تحریک لبیک سے معاہدہ عمران کے گلے کی ہڈی بن گیا

تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے بظاہر فرانسیسی سفیر کی ملک بدری سے متعلق علامہ خادم رضوی مرحوم کے ساتھ کیا گیا معاہدہ توڑ دیا ہے جسکے بعد حکومت ایک بند گلی میں داخل ہوتی نظر آتی ہے۔ عمران خان حکومت کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اگر وہ فرانس کے سفیر کو ملک سے بے دخل کرتی ہے تو وہ خود عالمی سطح پر آئسولیشن اور پابندیوں کا شکار ہو جائے گی اور اگر وہ ایسا نہیں کرتی تو مذہبی شدت پسند نہ صرف حکومت مخالف تحریک چلا دیں گے بلکہ اندرون ملک خانہ جنگی کا خطرہ بھی بڑھ جائے گا۔ تاہم سب سے اہم سوال یہ ہے کہ حکومت نے تحریک لبیک کے ساتھ فرانس کے سفیر کو پاکستان سے بے دخل کرنے کا معاہدہ کیا ہیں کیوں جب کہ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ اس پر عملدرآمد کرنا کتنا مشکل ہے۔ سونے پر سہاگا یہ کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے نمبر ٹانگنے کے لیے خود اس معاہدے کا اعلان کیا۔ لہٰذا اب یہ معاہدہ ان کے گلے کی ہڈی بن گیا ہے چونکہ اگر وہ اس پر عمل کرتے ہیں تو پاکستان کے لیے مسئلہ ہے اور اگر وہ اس پر عمل نہیں کرتے تو انکی حکومت کے لیے مسئلہ ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے فرانس کے سفیر کی بیدخلی کے لیے تحریک لبیک کے ساتھ کیا جانے والا معاہدہ بظاہر توڑ دیا گیا ہے جس کی بنیادی وجہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے حکومت پر روز بروز بڑھتا ہوا عالمی دباؤ ہے۔ بعض تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ تحریک لبیک کے نئے سربراہ سعد رضوی کی گرفتاری واضح اشارہ یے پکہ حکومت اس معاہدے پر عمل درآمد کرنے کی بجائے اب تحریک لبیک کے ساتھ دو دو ہاتھ کرنا چاہتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لبیک کے ساتھ معاہدہ دراصل حکومت کی کمزوری کا اظہار تھا اور وزیراعظم عمران خان نے اس معاہدے کا خود اعلان کرکے بین الاقوامی دنیا اور اپنے سیاسی مخالفین کو یہ کہنے کا موقع دیا کہ ان کی حکومت مذہبی شدت پسندوں کے آگے گھٹنے ٹیک چکی ہے۔ یاد رہے کہ کپتان حکومت نے لبیک والوں کے ساتھ 20 اپریل تک فرانس کے سفیر کو ملک سے بے دخل کرنے کی قرارداد پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔ لیکن پھر اچانک 12 اپریل کو لبیک کے سربراہ سعد رضوی کی گرفتاری اور اسکے بعد ہونے والے ملک گیر ہنگاموں نے کپتان حکومت کی کمزوری مزید عیاں کر دی ہے۔ گرفتسری کے بعد سے تحریک لبیک کے ملک گیر احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ علامہ خادم حسین رضوی کے وصال کے باوجود جماعت کی سٹریٹ پاور قائم ہے اور ناموس رسالت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے معاملے پر اہل سنت بریلوی مکتبہ فکر کی نمائندگی کرنے والی جماعت تحریک لبیک اب کپتان حکومت کو ٹف ٹائم دے گی۔ دیکھنا یہ ہے کہ حکومت احتجاج پر قابو پانے کے لیے سعد رضوی کو رہا کرتی ہے یا نہیں کیونکہ دونوں صورتوں میں اس کے لئے مسائل ہی مسائل ہیں۔ اگر حکومت فرانس کے سفیر کو پاکستان سے نکالتی ہے تو عالمی سطح پر ملک کے لئے شدید مشکلات پیدا ہوں گی اور ہو سکتا ہے کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال کر بلیک لسٹ میں ڈال دیا جائے۔ لیکن اگر حکومت تحریک لبیک سے کئے گئے معاہدے پر عمل نہیں کرتی تو لبیک والے سڑکوں اور گلی محلوں میں حکومت کی رٹ چیلنج کرتے رہیں گے اور ملک خانہ جنگی کی طرف چلا جائے گا۔
واضح رہے کہ تحریک لبیک کو پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی پروردہ جماعت سمجھا جاتا ہے۔ ماضی قریب میں اس جماعت کو مسلم لیگ نون کا ووٹ بینک توڑنے اور حکومت کے خلاف دھرنوں کے لیے پریشر گروپ کے طور پر استعمال کیا گیا۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ دنیا کی بدلتی ہوئی صورتحال میں اب فوجی اسٹیبلشمنٹ کے لیے بھی لبیک والوں کی سرپرستی جاری رکھنا آسان نہیں رہا کیونکہ ایف اے ٹی ایف کی پابندیوں کی وجہ سے پاکستان کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں جس سے فوج کو بھی بڑا نقصان ہو سکتا ہے کیونکہ پاکستانی بجٹ کا سب سے بڑا حصہ دفاعی اخراجات پر خرچ ہوتا یے۔ لہذا اب دیکھنا یہ ہے کہ سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد اسٹیبلشمنٹ کس طرح تحریک لبیک سے نبرد آزما ہوتی ہے؟

