کپتان نے ترین کے خلاف ایکشن روکنے کا مطالبہ مسترد کردیا


وزیراعظم عمران خان نے جہانگیر ترین کے حامی اراکین قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی جانب سے ایک خط میں کیا جانے والا یہ مطالبہ مسترد کر دیا ہے کہ ترین کے خلاف شوگر سکینڈل میں ہونے والی ایف آئی اے کی کارروائی کو روکا جائے اور انکو گلے شکوے کرنے کے لیے وزیر اعظم سے ملاقات کا موقع دیا جائے۔
یاد رہے کہ 10 اپریل کو اپنی عدالتی پیشی کے دوران دو درجن سے زائد ممبران صوبائی اور قومی اسمبلی کا ساتھ دکھانے والے جہانگیر ترین کے حق میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں نے وزیر اعظم عمران خان کو ایک خط لکھ کر انکے خلاف انتقامی کاروائی کا نوٹس لینے کی استدعا کی تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ ان کے خلاف فوجداری مقدمات ختم کیے جائیں۔ حکومتی اراکین اسمبلی نے وزیر اعظم سے ملاقات کا وقت بھی مانگا تھا تاکہ ترین اپنی پوزیشن واضح کر سکیں، کیونکہ ان کے خیال میں انہیں ایک سازش کے تحت ’انتقامی کارروائی‘ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ترین کے حق میں خط لکھنے کا فیصلہ اراکین پارلیمنٹ کے اعزاز میں 9 اپریل کی رات انکے گھر ہونے والے گرینڈ ڈنر کے دوران کیا گیا تھا جس پر پنجاب سے تعلق رکھنے والے کم از کم تیس ایم این ایز اور ایم پی ایز نے دستخط کیے تھے۔
تاہم حکومتی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم نے اراکین اسمبلی کے خط کو مسترد کرتے ہوئے ترین کے خلاف ایف آئی اے کی کارروائی میں مداخلت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان نے ترین کی جانب سے اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی کو اپنے ساتھ عدالت لے جانے اور اس کے بعد ان سے اپنے حق میں ایک خط لکھوانے کے عمل کو بلیک میلنگ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ بے لاگ احتساب کے معاملے میں کسی دباؤ میں نہیں آئینگے اور نہ ہی کسی ادارے کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالیں گے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ ترین کی جانب سے 30 اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی کا ساتھ دکھائے جانے کے باوجود وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے جہانگیر ترین کی غیر ملکی جائیداد کی تحقیقات کا آغاز بھی کردیا ہے اور انہیں پوری تفصیل اور منی ٹریل فراہم کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین نے احتساب کے لیے خود کو پیش کرنے کی بجائے اپنے ساتھ پی ٹی آئی کے اراکین کو کھڑا کر کے اپنے لیے مسائل میں مذید بھی اضافہ کر دیا یے۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے 30 قانون سازوں، جن میں 22 ایم پی ایز اور 8 ایم این ایز شامل ہیں، کی کھلی حمایت بھی ترین کے لیے نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو پائی کیونکہ عمران خان کے قریبی لوگ ترین کے اس اقدام کو بلیک میلنگ کا رنگ دینے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کی جانب سے ترین کے معاملے میں ایف آئی اے پر اثر انداز نہ ہونے کے فیصلے کے بعد وفاقی ادارے نے ترین کو ہدایت کی ہے کہ وہ یا تو پیش ہوں یا اپنے چیف فنانشل افسر کو بھیجیں تاکہ وہ اپنے اور اپنے اہلخانہ کے غیر ملکی اثاثوں کا ریکارڈ اور منی ٹریل پیش کرسکیں۔ ایف آئی اے نے برطانیہ میں ہیمپشائر میں نیوبری کے مقام پر ان کے اہلخانہ کے 12 ایکڑ پر مشتمل ہائیڈ ہاؤس کی تفصیل بھی طلب کی۔ ان سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ دنیا میں کہیں بھی ان کے اور ان کے اہلخانہ کے اثاثوں کی مکمل تفصیلات فراہم کرے کہ ‘ان اثاثوں کو ایف بی آر میں ظاہر کیا گیا ہے یا نہین؟
ایف آئی اے نے ترین کو متنبہ کیا کہ اگست 2020 کے بعد سے بار بار کی درخواستوں کے باوجود ان کی کال اپ نوٹس کی تعمیل اور متعلقہ ریکارڈ پیش کرنے میں مسلسل ناکامی سے یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ یہ سب جان بوجھ کر کیا جارہا رہا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے ایف آئی اے نے ‘شوگر اسکینڈل’ میں ترین اور ان کے بیٹے علی کے خلاف 5 ارب روپے کی منی لانڈرنگ اور فراڈ کے الزامات کے تحت دو ایف آئی آر درج کی تھیں۔ دونوں باپ اور بیٹا اس وقت 17 اپریل تک عبوری ضمانت پر ہیں۔
دوسری جانب جہانگیر ترین کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان نے جہانگیر ترین کے معاملے میں انصاف نہ کیا تو پھر وہ تحریک انصاف کا حصہ بنے رہنے کے بارے میں دوبارہ سوچیں گے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف میں اب بڑھتی ہوئی گروپ بندی اور انتشار کا عمل تیز ہو چکا ہے اور پارٹی اور حکومت عمران خان کی مٹھی سے ریت کی طرح آہستہ آہستہ سرک رہی ہے۔ سیاسی عدم استحکام، کمر توڑ مہنگائی، بے روزگاری، بڑھتی ہوئی غربت اور بد ترین حکومتی کارکردگی کی وجہ سے عمران خان کی عوامی مقبولیت بھی اب تیزی سے کم ہو رہی ہے۔
ناقدین کہتے ہیں کہ اقتدار کے تیسرے برس میں عمران خان کا طلسم ٹوٹ چکا ہے اور وہ اپنی عدم مقبولیت کے عروج پر ہیں۔ اسی لیے اب کپتان کو سلیکٹ کرنے والے سلیکٹرز بھی سامنے آ کر حکومت کی گرتی ساکھ اور بدنامی کا بوجھ اٹھانے کو تیار نظر نہیں آ رہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کی رائے میں اگر بدلتے ہوئے سیاسی حالات میں تحریک انصاف کے اندر کوئی فارورڈ گروپ بنتا ہے اور حکومت گرتی ہے تو اسکے خاتمے کے ساتھ ہی پی ٹی آئی کا شیرازہ بھی مکمل طور پر بکھر جائے گا اور اس کا انجام بھی ماضی کی کنگز پارٹیوں یعنی جنرل ایوب خان کی بنائی کنوینشن مسلم لیگ اور جنرل مشرف کی بنائی مسلم لیگ ق جیسا ہو گا۔
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ تحریک انصاف حکومت اس سال گرتی ہے یا اگلے برس، مگر ڈیپ سٹیٹ نے ایک نئی کنگز پارٹی کھڑی کرنے کا سوچنا شروع کر دیا ہے۔ پاکستانی سیاسی تاریخ پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان عوام میں اپنی کرشماتی مقبولیت بری طرح کھو چکے ہیں اور حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی ان کے سیاسی کیرئیر کا سورج بھی غروب ہو جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close