سعد رضوی کی گرفتاری پر ملک بھر میں احتجاج جاری

پاکستان کے شہر لاہور میں پولیس کی جانب سے مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد رضوی کو حراست میں لیے جانے کے بعد سے ملک کے مختلف شہروں میں مظاہروں کا سلسلہ ایک بار پھر شروع کر دیا گیا ہے جس کے باعث متعدد علاقوں میں نظام زندگی متاثر ہوا ہے۔
اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے جاری احتجاج کی وجہ سے بند شاہراہوں کو کھولنے کے احکامات دے دیے گئے ہیں۔ اجلاس میں احتجاج کی وجہ سے پیدا ہونے والی امن وامان کی صورت حال کا بھی جائزہ لیا گیا جس میں پنجاب پولیس کے سربراہ اور چیف سکریٹری ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے جب کہ اسلام آباد کے چیف کمشنر اور آئی جی کے علاوہ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری نے بھی شرکت کی۔ دوسری جانب حکام نے مظاہروں والے علاقوں میں انٹرنیٹ سروسز بند کرنے کا حکم دیا ہے تاہم موبائل سروس بغیر تعطل جاری ہے۔ اٹھال چوک بھارہ کہو اسلام آباد اس وقت مکمل دونوں اطراف سے بند ہے جب کہ ٹی ایل پی کے سو سے زیادہ کارکن مری سے اسلام آباد آنے والی روڈ پر چٹائیاں لگا کر بیھٹے نعرہ بازی کر رہے ہیں اور وقفہ وقفہ سے تقریریں کر رہے ہیں جن کےلیے ساؤنڈ اسپیکرز استعمال ہو رہے ہیں۔ خبروں کے مطابق چند ڈنڈا برداروں نے کچھ مقامات پر ناکہ بھی لگا رکھا ہے۔
اس کے علاوہ روات سے اسلام آباد آنے والا راستہ بند ہے جب کہ راولپنڈی کی مری روڈ پر لیاقت باغ چاندنی چوک بند ہے۔ خبروں کے مطابق پشاور سے اسلام آباد آنے والی ٹریفک بھی ترنول سے آگے بند ہے اور پشاور کی طرف جانے والی ٹریفک بھی ترنول سے بند ہے۔ ادھر پشاور کی رنگ روڈ پر تحریک لبیک کے کارکنوں کا احتجاج شروع ہوگیا ہے جس کےلیے سڑک کو ایک جانب سے بند کیا ہوا ہے جب کہ دوسری جانب سے ٹریفک رواں ہے۔ قومی شاہراہوں کی نگراں پولیس کی جانب سے ٹویٹ کی گئی تھی کہ ملک بھر کی تمام موٹر ویز ٹریفک کےلیے کھول دی گئی ہیں۔ گوجرانوالہ میں پولیس اور تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں میں وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری ہیں۔ اور پولیس نے جی ٹی روڈ پر واقع چندا قلعہ چوک کو لاٹھی چارج کے بعد خالی کروالیا ہے۔ اسلام آباد سے لاہور بذریعہ جی ٹی روڈ آنے جانے کےلیے اس چوک سے روزانہ ہزاروں گاڑیاں گزرتی ہیں اور اگر یہ چوک بند ہو تو اسلام آباد سے لاہور کا سفر کرنے کےلیے جی ٹی روڈ پر کوئی متبادل رستہ موجود نہیں۔ گوجرانوالہ پولیس کے حکام کے مطابق مظاہرین سے نمٹنے کےلیے پنجاب پولیس کی کبڈی ٹیم کے کھلاڑیوں کو بھی میدان میں اتار دیا گیا۔ تحریک لبیک کے کارکنوں نے کبڈی کھلاڑیوں پر بھی پتھراؤ کیا تاہم پولیس حکام کے مطابق گوجرانوالہ پولیس ایک بار پھر چندا قلعہ چوک سے مظاہرین کو بھگانے میں کامیاب ہوگئی اور چوک کو مکمل طور پر صاف کر دیا گیا ہے اور ٹریفک بحال کروانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ شہریوں میں احساس تحفظ پیدا کرنے کےلیے لاہور پولیس نے فلیگ مارچ کا انعقاد کیا جس میں لاہور پولیس کے ڈولفن، پیرو اور ایلیٹ فورسز کے دستوں نے حصہ لیا۔ اس کے علاوہ ٹریفک پولیس، ایٹنی رائٹ فورس اور ابابیل فورس نے بھی اس مارچ میں شرکت کی۔ لاہور پولیس کے سی سی پی او نے کہا کہ پولیس شہریوں کی حفاظت کےلیے ہر وقت الرٹ ہے۔ دوسری جانب حکام کے مطابق ٹی ایل پی کے کارکنوں کی جانب سے جاری احتجاج کے باعث شہر کے کم از کم 17 علاقے بند ہیں جن میں ‏شاہدرہ چوک، خیابان چوک، ایل ڈی اے چوک، کوٹ عبدالمالک، موہلنوال، چونگی امرسدھو، کوٹلی گھاسی بند روڈ، داروغہ والا چوک اور چوک یتیم خانہ مکمل بند ہیں۔ ادھر لاہور میں شہر کی نگرانی کےلیے مامور پنجاب سیف سیٹیز اتھارٹی کے مطابق صبح 11 بجے تک شہر کے کم از کم 17 مقامات ’بوجہ احتجاج ٹریفک بند ہیں‘ اور شہریوں سے متبادل راستے اختیار کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
کراچی شہر کے چند علاقوں میں تحریک لبیک پاکستان کے دھرنے ابھی تک جاری ہیں جب کہ بیشتر دھرنے گزشتہ رات پولیس کی مداخلت اور شیلنگ کے بعد ختم کردیے گئے تھے۔ کراچی کے علاقے حب ریور روڈ پر بلدیہ نمبر چار، پاور ہاؤس چورنگی نارتھ کراچی، کورنگی روڈ پر کورنگی نمبر ڈہائی پر دھرنوں کی وجہ سے ٹریفک کا رخ موڑا گیا ہے جب کہ گزشتہ شب ٹاور، حسن اسکوائر، شاہراہ فیصل سمیت درجن کے قریب مقامات پر دھرنا دیا گیا تھا جس کے باعث سڑکوں پر بری طرح ٹریفک متاثر ہوا۔ یاد رہے کہ رات گئے پولیس نے مداخلت کرکے یہ دھرنے ختم کرائے تھے۔ گزشتہ روز سے شروع ہونے والے مظاہروں کا سلسلہ آج صبح بھی جاری ہے اور شہر خضدار میں کوئٹہ کراچی ہائی وے تاحال بند ہے اور شرکا گزشتہ روز جاں بحق ہونے والے کارکن کی لاش کے ہمراہ احتجاج کررہے ہیں۔ خضدار سٹی پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او گل حسن نے بتایا کہ مظاہرین نے شاہراہ پر رکاوٹیں کھڑی کرکے اسے بلاک کیا ہے جس کے باعث لوگوں کو پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ خضدار میں گزشتہ روز سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد تحریک لبیک کے کارکن احتجاج کےلیے جمع ہوئے تھے جس دوران ایک نوجوان کارکن انتقال کر گیا تھا۔ تحریک لبیک کے مقامی رہنماﺅں نے کارکن کی موت کی ذمہ داری پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کے علاوہ گولی چلائی جس سے نوجوان کی موت ہوئی۔ تاہم ایس ایچ او پولیس نے گولی چلانے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مشتعل افراد نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔ اس کے علاوہ کراچی سے متصل حب کے علاقے میں بھی تحریک لبیک کے کارکنوں نے کوئٹہ کراچی ہائی وے کو بلاک کر دیا۔ حب میں شاہراہ کو گزشتہ روز بند کیا گیا تھا تاہم رات کو مذاکرات کے بعد اسے کھول دیا گیا تھا لیکن صبح اسے دوبارہ بند کیا گیا۔ گزشتہ شب ڈیرہ مراد جمالی کے علاقے میں کوئٹہ جیکب آباد روڈ کو بلاک کیا گیا تھا لیکن مقامی پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ پولیس نے رات کو ہی کارروائی کرکے روڈ کو کلیئر کردیا تھا۔ اہلکار نے بتایا کہ اس وقت ڈیرہ مراد جمالی کے علاقے میں روڈ کھلا ہے۔ پولیس کی جانب سے گزشتہ روز لاہور میں سعد رضوی کی گرفتاری کی کوئی فوری وجہ نہیں بتائی گئی تاہم اس اقدام کو تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے 20 اپریل کو اسلام آباد کی طرف ناموس رسالت مارچ کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ اس مارچ کی کال حکومت کی جانب سے اس تاریخ تک فرانسیسی سفیر کو ملک بدر نہ کیے جانے کی صورت میں دی گئی ہے۔ سعد رضوی کو پیر کی دوپہر اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ ایک جنازے میں شرکت کےلیے جارہے تھے۔ ان کی حراست کی خبر عام ہوتے ہی تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں نے لاہور، کراچی،، اسلام آباد اور راولپنڈی کے علاوہ کئی دیگر شہروں میں مظاہرے شروع کر دیے۔ کارکنوں نے ان شہروں میں اہم سڑکیں اور شاہراہیں بھی بند کر دیں جس کی وجہ سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا۔ لاہور میں چوک یتیم خانہ کے علاقے میں پولیس نے سڑک بند کرنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کےلیے آنسو گیس استعمال کی ہے جب کہ کارکنوں نے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ بھی کیا۔ لاہور میں فیروز پور روڈ سمیت کئی دیگر سڑکوں کو بھی رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کر دیا گیا تھا۔ لاہور میں پولیس نے تحریک لبیک کے مدارس اور کارکنان کے گھروں پر چھاپے مارنا شروع کر دیے ہیں جس کے بعد متعدد کارکنان گرفتاریوں سے بچنے کی غرض سے روپوش ہو گئے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں فیض آباد اور بھارہ کہو کے مقامات پر احتجاج کی اطلاعات ہیں اور پولیس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مری سے آنے اور جانے والی ٹریفک متبادل راستے اختیار کرے۔ ٹریفک پولیس کے مطابق مری روڈ پر بھی مختلف مقامات پر مظاہروں کی اطلاعات ہیں جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق صورت حال پر قابو پانے کےلیے رینجرز اور پولیس کی نفری تعینات کر دی گئی تھیں۔ گزشتہ روز گوجرانوالہ شہر میں تحریک لبیک کے ڈنڈا بردار کارکنوں نے احتجاج کے دوران پولیس اہلکاروں کو مارا پیٹا گیا اور ایک پولیس وین کے شیشے توڑ دیے۔ احتجاج کے دوران گوجرانوالہ میں بھی جی ٹی روڈ کو بند کر دیا گیا تھا جس کی وجہ سے گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔ گوجرانوالہ کے علاوہ فیصل آباد میں بھی ٹی ایل پی کے کارکنوں اور پولیس اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں کی خبریں موصول ہوئی تھیں۔ پاکستان کی وفاقی حکومت نے 16 نومبر 2020 کو اسلام آباد میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے مطالبے کے ساتھ دھرنا دینے والی تحریک لبیک پاکستان کے سابق سربراہ خادم حسین رضوی سے چار نکات پر معاہدہ کیا تھا جن کے تحت حکومت کو دو سے تین ماہ کے اندر پارلیمنٹ سے قانون سازی کے بعد فرانس کے سفیر کو واپس بھیجنا تھا، اس معاہدے پر عمل نہ ہونے کے بعد فروری 2021 میں مذکورہ جماعت اور حکومت کے درمیان ایک اور معاہدہ ہوا جس کے تحت حکومت کو 20 اپریل تک فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے وعدے پر عمل کرنے کی مہلت دی گئی تھی۔ حال ہی میں تحریک لبیک نے کورونا وائرس وبا کے باوجود 20 اپریل تک فرانس کے سفیر کی ملک بدری نہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ گزشتہ برس خادم رضوی کی وفات کے بعد ان کی جماعت کی اٹھارہ رکنی شوری نے ان کے بیٹے سعد رضوی کو تحریک لبیک کا نیا سربراہ مقرر کیا جس کا اعلان جماعت کے مرکزی نائب امیر سید ظہیر الحسن شاہ نے جنازے کے موقع پر کیا۔ لاہور میں خادم رضوی کے جنازے کے موقع پر ان کے بیٹے سعد رضوی نے خطاب میں اپنے والد کا مشن جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close