پنجاب کی ایک بہادر عورت پروین عاطف کی کہانی

دنیاکے ہر خطے اور تہذیب میں ایسی بہادر عورتوں کا ذکر ملتا ہے جنہوں نے اپنی جدوجہد کی وجہ سے تاریخ میں اپنے نقوش چھوڑے۔ ایسی ہی ایک بہادر عورت پنجاب کی مٹی سے پیدا ہوئی جسے لوگ ڈاکٹر پروین عاطف کےنام سے جانتے ہیں۔
اردو ادب پڑھنے والے انہیں افسانہ نگار، سفرنامہ نگار اور کالم نگار کے طور پر بہت اچھی طرح جانتے ہیں، لیکن ان کی زندگی کا سب سےدلچسپ پہلو جو انہیں اپنی ہم عصر خواتین میں نمایاں کرتا ہے وہ پاکستان میں ویمن ہاکی کے لئے ان کی گرانقدر خدمات ہیں۔ پاکستان میں پہلی مرتبہ وومن ہاکی ایسوسی ایشن کا قیام پروین عاطف کی ہی کوششوں سے ممکن ہوا جس کی وہ صدر بھی رہیں۔ انہوں نے سکولوں کالجوں اور گھروں سے خواتین ہاکی پلیئرز ڈھونڈ کر انہیں تربیت دلوائی اور پاکستان ویمن ہاکی ٹیم تشکیل دی۔

پروین عاطف 1935ء میں گوجرانوالہ کے قریب ایمن آباد میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد غلام حسین تاریخ اور فارسی میں ایم اے تھے۔ وہ ساعر بھی تھے اور عمر بھر تدریس سے وابستہ رہے۔ پروین کی والدہ زیادہ تعلیم یافتہ نہ تھیں لیکن فنون لطیفہ سے شغف تھا اور ’’نقوش‘‘ جیسے معیاری ادبی جریدے ان کے زیر مطالعہ رہتے۔ پروین کے ایک بھائی نامور صحافی احمد بشیر تھے جو کہ معروف اداکارہ بشری انصاری کے والد بھی ہیں۔ بشری کی دوسری بہن نیلم احمد بشیر بھی اردو کی معروف افسانہ نگار ھیں اور امریکہ میں مقیم ھیں۔ پروین عاطف ان دونوں کی پھوپھی تھیں۔ احمد بشیر ملک کے نامور صحافی اور ادیب تھے اور ممتاز مفتی کے بہترین دوست تھے۔ دبنگ اور جرأت مند صحافی کے طور پر وہ آغاز جوانی میں ہی معروف ہو گئے تھے۔ ان کے خاکوں کے مجموعے’’ جو ملے تھے راستے میں‘‘ نے انہیں ادب میں بھی اہم مقام دلایا۔ ناول’’ دل بھٹکے گا‘‘ سے ادبی حیثیت اور بھی مستحکم ہو گئی۔ احمد بشیر اور پروین دونوں بہن بھائی ایکدوسرے پر جان دیتے تھے۔ پروین عاطف نے اپنے بھائی احمد بشیر کے ساتھ لاہور آنے کے بعد مدرستہ البنات سے تعلیمی سفر کا آغاز کیا جو پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے سوشیالوجی پر جا کر رکا۔ایم اے کے دوران ان کی نسبت ہاکی کے مشہور کھلاڑی اور اولمپیئن عاطف سے طے ہو گئی۔انہیں احمد بشیر نے پسند کیا تھا۔ ان کے دوبیٹے ہیں ڈاکٹر گل عاطف اور شان عاطف، دو بیٹیاں ظل عاطف اور شکوہ عاطف ہیں۔ پروین عاطف سولہ برس پاکستان وومن ہاکی فیڈریشن کی صدر رہیں۔ اس دوران پروین نے کئی برس ایک قومی اخبار میں کالم بعنوان ’’میں سچ کہوں گی‘‘ لکھا۔

جہاں تک پروین عاطف کی تحریروں کا تعلق ہے انھوں اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں لکھا، وہ بنیادی طور پر ایک فکشن رائٹر تھیں مگر ان کی حقیقت پسندانہ سوچ اور گہرے معاشرتی تجزیے کی وجہ سے ان کی کہانیوں کے اکثر کردار دیکھے بھالے محسوس ہوتے ہیں، اپنے شوہر کی ہمراہی اور خواتین سے متعلق مسائل کی نمایندگی کے سلسلے میں انھیں دنیا بھر کی مسافت کا موقع ملا اور انھوں نے اپنے بہت سے تاثرات کو سفرناموں کی شکل میں قلم بند بھی کیا، انھیں کردار نگاری اور کردار شناسی کا ایک فطری درک تھا، سو یہ سفر نامے صرف مختلف زمینی نکروں کی سیر بینی تک محدود نہیں رہے بلکہ پروین عاطف نے وہاں بسنے والے لوگوں سے زیادہ واسطہ رکھا ہے۔ زندگی کے مختلف جھمیلوں کی مصروفیت کی وجہ سے انھوں نے نسبتاً کم لکھا مگر جو اور جتنا بھی لکھا وہ اپنے عصر سے جڑا ہوا اور اس کا موثر عکاس ہے۔

پروین کی تحریر میں سب سے بڑی خصوصیت ان کی انفرادیت ہے۔ وہ ہر واقعہ، سیچویشن اور کردار کو اپنی نظر سے دیکھتیں۔ ان کا انداز بیان روایتی اور جدید کی خوشگوار آمیزش تھا، انکے اسلوب می رنگینی اور جاذبیت تھی۔ پروین کی قابل ذکر کتابوں میں، میں میلی پیا اجلے، صبح کاذب، کرن تتلی اور بگولے اور ٹپر واسنی شامل ہیں۔

پنجاب کے دیہات کی رہتل اور شہری زندگی میں خواتین کو درپیش مسائل کی جس گہرائی اور حقیقت پسندی سے پروین عاطف نے تصویر کشی کی ہے اس کا ایک اپنا انداز ہے ان کی شخصیت کے جن تشکیلی پہلوؤں کی طرف ان کے مرحوم بھائی احمد بشیر نے اپنی مختلف تحریروں اور بالخصوص سوانحی ناول میں ذکر کیا ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بچپن سے ہی زندگی کے بارے میں ایک جارحانہ مزاج رکھتی تھیں اور کسی غلط بات کو ’’مصلحت‘‘ کی چادر اوڑھانے کے سخت خلاف تھیں۔ احباب کی محفل میں وہ سراپا محبت اور انکسار تھیں مگر اپنے نظریات کے سلسلے میں کسی رو رعایت سے کام لینا ان کی فطرت ہی میں شامل نہیں تھا، عورتوں کے حقوق اور بالخصوص اسپورٹس میں ان کی شمولیت کے بارے میں وہ زندگی بھر بہت سرگرم رہیں اور اس حوالے سے کئی بین الاقوامی فورمز پر بھی انھوں نے پاکستان کی نمایندگی بھی کی۔
پروین عاطف کے گھرانے کو اگر ’’ہمہ آفتاب‘‘ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close