آئین کا تحفظ کرنے والوں نے آئین توڑا تو پاکستان ٹوٹا


پاکستان میں آزاد عدلیہ کی علامت سمجھے جانے والے سپریم کورٹ کے جج جسٹس فائز عیسیٰ نے جناح کا پاکستان ٹوٹنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب آئین کا تحفظ کرنے والوں نے اپنی قسم توڑی تو پاکستان دو لخت ہو گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قائد اعظم نے جو پاکستان بنایا تھا آج وہ اس لیے آدھا رہ گیا کہ ماضی میں لوگوں کی ہوس نے آئین کو توڑا اور آئین کا تحفظ کرنے والوں نے اپنی قسم توڑ دی، چنانچہ پاکستان بھی ٹوٹ گیا۔
جسٹس قاضی فائز عیسی 9 اپریل کے اسلام آباد ہائی بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ’اسلام میں بنیادی حقوق اور ہمارا آئین‘ کے موضوع پر ایک سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔جسٹس فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان میں بہت سارے آئین آئے اور گئے، ہم نے بہت کچھ سیکھا مگر صرف آئین نہیں سیکھ سکے۔’ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان قائداعظم نے بنایا جو دنیا کا سب سے بڑا اسلامی ملک تھا۔ لیکن آج پاکستان نصف ہے کیونکہ مشرقی پاکستان الگ ہو چکا ہے۔ جسٹس عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ایسا اس لیے ہوا کہ ہم نے آئین پر عمل نہیں کیا۔ ‘یہ آئین پر عمل کرنے کی قسم کھانے والوں کی ذمہ داری تھی۔ ہمیں حقیقت سے نظریں نہیں چرانی چاہئیں۔’ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر ہم آئین شکنی کریں گے تو یہ غداری کے زمرے میں آئے گا۔ اگر آئین کو ہٹا دیں تو وفاق بھی ٹوٹ جاتا ہے اور پاکستانیت بھی ختم ہو جاتی ہے۔‘
انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’آئین کا تحفظ کرنا ہر پاکستانی پر لازم ہے اس لیے اس کا تحفظ کریں۔‘ جسٹس فائز عیسیٰ نے آئین پر لیے جانے والے حلف کی پاسداری کا ذکر کرتے ہوئے کہا ’اگر حلف پر پوری طرح عمل نہیں کریں گے تو مسئلے بڑھتے جائیں گے۔ ہر صاحب اختیار، مجھ سمیت جس نے بھی حلف اٹھایا، اس پرآئین کی پاسداری لازم ہے۔‘ جسٹس فائز عیسیٰ نے آئین کا تحفظ کی اہمیت کے حوالے سے کہا کہ یہ اس لیے ضروری ہے کیونکہ آئین سب کو تحفظ دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا آئین میں 280 شقیں ہیں، دو درجن دفعات عوام کے حقوق کے تحفظ سے متعلق ہیں۔ انھوں نے چند قانونی دفعات کی تفصیل بھی بتائی۔ ان کا کہنا تھا ’یہ دو درجن دفعات ہر شہری سمجھ لے جو ان کی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہیں، دفعہ چار یقینی بناتی ہے کہ سب کے ساتھ یکساں سلوک ہو، دفعہ نو کہتی ہے قانون کی اجازت کے بغیرکسی کو زندگی اور آزادی سے محروم نہ کیا جائے گا۔‘ جسٹس فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ’آئین میں کہا گیا ہے کہ اقلیتوں کو زندگی جینے کے مکمل مواقع دیے جائیں گے۔‘ جسٹس فائز عیسیٰ نے آئین سے متعلق عوامی آگہی پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین پڑھنا بہت ضروری ہے کیونکہ پڑھ کر ہی ہمیں معلوم ہو گا کہ پاکستان کیسے وجود میں آیا۔‘
جسٹس فائز نے آئین کو سمجھنے کی ضرورت کے موضوع پر کہا کہ ‘ہم نے آئین نہیں سیکھا، ہم نے آئین کا ترجمہ نہ نہیں سیکھا۔ آئین انگریزی زبان میں لکھا گیا اور اس کی تشریح بھی انگریزی زبان میں ہے۔’ انھوں نے کہا کہ آئین کا نہ صرف اردو زبان میں ترجمہ کیا جانا چاہیے بلکہ اس کی تعلیم بھی دی جانی چاہیے۔ ‘ہم نے آئین کو بھی قرآن کی طرح خوبصورت غلاف میں بند کر کے رکھ دیا ہے اور اسے پڑھنا چھوڑ دیا ہے۔’ تاہم انھوں نے تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’مجھے نہیں لگتا کہ کسی بھی سکول میں آئین پاکستان پڑھایا جاتا ہے۔‘ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ امریکی سکولوں میں آئین سکھایا جاتا تھا تاکہ کم عمر سے ہی طلبا کو آئین کا معلوم ہو۔ لیکن افسوس کے پاکستان میں نہ دو این پڑھایا جاتا ہے اور نہ ہی اس پر عمل کیا جاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close