حکومتی وزراء کی فوجی حرمت قانون کی مخالفت

وزیراعظم عمران خان کے قریب سمجھے جانے والے دو وفاقی وزرا فواد چوہدری اور شیریں مزاری نے حیران کن طور پر مسلح افواج کی توہین کرنے پر سزائیں مزید سخت کرنے والے ترمیمی بل کی مخالفت کردی ہے جس پر حکومتی حلقے حیران اور پریشان ہیں۔
عسکری حلقوں کے قریب سمجھے جانے والے فواد چوہدری نے مسلح افواج اور اس کے اہلکاروں پر تنقید کرنے والوں کے خلاف قید اور جرمانے کی سزائیں تجویز کرنے والی قانون سازی کی مخالفت کرتے ہوئے اس بات سے اتفاق کیا یے کہ عزت کمائی جاتی ہے، مسلط نہیں کی جاتی۔ ان کا کہنا تھا کہ میرا نہیں خیال کہ یہ دل فوج کے کہنے پر پیش کیا جا رہا ہے۔فواد چوہدری نے صحافی مظہر عباس کے ایک ٹویٹ پر جوابی ٹویٹ کرتے ہوئے ایک حکومتی رکن قومی اسملبی کی طرف سے پیش کردہ فوجی حرمت بل پر لکھا کہ عزت کمائی جاتی ہے، مسلط نہیں کی جاتی۔
خیال رہے کہ پاکستان میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے 7 اپریل کو ایک ایسے مجوزہ بل کی منظوری دی ہے جس کے تحت مسلح افواج اور اس کے اہلکاروں پر جانتے بوجھتے تنقید کرنے والوں کو دو سال تک قید اور پانچ لاکھ تک جرمانے کی سزاؤں کی تجویز دی گئی ہے۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں حزب اختلاف کی جماعتوں مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے اراکین نے اس کی مخالفت کی اور جب مجوزہ بل پر ووٹنگ کروائی گئی تو اس کے حق اور مخالفت میں پانچ، پانچ ووٹ آئے۔ لیکن چیئیرمین کمیٹی خرم نواز نے اس کے حق میں اپنا ووٹ دے دیا اور یوں یہ مجوزہ بل کثرت رائے کی بنیاد پر منظور کر لیا گیا۔ خیال رہے کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے اس بل کی منظوری ایسے وقت دی ہے جب ملک میں فوج کے سیاست میں مبینہ کردار پر سیاسی، ادبی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے۔ تاہم لطیفہ یہ یے کہ فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے مسلسل فوج کا سیاسی کردار ہونے کی تردید کی جاتی ہے۔
ناقدین کا کہنا ہےکہ فوج کے کندھوں پر سوار ہو کر اقتدار میں آنے والے وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے مسلح افواج کے سیاسی کردار پر تنقید کرنے والوں کی آواز دبانے کے لیے لئے سخت سزائیں نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے آمرانہ سوچ جھلکتی ہے۔ ملک کے سیاسی، سماجی اور صحافتی حلقوں نے فوجی حرمت کے بل کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے آزادی اظہار کے اس بنیادی قانون کے خلاف قرار دیا ہے جسے کہ آئین پاکستان یقینی بناتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مقتدر قوتیں بار بار آئین توڑنے والے فوجی آمروں کا تو کچھ نہیں بگاڑ سکیں لیکن آئین شکنوں کے سیاسی کردار پر تنقید کرنے والے سیاستدانوں اور میڈیا کی آواز دبانے کے لیے نیا قانون لایا جا رہا ہے جو کہ 1973 کے آئین کی بنیادی شقوں کے بھی منافی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک طرف مشرف جیسے طالع آزما بھگوڑے کو غداری کا جرم ثابت ہونے کے باوجود سزا سے بچایا جا رہا ہے اور دوسری جانب فوج کی سیاست میں مداخلت پر تنقید کو روکنے کے لئے سخت قانون سازی کر کے عوام کی زبانوں پر تالے لگانے کی غیر آئینی اور غیر قانونی کوشش کی جا رہی ہے جو کہ حکومت کی آمرانہ سوچ کی غماز ہے۔
