عمران اور ترین میں سے کون کس کا جھٹکا کرے گا؟


بے رحم سیاست کے میدان میں کب کوئی ’’ہے‘‘ سے ’’تھا‘‘ میں بدل کر حال سے ماضی کا قصہ بن جائے اس کی خبر کسی کو نہیں۔ کل تک جہانگیر خان ترین تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل اور عمران خان کے سب سے قریبی مشورہ نویس تھے اور پارٹی میں انکا طوطی بولتا تھا۔ لیکن آج وہ خود زیر عتاب ہیں اور اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس جنگ میں عمران خان ترین کو شکست دیتے ہیں یا ترین عمران کو زیر کرتے ہیں؟
یاد رہے کہ جہانگیر ترین ہی نے پارٹی میں الیکٹ ایبلز کو بڑی تعداد میں شامل کروا کر عمران کو اقتدار دلوانے میں بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ترین نے ایک کامیاب کاروباری ہونے کی وجہ سے سیاست کو بھی کارپوریشن بنا کر پی ٹی آئی کو جدت سے روشناس کروایا۔ انہوں نے 2018 کے الیکشن سے پہلے ہر حلقے میں پارٹی کے ووٹ اور امیدوار کے ووٹ کا حساب کتاب لگا کر موزوں ترین امیدوار میدان میں اتارے اور پی ٹی آئی کو کامیاب کروایا۔
آج جو لوگ عمران خان کے عتاب کا سامنا کرنے والے جہانگیر ترین کے ساتھ عدالتوں میں جا رہے ہیں یہ وہی ہیں جن کو ترین نے پی ٹی آئی میں شامل کروا کر کے ٹکٹ دلائے تھے۔ عمومی طور پر محسن کش قرار دیے جانے والے عمران خان نے کل کے کنگ میکر جہانگیر ترین کا اب یہ حال کر دیا ہے کہ وہ تحریک انصاف سے انصاف مانگتے ہوئے یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ تحریک انصاف تو اقتدار میں آگئی لیکن انصاف کا جنازہ نل گیا۔ ترین کا موقف کس حد تک درست ہے یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ انکے خلاف ہونے والی کارروائی کے پیچھے عمران خان ہی کا ہاتھ ہے چونکہ پاکستان میں ایف آئی اے ہو یا پھر نیب، کپتان کی مرضی کے بغیر کسی کے خلاف کوئی ایکشن نہیں ہوسکتا۔ اس کارروائی کے جواب میں ترین نے اپنے حمایتی ممبران صوبائی اور قومی اسمبلی کو اکٹھا کر کے ایک بڑا پاور شو کر دیا ہے جس کے بعد سے تحریک انصاف کے اندر فاورڈ بلاک بنائے جانے کی افوائیں زبان زد عام ہیں۔
اس بدلتی ہوئی سیاسی صورت حال میں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی ترین کے واری صدقے جا رہی ہیں اور چاہتی ہیں کہ وہ اپنے الیکٹیبلز سمیت ان کی جماعت میں شامل ہو جائیں۔ لیکن ترین کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ ابھی تحریک انصاف کا حصہ رہیں گے اور اگر ان کے خلاف کارروائیوں میں مذید تیزی آئی تو پھر ایک فارورڈ بلاک بنائے جانے پر غور کیا جا سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا یے کہ جس قدر اصولی موقف پاکستانی سیاست میں پچھلے چھ ماہ میں ٹکڑے ہوئے ہیں شاید ہی پہلے کبھی ایسا ہوا ہو۔ حالات یہ ہیں کہ ایک بات جمعہ کو حکومت کی جانب سے غلط قرار دی جاتی ہے‘ لیکن ہفتے کے روز وہ جائز قرار دیدی جاتی ہے۔ جو آج حلال ہے وہ کل حرام قرار پاتا ہے۔ کل تک جہانگیر ترین عمران خان کی اے ٹی ایم تھے اور انکا کچن بھی چلاتے تھے۔ کپتان صبح و شام ترین کے جہاز کے جھولے لیا کرتے تھے اور انکی آپسی قربت کا یہ عالم تھا کہ بقول ریحام خان عمران نے تو انہیں طلاق بھی ترین سے مشورہ کر کے دی تھی۔ ترین الہ دین کا وہ چراغ تھے جو عمران خان کی ہر خواہش کو چٹکی بجاتے میں پورا کیا کرتے تھے۔ اس وجہ سے ماضی میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز ترین بارے کیا کچھ نہیں کہتی رہیں۔ لیکن اب ساری اپوزیشن جہانگیر ترین کے ساتھ ہے اور ان کے اصولی موقف کو سراہ رہی ہے۔ کل تک اپوزیشن کا احتساب کرنے والی کپتان حکومت کے بانی جہانگیر ترین طاقتور لوگوں کے بلا خوف و خطر احتساب کا مطالبہ کیا کرتے تھے لیکن آج وہ خود انصاف کے طالب ہیں اور اپوزیشن بھی ترین کی جانب سے احتساب کے عمل کو جانبدار اور متنازع قرار دینے پر انکی ہاں میں ہاں ملا رہی ہے۔
جہانگیر ترین ضمانت کے لیے عدالت گئے تو ان کے ساتھ تحریک انصاف کے 22 اراکین پنجاب اسمبلی، آٹھ اراکین قومی اسمبلی اور درجن بھر ٹکٹ ہولڈرز تھے۔ ترین نے آصف زرداری سے رابطے کی بات ہنس کر ٹال دی لیکن پھر کپتان سے پوچھا کہ وہ تو انکے دوست تھے، انکو دشمنی کی طرف کیوں دھکیلا جا رہا ہے۔ اس کے بعد ترین نے ماڈل ٹاؤن لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر ایک بڑے کھانے کا اہتمام کیا جس میں تیس کے قریب اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی شریک ہوئے۔ یاد رہے کہ مرکز میں عمران حکومت کو ہٹانے کے لئے لگ بھگ اتنے ہی ووٹ درکار ہیں جتنے پنجاب میں عثمان بزدار کو رخصت کرنے کے لئے چاہئیں۔ لہٰذا جہانگیر ترین نے اپنے پتے شو کر دیے ہیں اور اب وزیراعظم نے فیصلہ کرنا ہے کہ انہوں نے ترین کیخلاف کارروائی کو آگے بڑھانا ہے یا اپنی حکومت بچانے کے لیے پیچھے ہٹ جانا ہے۔
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ جہانگیر ترین کا معاملہ عمران خان اور قومی سیاست کے لئے حساس بنتا جا رہا ہے۔ یہ ایک سچ یے کہ ماضی میں عمران اور ترین کی گہری دوستی رہی ہے‘۔ ہماری روایات میں دوستوں کے جائز ناجائز کام کی حمایت کو یار داری اور جی داری کا نام دیا جاتا ہے۔ عمران خان نے بلا امتیاز احتساب کی جو بات کی ہے وہ اس بیانیے سے ہم آہنگ نہیں، اگرچہ قابل قدر ہے۔ لیکن ترین کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ عمران خان کا موقف اصولوں پر نہیں بلکہ ذاتیات پر مبنی ہے اور وہ ترین سے صرف اس لیے ناراض ہیں کہ کسی نے انکے کان میں یہ بات ڈال دی کہ سینیٹ الیکشن میں ترین نے حفیظ شیخ کی بجائے یوسف رضا گیلانی کو سپورٹ کیا۔ پی ٹی آئی کے لئے ترین کا معاملہ اس لئے حساس ہے کہ اس کی پنجاب اور مرکز کی دونوں حکومتیں ترین کے کروٹ لینے سے ختم ہو سکتی ہیں اور قومی سیاست پر اس کا اثر یہ پڑ سکتا ہے کہ نوبت اسمبلیاں تحلیل ہونے تک جا سکتی ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ وقت گزرنے کے سات امکان ہے کہ ترین کو آہستہ آہستہ اپوزیشن کی اور بھی ذیادہ حمایت ملنے لگے اور انکے باہمی رابطے بڑھ جائیں۔ تب سب کو پتہ چل جائے گا کہ ’’تھا‘‘ کا مطلب کیا ہوتا ہے اور ترین کس شخص کو ماضی کا قصہ بنانے کے منصوبے پر کام کر رہا ’’تھا‘‘۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close