کیا اداکارہ میرا واقعی ذہنی مریضہ بن چکی ہیں؟


’اٹ از آل بل شِٹ۔ بھلا میں کیوں پاگل ہونے لگی۔ پاگل ہوں میرے دشمن۔۔۔‘
متنازعہ پاکستانی اداکارہ میرا نے یہ الفاظ ایک سینئیر صحافی کو ایک ایسے موقع پر کہے جب میڈیا پر ان سے متعلق یہ خبر آئی کہ انھیں امریکہ کے ایک پاگل خانے یا ’ذہنی صحت کے مرکز میں علاج کے لیے‘ داخل کروا دیا گیا ہے۔ تاہم تھوڑی ہی دیر بعد میرا نے اپنا پہلا موقف تبدیل کرتے ہوئے اسی صحافی کے سامنے یہ تسلیم کیا کہ وہ ڈپریشن کا شکار تھیں، اس لیے انہیں ہسپتال جانا پڑا، لیکن وہاں انہیں پاگل سمجھ لیا گیا اور ذہنی صحت کے مرکز بھجوا دیا گیا جہاں انہوں نے اذیت ناک راتیں کاٹیں۔
اصل میں میرا کے پاگل خانے جانے کی خبر تب مارکیٹ ہوئی جب ان کی والدہ شفقت بیگم نے ایک ویڈیو پیغام میں وزیر اعظم عمران خان سے اپیل کی کہ میرا کو امریکی پاگل خانے سے نکلوانے کے لیے حکومتی سطح پر اقدامات کیے جائیں۔ یاد رہے کہ پچھلے برس بھی جب میرا کرونا کی پہلی لہر کے دوران امریکہ گئی تھیں تو وہ ایک ویڈیو پیغام کی وجہ سے خبروں میں آ گئی تھیں جس میں انہوں نے عمران خان سے اپیل کی تھی کہ وہ انہیں ملک واپس لانے کے لیے حکومتی سطح پر اقدامات کریں کیونکہ لاک ڈاؤن کے باعث وہ ایک ہوٹل میں مقیم ہیں اور ان کے پاس پیسے ختم ہو چکے ہیں۔
امریکہ میں میرا کے پاگل خانے بھجوائے جانے کی خبریں سامنے آنے کے بعد یہ خبر سامنے آئی کہ وہ گھر واپس آ گئی ہیں اور انہوں نے پاگل خانے جانے کی خبروں کی تردید کی یے۔
ایک سینئر صحافی کے ساتھ امریکہ سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے میرا نے بتایا کہ انکی مخالف لابی میری کردار کشی کرتی رہتی ہے تاکہ انکے سٹارڈم کو خراب کیا جائے سکے۔ انکا کہنا تھا کہ وہ ایک نجی دورے پر امریکہ گئی تھیں۔ اسی دوران ان کا ایک ہسپتال جانا بھی ہوا۔ جب ان سے دریافت کیا گیا کہ نیویارک کے بروکلین ہسپتال میں انکے ساتھ کیا ہوا تھا تو انھوں نے بتایا کہ بروکلین ہسپتال میں انہیں کرونا ویکسین لگائی گئی اور معمول کے ٹیسٹ کیے گئے۔ لیکن کیا واقعی انھیں ذہنی صحت کے علاج کے کسی مرکز لے جایا گیا، اس سوال پر میرا کا کہنا تھا کہ ’اس وقت امریکہ میں آدھی رات کا وقت ہے اور میرے گھر میں سب سو رہے ہیں۔ میں تفصیل سے بات نہیں کرسکتی۔‘
لیکن یہ کہنے کے بعد میرا نے واٹس ایپ پر پیغام کے ذریعے بات چیت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ‘امریکہ میں مجھے ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔”میں ڈپریشن کا شکار تھی، اس لیے مجھے ہسپتال جانا پڑا لیکن وہاں مجھے پاگل سمجھ لیا گیا اور میرا ٹیلی فون بھی مجھ سے چھین لیا گیا۔’ میرا نے کہا کہ ‘پاگل پن اور ڈپریشن میں فرق ہوتا ہے، جسے سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن امریکہ میں میرے ساتھ یہ امیتاز نہ کیا گیا اور مجھے بند کردیا گیا۔‘’میں ساری رات چیختی اور پکارتی رہی۔ وہ بہت ہی ڈرؤانی اور منحوس رات تھی، میں رات بھر مدد کے لیے پکارتی رہی اور کوئی میری مدد کو نہ آیا۔
‘اگلے روز میری والدہ نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور وزیر داخلہ شیخ رشید سے میری رہائی کی اپیل کی۔
میرا نے یہ انکشاف بھی کیا کہ امریکہ میں ذہنی صحت کے مرکز سے ان کی رہائی شیخ رشید کے فون سے ممکن ہو پائی جنھوں نے ‘امریکہ میں پاکستانی سفارتخانے سے میری رہائی کی بابت درخواست کی۔ ”اس طرح پاکستانی سفارتخانے کی درخواست پر میری رہائی ممکن ہوسکی۔’میرا نے بتایا کہ انھیں امریکہ سے ڈیپورٹ نہیں کیا جارہا، وہ اپنی مرضی سے دبئی آرہی ہیں جہاں ایک پاکستان ٹیلی ویژن کے پروگرام کی ریکارڈنگ میں شریک ہوں گی۔ بہت سے لوگ شاید اس بات سے لاعلم رہے ہیں کہ میرا ڈپریشن کا شکار ہیں۔ یہ جان کر ایک لمحے کے لیے حیرت ہوتی ہے کیونکہ وہ اپنے کیریئر کے آغاز سے ہی جانے انجانے میں لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرتی رہی ہیں۔ میرا کی والدہ شفقت زہرہ بخاری نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘میرا نے ٹیلی فون پر مجھے بتایا کہ میں امریکہ کے ہسپتال میں ہوں جہاں میری کورونا سے بچاؤ کے لیے ویکسینیشن ہو رہی ہے اورٹیلی فون کال اچانک ڈراپ ہوگئی۔‘’میں نے میرا سے رابطہ کرنا چاہا لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ اسی اثنا میں مجھے امریکہ سے کسی صحافی کا فون آیا جس نے کہا کہ میرا امریکہ میں مینٹل ہسپتال میں داخل ہے، اس نے وہاں یہ کہا ہے کہ امریکی مجھے پروٹوکول دیں کیونکہ مجھے تو پاکستان کی ہر حکومت وی آئی پی کی حیثیت سے ڈیل کرتی ہے۔’شفقت بیگم نے کہا کہ ‘کیونکہ میرا سے رابطہ نہیں ہورہا تھا اس لیے مجھے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے اپیل کرنا پڑی۔’
دوسری طرف میرا کے والد سرورشاہ بخاری نے اس ڈرامائی صورتحال پر نئی بحث چھیڑ دی۔ان کا کہنا تھا کہ ‘کورونا کے باعث دنیا بھر کے شوبز پر زوال آیا ہوا ہے۔ ‘پاکستان میں بھی انڈسٹری متاثر ہوئی ہے۔ میری بیٹی کی فلم ‘باجی’ سپرہٹ ہوئی لیکن اس کا مالی فائدہ دوسروں نے اٹھایا۔’
سرور شاہ نے بتایا کہ ‘کراچی میں ایک ٹی وی چینل نے میرا سے رمضان نشریات کا معاہدہ کیا جسے ایک دوسری اداکارہ نے سازش کر کے میرا سے چھین لیا جس کا میرا کو بڑا ذہنی صدمہ پہنچا۔”میرا انتہائی ڈپریشن میں دبئی سے ہوتی ہوئی امریکہ پہنچی جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔’سرورشاہ بخاری نے تردید کی کہ میرا کو امریکہ سے ڈیپورٹ کیا جارہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ‘میری بیٹی وہاں اپنے خاوند کیپٹن نوید اور سسر راجہ پرویز کے ہاں ہے اور وہ آج دبئی پہنچ رہی ہے۔’
سینیئر اداکارہ اور گلوکارہ سلمیٰ آغا نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ہمدردانہ لہجے میں کہا کہ وہ میرا کو ہمیشہ سپورٹ کرتی ہیں۔ ممبئی ہو یا دبئی، انھوں نے ہی میرا کی دیکھ بھال کی ہے۔گذشتہ دنوں مقامی و سوشل میڈیا پر میرا کو ملنے والی کوریج کے بارے میں انھوں نے کہا کہ میڈیا کو ورکنگ ویمن کے لیے احترام اور احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔سلمیٰ آغا نے بتایا کہ ‘مجھے میرا کے سسر راجہ پرویز نے وہ سب بتایا ہے جو امریکہ میں ہوا’ لیکن وہ اس کی تفصیل میں جانا پسند نہیں کرتیں۔تاہم انھوں نے کہا کہ ‘میرا جب کراچی سے دبئی آئیں تو شدید ڈپریشن میں تھیں۔’
ایک اداکار کی زندگی کئی کردار نبھاتے گزر جاتی ہے اور ان کے پرستار ساری زندگی کہیں نہ کہیں انھیں ان کے کسی کردار سے جانتے ہیں۔ ذہنی صحت کے ماہرین کے مطابق پاکستان سمیت دنیا بھر کے فنکار ذہنی اور نفسیاتی دباؤ کا شکار رہتے ہیں اور اس کی وجہ کام کا پریشر، ذاتی تعلقات میں اتار چڑھاؤ یا کچھ اور ہوسکتی ہے۔ شوبز انڈسٹری میں کس قسم کے ذہنی دباؤ ہوسکتے ہیں، طویل عرصے تک میو ہسپتال لاہور کے سائیکاٹری ڈیپارٹمنٹ میں سینیئر ڈاکٹر تعینات رہنے والے ڈرامہ نگار و مزاح نگار ڈاکٹر محمد یونس بٹ کے مطابق اداکارہ میرا نے کئی ڈراموں و فلموں میں کام کیا ہے مگر وہ انھیں ‘ذہنی مریضہ’ قرار نہیں دیتے۔ وہ اپنے تجربے سے بتاتے ہیں کہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے آرٹسٹ ذہنی اور نفسیاتی دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔ ان مختلف حالتوں میں انگزائٹی یعنی بے قراری ڈپریشن یعنی ذہنی دباؤ اور شیزوفرنیا دماغی مرض جیسی بیماریاں عام ہیں۔ڈاکٹر یونس بٹ نے کہا ہے کہ جب تک ماہرین اداکارہ میرا سے گفتگو کرتے ہوئے طویل نشست نہ کریں اور وہ خاص علامات نہ دیکھیں جو ایک ذہنی مریض میں پائی جاتی ہیں وہ میرا کو کوئی ذہنی مریضہ قرار نہیں دے سکتے۔’

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close