے سزا سنائی ہے اور نہ ہی ان سے انتخابی عمل میں مداخلت سے باز رہنے کے لئے حلف لیا گیا ہے لہٰذا 19 اپریل کو اس پریکٹس کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈسکہ میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 میں ہونے والے ضمنی انتخابات سے پہلے الیکشن کمیشن نے غیر معمولی طور پر 360 پولنگ سٹیشنز پر تعینات ہونے والے پریزائیڈنگ افسران سے پولنگ کے دوران اپنے فرائض منصبی احسن طریقے سے ادا کرنے‘ اور ’کسی بھی امیدوار کی حمایت نہ کرنے‘ کا حلف لیا ہے۔ واضح رہے کہ اس حلقے میں پولنگ 10 اپریل کو ہوگی اور حکمراں جماعت تحریک انصاف اور حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ نواز کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے اس حلقے میں الیکشن ایکٹ کی خلاف ورزی پر پورے انتخاب کو کالعدم قرار دے کر دوبارہ انتخاب کروانے کا حکم دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے خلاف تحریک انصاف کی اپیل مسترد کرتے ہوئے پورے حلقے میں دوبارہ انتخاب کروانے کا حکم برقرار رکھا تھا۔ واضح رہے کہ سنہ 1990 سے اس حلقے سے سابق حکمراں جماعت مسلم لیگ نواز ہی کامیاب ہوتی آئی ہے۔ نوشین افتخار مسلم لیگ نواز اور علی اسجد ملہی تحریک انصاف کے امیدوار ہیں۔ الیکشن کمیشن نے حکومت اور حزب مخالف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ اور معاونین حصوصی پر پولنگ کے دن تک اس حلقے میں آنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
ایک خاتون پریزائیڈنگ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ سنہ 2008 سے ہونے والے عام انتخابات میں بطور پریزائیڈنگ افسر اپنے فرائض منصبی ادا کرتی رہی ہیں لیکن آج تک کسی بھی انتخاب کے موقع پر حلف نہیں لیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے حکام نے ان سمیت خواتین کے پولنگ سٹیشنز پر تعینات ہونے والی دیگر خواتین پریزائیڈنگ افسران کو بریفنگ کے لیے بلایا اور بریفنگ کے بعد ان سب کو ایک کاغذ تھما دیا گیا جو دراصل حلف نامہ تھا۔ ان کا کا کہنا تھا کہ بریفنگ میں موجود ان سب خواتین کو اونچی آواز میں حلف نامہ پڑھنے کی ہدایت کی گئی۔ انھوں نے بتایا کہ اس حلف نامے میں لکھا ہوا تھا کہ وہ پولنگ کے دوران اپنے فرائضِ منصبی احسن طریقے سے ادا کریں گی اور کسی بھی امیدوار کی حمایت نہ کرنے کے ساتھ ساتھ ووٹ ڈالنے کے لیے آنے والی خواتین ووٹرز کو بھی یہ نہیں کہیں گی کہ فلاں امیدوار کو ووٹ دیں۔ خاتون پریزائیڈنگ افسر کا کہنا تھا کہ اس حلقے میں 19 فروری کو ہونے والے ضمنی انتخاب کے دوران ان سے ایسا کوئی حلف نہیں لیا گیا تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شاید یہ اقدام اس لیے لیا گیا ہے کیونکہ گذشتہ ضمنی انتخاب میں 20 پریزائیڈنگ افسران کے لاپتہ ہونے کے بعد الیکشن کمیشن کے حکام کو دوبارہ ایسا ہونے کا خدشہ ہے۔ مذکورہ خاتون نے مزید بتایا کہ انھیں بریفنگ کے دوران واضح طور پر یہ ہدایات دی گئی ہیں کہ اگر ان کے پولنگ سٹیشن پر کوئی بھی خلاف قانون اقدام ہو تو اس کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام کو دی جائے اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں پریزائیڈنگ افسر پر ذمہ داری عائد کی جائے گی۔
اس حوالے سے الیکشن کمیشن کے سابق سیکرٹری کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ الیکشن ایکٹ میں ایسا کوئی قانون نہیں ہے جس کے تحت پریزائیڈنگ افسر سے حلف لیا جائے۔ انھوں نے بتایا کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں اس وقت کے الیکشن کمشنر ارشاد حسن خان نے یہ روایت نکالی تھی کہ پریزائیڈنگ افسران سے بھی حلف لیا جائے لیکن اس کی پاسداری کبھی ہوتی رہی اور کبھی نہیں ہوتی تھی۔ انھوں نے کہا کہ اگر کسی پولنگ سٹیشن پر کوئی خلاف قانون واقعہ ہو جاتا ہے یا پریزائیڈنگ افسر کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث بھی ہوتا ہے تو اس کے باوجود پریزائیڈنگ افسر پر حلف کی خلاف ورزی کرنے کی کارروائی نہیں ہو سکتی۔
یاد رہے کہ اس حلقے میں ریٹرنگ افسر سیالکوٹ کے ضلعی الیکشن کمشنر اطہر عباسی ہیں اور الیکشن کمشن نے ڈسٹرکٹ ریٹرنگ افسر اور ریٹرنگ افسران کو مجسٹریٹ درجہ اول کے اختیارات بھی تفویض کیے ہیں۔ ان اختیارات کے تحت وہ ضرورت پڑنے پر کسی شخص کی گرفتاری کا حکم بھی دے سکتے ہیں۔اس کے علاوہ الیکشن کمیشن نے اس حلقے کی اہمیت کو سامنے رکھتے ہوئے اور شفاف انتخاب کروانے کی غرض سے متعدد مانیٹرنگ ٹیمیں بھیجنے کا اعلان کیا ہے جو کہ ضمنی انتخاب میں الیکشن ایکٹ پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حلقے میں امن وامان کی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن فوج یا رینجرز کو طلب کرنے کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ گذشتہ ضمنی انتخاب میں فائرنگ کے واقعات جن دو افراد جاں بحق ہونے کے بعد ابھی تک ڈسکہ شہر میں حالات معمول پر نہیں آ سکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ووٹرز ابھی تک مخمصے میں ہیں کہ وہ ووٹ ڈالنے کے لیے باہر نکلیں یا گھروں میں ہی رہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایسے حالات میں ’جو امیدوار اپنے ووٹرز کو نکالنے میں کامیاب ہو گیا، وہ جیت جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close