اب اپوزیشن جماعتوں اور سول سوسائٹی کے علاوہ فواد چوہدری نے بھی اپنی ہی جماعت کے ایک رکن امجد نیازی کی طرف سے پیش کردہ اس بل پر تنقید کی ہے۔ فواد چوہدری کہتے ہیں کہ فوج پہلے سے ہی سب سے زیادہ قابل عزت ادارہ ہے اور اسکی حرمت کے تقدس کے لیے پہلے ہی آئین میں کئی شقیں موجود ہیں لہٰذا مذید سختی کی ضرورت نہیں ہے۔ بل پر تنقید کی وضاحت کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ ایسی قانون سازی سے قوانین کے غلط استعمال کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ انکے مطابق پاکستان میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے دور سے توہین عدالت کے قانون کا بے دریغ غلط استعمال ہو رہا ہے جبکہ اب جدید دنیا کے ممالک ایسے قوانین کو سرے سے ہی ختم کر رہے ہیں۔ فواد چوہدری کے مطابق صرف ایسی قانون سازی پر تنقید نہیں کی جاتی جس کی منظوری وفاقی کابینہ نے دی ہو جبکہ پرائیویٹ طور پر یعنی جو ارکان اسمبلی ذاتی حیثیت سے بل پیش کرتے ہیں ایسی قانون سازی پر وزراء کی طرف سے بھی تنقید کی جا سکتی ہے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایسے نئے قوانین لاگو کرنے کی بجائے توہینِ عدالت کے قانون کو ختم کیا جانا چاہیے۔ان کے مطابق ہر پاکستانی اپنی فوج سے دل سے وابستگی اور پیار کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے قانون فوج کی خواہش نہیں ہوں گے۔ فواد کے بعد وفاقی وزیر برائے انسنای حقوق شیریں مزاری نے بھی اس مجوزہ قانون سازی کی مخالفت کر دی ہے۔ انھوں نے فواد چوہدری کے ٹویٹ کے جواب میں لکھا کہ وہ اس سے کلی اتفاق کرتی ہیں اور اس سے زیادہ وضاحت سے یہ بات نہیں کی جا سکتی کہ ایسی قانون سازی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی مریم اورنگزیب نے قانونی بل کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہتک عزت اور آزادئِ اظہار کے قانون کی موجودگی میں نیا قانونی بل لانا اداروں کو متنازع بنانا ہے۔
خیال رہے کہ جب یہ کرمنل لاء ترمیمی بل گذشتہ برس ستمبر میں تحریک انصاف کے رکن امجد خان کی جانب سے بطور پرائیویٹ بل پیش کیا گیا تھا تو اس بل پر شدید تنقید کے بعد وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے وضاحت کی تھی کہ یہ بل ’پرائیویٹ ممبر‘ کا ہے، نہ کے حکومتی بل۔اب دوبارہ پیش ہونے والے ترمیمی بل کے تحت افواج اور ان کے اہلکار جانتے بوجھتے کی جانے والی تضحیک، توہین اور بدنامی سے مبرا ہوں گے اور ایسا کرنے والے کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 500 اے کے تحت سول عدالت میں کارروائی ہو گی اور اسے دو سال تک قید کی سزا، پانچ لاکھ تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔یاد رہے کہ گذشتہ برس ستمبر میں قومی اسمبلی میں ایک ترمیمی بل پیش کیا گیا تھا جو کہ ملکی اداروں بالخصوص فوج کے خلاف ہرزہ سرائی سے متعلق تھا۔ اس بل کو پاکستان پینل کوڈ 1860 اور کوڈ آف کرمنل پروسیجر 1898 میں ترمیم کرنے کے لیے کرمنل لا ترمیمی ایکٹ بل 2020 کا نام دیا گیا۔ یہ بل تحریک انصاف کے رُکن قومی اسمبلی امجد علی خان نیازی نے پرائیویٹ ممبر بل کے طور پر پیش کیا تھا۔ بل میں یہ تجویز دی گئی کہ جو کوئی بھی مسلح افواج کا تمسخر اڑاتا ہے، انخے وقار کو گزند پہنچاتا ہے یا بدنام کرتا ہے وہ ایسے جرم کا قصوروار ہو گا جس کے لیے دو سال تک قید کی سزا یا پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔ تاہم ناقدین سوال اٹھاتے ہیں کہ اس بارے کسی میں نہیں سوچا گیا کہ جب کوئی فوجی جرنیل ملک کے آئین کو توڑتے ہوئے مارشل لاء نافذ کرتا ہے تو وہ بھی فوج کی بدنامی کا باعث بن رہا ہوتا ہے، ایسے جرنیل کے خلاف اس ترمیمی بل میں کوئی سزا تجویز نہیں کی گئی۔ ظاہر ہے اس ملک میں سزائیں صرف بلڈی سولینز کے لیے ہیں، آئین شکن وردی والوں کے لیے نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close