اعظم سواتی نے رائل پام کلب کا قبضہ دوست کو دے دیا

وزیر ریلوے اعظم خاں سواتی نے دوست نوازی کی نئی مثال قائم کرتے ہوئے اپنے ایک دوست شاہ رخ کو امریکہ سے بلوا کر پہلے تو اپنا مشیر مقرر کیا اور پھر اسے دنڈے کے زور پر ریلوے کے زیر انتظام چلنے والے رائل پام گالف اینڈ کنٹری کلب لاہور کا انتظامی کنٹرول بھی دلوا دیا۔ یوں اب اعظم خان اور شاہ رخ کی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہے۔

بتایا گیا ہے کہ شاہ رخ خان ریلوے پولیس اور ریلوے گارڈز کی بھاری نفری کے ہمراہ رائل پام گالف اینڈ کنٹری کلب میں زبردستی گھس کر اسکا انتظامی کنٹرول سنبھال چکے ہیں جبکہ کلب کے چیف فنانشل آفیسر سے زبردستی استعفیٰ لے لیا گیا ہے۔ کنٹری کلب کے جنرل مینجر اور ڈائریکٹر فوڈ اینڈ بیوریجز کو بیدخل کر کے انکا داخلہ بند کر دیا گیا ہے اور ان پر بھی استعفے دینے کیلئے دباو ڈالا جا رہا ہے لیکن وہ ابھی تک ایسا کرنے سے انکاری ہیں۔ کنٹری کلب کے انجنیئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ پر بھی استعفے کیلئے دباو ہے اور انکا داخلہ بھی بند کر دیا گیا ہے۔ شاہ رخ نے کلب کا کنٹرول لینے کے فوری بعد اپنے ایک قریبی ساتھی کو چیف فنانشل آفیسر بنا دیا ہے حالانکہ اسکی بنیادی قابلیت بھی اکاوئنٹس اور فنانسنگ کی نہیں یے۔ اسی طرح رائل کنٹری کلب کے گالف کورس مینجر روشن کو بھی شاہ رخ انتظامیہ نے ریلوے پولیس کے ذریعے دھمکیاں دی ہیں اور ان سے بھی استعفی مانگا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا یے کہ شاہ رخ بطور مشیر وزیر ریلوے اعظم سواتی کے زبانی احکامات پر کنٹری کلب کے امور چلا رہے ہیں اور کوئی تحریری حکم نہیں دے رہے جس کو کسی عدالت میں چیلنج کیا جا سکے۔ کلب ملازمین کی برخاستی اور نئی بھرتیوں کے احکامات بھی زبانی جاری کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح انٹر ڈیپارٹمنٹل تبادلے بھی کیے جا رہے ہیں اور پرانے ملازمین کو نئی انتظامیہ کا ساتھ دینے پر ترقیوں کا لالچ بھی دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا یے کہ قوائد و ضوابط کے تحت چیئرمین ریلوے کی سربراہی میں ایک مینجمنٹ کمیٹی کے ذریعے کنٹری کلب کے امور چلائے جاتے ہیں جبکہ شاہ رخ بطور مشیر وزیر ریلوے مینجمنٹ کمیٹی سے کوئی منظوری لیے بغیر ہی تمام معاملات چلا رہے ہیں اور فیصلے کر رہے ہیں ۔اس صورتحال سے کنٹری کلب کے ملازمین خوفزدہ ہیں اور کلب ممبران میں بھی تشویش پھیل چکی ہے ۔کلب کےمتاثرہ اعلیٰ انتظامی افسران بشمول وائس پریزیڈنٹ احمد اقبال سعید، سی او علی ایوب اور ڈائریکٹر فوڈ اینڈ بیوریجز محمد امتیاز نزیر نے کلب صورتحال کی سنگینی پر سیکرٹری ریلوے اور سی ای او ریلوے کو ایک خط بھی لکھا ہے اور الزام لگایا ہے کہ انہیں ہراساں کیا جارہا ہے اور زبردستی استعفے لینے کیلئے دباو ڈالا جارہا ہے۔ متائثرہ ملازمین نے کلب کا غیر قانونی قبضہ واپس کرنے اور برخاست شدہ ملازمین کی بحالی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ انکا کہنا یے کہ بصورت دیگر وہ اس معاملے پر سپریم کورٹ سے بھی رجوع کر سکتے ہیں۔ متاثرہ انتظامی افسران نے وزیر ریلوے کی جانب سے کلب کے امور زبردستی اپنے دوست کو سونہنے کے فیصلے کو سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ پہلے ہی یہ قراردے چکی ہے کہ کنٹری کلب ممبرز کے رائیٹس کسی بھی صورت متاثر نہیں ہونے چاہیئں جبکہ ملازمین کو بھی تبدیل نہیں کیا جائے گا۔سپریم کورٹ نے پرائیویٹ سیکٹر میں کلب چلانے کیلئے نئی انٹرنیشنل بڈنگ کروانے کا حکم بھی دیا تھا اور اس حوالے سے ٹینڈرز بھی تیار ہوچکے تھے لیکن پھر اعظم سواتی نے کلب کا قبضہ لے لیا اور یہ عمل روک دیا۔

یاد رہے کہ لاہور شہر میں 140 ایکٹر قیمتی اراضی پر بنایا گیا رائل پام گاف اینڈ کنٹری کلب ریلوے کے زیر انتظام چلنے والا واحد منافع کمانے والا ادارہ ہے۔لیخن اب کلب میں پیدا ہونے والے انتظامی بحران کے باعث اس ادارے کے بھی خسارے میں چلے جانے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ متاثرہ انتظامی افسران اور ملازمین نے وزیراعظم پاکستان اور چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پا کستان سے اس معاملے میں مداخلت کی اپیل کی ہے۔ جب وفاقی سیکرٹری ریلوے حبیب الرحمن گیلانی سے پوچھا گیا کہ شاہ رخ نامی شخص نے رائل پام گاف اینڈ کنٹری کلب کا کنٹرول کس حثیت میں لیا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ وہ وزیر ریلوے کے مشیر کے طور پر کلب کے امور کو سپروائز کر رہے ہیں۔ دوسری جانب وزیر ریلوے اعظم خان سواتی کا کہنا ہے کہ شاہ رخ صرف میرا دوست ہی نہیں بلکہ ایک محب وطن پاکستانی بھی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ میں نے رائل پام کا کنٹرول اچھے ہاتھوں میں دیا ہے اور اب نہ تو کوئی مافیا رائل پام کنٹری کلب میں داخل ہو سکتا ہے اور نہ ہی ریلوے ملازمین کی کسی قسم کی کوئی بلیک میلنگ چلے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close