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور پولیس کی جانب سے بارہ اپریل کی دوپہر سعد رضوی کو گرفتار کرنے کے بعد بھائی لوگوں کے حوالے کر دیا گیا تھا جنہون نے انہیں ایک سیف ہاؤس میں رکھا ہے۔ اطلاعات کے مطابق وہاں ان کے ساتھ تحریک لبیک کے 20 اپریل کے مجوزہ دھرنے کے بارے میں مذاکرات بھی کیے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد تحریک لبیک کے کارکنوں نے ملک بھر میں مظاہروں کا سلسلہ شروع کر دیا اور سڑکیں بلاک کر دی ہیں جس سے نظام زندگی شدید متاثر ہوا ہے۔
حکومت نے سعد رضوی کی گرفتاری کی کوئی فوری وجہ نہیں بتائی تاہم اس اقدام کو تحریک لبیک کی جانب سے 20 اپریل کو اسلام آباد کی طرف ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مارچ کرنے کے اعلان کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ اس مارچ کی کال فرانسیسی سفیر کو ملک بدر نہ کیے جانے کی صورت میں لبیک والوں نے دی تھی۔

خیال رہے کہ خادم رضوی کی وفات کے بعد ان کی جماعت کی اٹھارہ رکنی شوری نے ان کے بیٹے سعد رضوی کو تحریک لبیک کا نیا سربراہ مقرر کیا تھا۔لاہور میں خادم رضوی کے جنازے کے موقع پر ان کے بیٹے سعد نے خطاب میں اپنے والد کا مشن جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔ سعد اس وقت لاہور میں اپنے والد کے مدرسہ جامعہ ابو ذرغفاری میں درس نظامی کے آخری سال کے طالبعلم ہیں۔ درس نظامی ایم اے کے برابر مدرسے کی تعلیم کو کہا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے حکومت پاکستان نے 16 نومبر 2020 کو اسلام آباد میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے مطالبے کے ساتھ دھرنا دینے والی تحریک لبیک کے سابق سربراہ خادم حسین رضوی سے چار نکات پر معاہدہ کیا تھا جن کے تحت حکومت کو دو سے تین ماہ کے اندر پارلیمنٹ سے قانون سازی کے بعد فرانس کے سفیر کو واپس بھیجنا تھا اس معاہدے پر عمل نہ ہونے کے بعد فروری 2021 میں مذکورہ جماعت اور حکومت کے درمیان ایک اور معاہدہ ہوا جس کے تحت حکومت کو 20 اپریل تک فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے وعدے پر عمل کرنے کی مہلت دی گئی تھی۔ حال ہی میں تحریک لبیک نے کورونا وائرس وبا کے باوجود 20 اپریل تک فرانس کے سفیر کی ملک بدری نہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ یہ بھی رہے کہ حالیہ دنوں کپتان حکومت نے تحریک لبیک کے مطالبات پر مبنی قرارداد عید سے پہلے پارلیمنٹ میں لانے کا اعلان کیا تو یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ کیا ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے کوشاں پاکستان فرانسیسی سفیر کو بیدخل کرنے کا رسک لے سکتا ہے۔ واضح رہے کہ حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان ناموس رسالت ﷺ کے معاملے پر ہونے والے معاہدے کی تصدیق وزیراعظم نے خود کی تھی۔ اس سے پہلے 2020 میں فرانس میں سرکاری سطح پر نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر مسلم دنیا میں سخت ردعمل آیا تھا خاص طور پر پاکستان میں بھی اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی تھی۔ اس معاملے پر تحریک لبیک نے اسلام آباد میں احتجاج کیا تھا جسے حکومت کے ساتھ 16 نومبر کو معاہدے کے بعد ختم کردیا گیا تھا۔ اس معاہدے کے بعد 19 نومبر 2020 کو تحریک لبیک کے سربراہ خادم حسین رضوی انتقال کرگئے تھے۔ نومبر 2020 میں ہوئے اس معاہدے کے تحت حکومت پاکستان نے فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے سے متعلق 3 ماہ میں پارلیمنٹ سے فیصلہ لینا تھا، فرانس میں اپنا سفیر دوبارہ قبول نہیں کرنا تھا اور تحریک لبیک کے تمام گرفتار کارکنان کو رہا کرنا تھا۔ اگرچہ آخری مطالبہ فوری طور پر مان لیا گیا تھا لیکن پہلا مطالبہ ابھی تک زیر التوا ہے۔ چند روز قبل وفاقی حکومت نے تحریک لبیک کے مطالبات پر مبنی قرارداد عید الفطر سے پہلے پارلیمنٹ میں لانے کا اعلان کیا، یہ فیصلہ وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں کیا گیا جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر داخلہ شیخ رشید اور وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری نے بھی شرکت کی، اجلاس میں تحریک لبیک کے ساتھ معاہدے پر عمل درآمد کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ تحریک لبیک اور حکومت کے طے شدہ معاہدے پر عمل درآمد کے لیے بنائی گئی خصوصی کمیٹی اس حوالے سے دیگر جماعتوں کے ساتھ بات چیت کرے گی۔

خیال رہے کہ تحریک انصاف اور تحریک لبیک کے مابین معاملات طے پانے کے بعد ٹی ایل پی نے اپنی پچھلی ڈیڈ لائن کی تاریخ فروری سے بڑھا کر اپریل تک کر دی تھی، اس حوالے سے وزیراعظم نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ حکومت کا تحریک لبیک سے ایک معاہدہ ہو گیا ہے جس کے بعد ٹی ایل پی نے اپنے احتجاج کی ڈیڈ لائن فروری سے بڑھا کر 20 اپریل 2021 کر دی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ 20 اپریل کے بعد حکومت ٹی ایل پی کے مطالبات پارلیمنٹ میں پیش کر دے گی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ میں ٹی ایل پی اور پاکستانی عوام سے کہنا چاہتا ہوں کہ پی ٹی آئی حکومت سے قبل کسی نے نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفی ﷺ کی شان کے لیے واضح مؤقف نہیں اپنایا، میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ ہماری حکومت نے عالمی سطح پر واضح مؤقف اپنایا حالانکہ میں نے نبی ﷺ کی شان کا نعرہ لگا کر ووٹ نہیں لیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ میرا عقیدہ ہے۔ انکا کہنا تھا کہ مغربی ممالک میں نبی ﷺ کی شان میں گستاخی پلان کے تحت ہوتی ہے۔

تاہم دوسری جانب سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ فرانس نے پیرس میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے آخری اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کی مخالفت روایتی حریف بھارت سے بھی بڑھ کر کی تھی۔ اسکی بنیادی وجہ وفاقی حکومت کی جانب سے جنوری 2021 میں علامہ خادم حسین رضوی کی جماعت تحریک لبیک کے ساتھ کیا جانے والا معاہدہ تھا۔ فرانس کا موقف تھا کہ حکومت پاکستان ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر عمل درآمد کرتے ہوئے شدت پسند تنظیموں کو ختم کرنے کی بجائے انکے ساتھ معاہدے کر رہی ہے لہذا اسے گرے لسٹ سے نکالنے کا کوئی جواز نہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب عمران خان حکومت اس معاملے پر دونوں جانب سے مشکل میں پھنس چکی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close