جنسی ہراسانی کے الزام پر اساتذہ اور طلبا آمنے سامنے


خیبر پختونخوا میں محتسب برائے انسدادِ ہراسانی نے اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور میں طالبہ سے ہراسانی کے الزام میں یونیورسٹی کے پروفیسر امیر اللہ کو ملازمت سے برطرف کرنے کی سفارش کی ہے۔ تاہم اس معاملے پر تب اختلاف پیدا ہو گیا جب اسلامیہ یونیورسٹی کے چیف پراکٹر ڈاکٹر فہیم نے ہراسانی کا شکار طالبہ کے رویے کو بچکانہ قرار دے دیا اور پروفیسر امیر اللہ کی ساتھی خواتین اساتذہ نے بھی پروفیسر کی بے گناہی کی گواہی دی ہے۔ یوں یونیورسٹی کے تمام اساتذہ بشمول خواتین ایک نہتی طالبہ کے خلاف متحد ہو کر کھڑے ہوگئے۔
دوسری جانب محتسب برائے انسدادِ ہراسانی کی جانب سے یونیورسٹی انتظامیہ کو اس معاملے میں مناسب اقدامات نہ کرنے پر غفلت کا مرتکب قرار دیا ہے۔ پروفیسر امیر اللہ نے خود پر لگنے والے جنسی ہراسانی کے تمام الزامات کی تردید کی ہے اور اپنے دفاع میں خیبر پختونخوا کے محتسب کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھائے ہیں۔ یاد رہے کہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور میں طلبہ اور طالبات نے گزشتہ سال نومبر میں ہراسانی کے واقعات کے خلاف احتجاج کیا تھا جس کے بعد یہ کارروائی شروع کی گئی تھی۔ صوبے میں جنسی ہراسانی کے واقعات کی روک تھام کےلیے تعینات صوبائی محتسب رخشندہ ناز نے اس مقدمے کی سماعت کی جس میں انہوں نے دونوں جانب سے دلائل سنے اور تمام متعلقہ افراد کے بیانات قلم بند کیے۔ اہنے فیصلے میں انہوں نے کہا کہ اسلامیہ یونیورسٹی انتظامیہ نے نہ صرف جنسی ہراسانی بلکہ طالبہ کے خلاف سوشل میڈیا پر جاری مہم رکوانے کےلیے بھی کوئی مناسب اقدامات نہیں کیے اس انکوائری کے دوران طلبہ اور طالبات کے بیانات ریکارڈ کیے گئے جنہوں نے یونیورسٹی میں پیش آنے والے واقعات اور اساتذہ کی جانب سے ملنے والے مبینہ احکامات کا ذکر بھی کیا۔
ایک طالبہ نے انکوائری کے دوران بتایا کہ اس نے جب یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو ان کے سینیئرز نے مبینہ طور پر ان سے کہا تھا کہ استاد امیر اللہ سے دور دور رہنا جس پر انہیں تشویش ہوئی تھی۔ اُن کے مطابق اس کے بعد ایک روز وہ اور متاثرہ طالبہ یونیورسٹی میں موجود تھے کہ ایک طالبہ نے بتایا کہ انہیں پروفیسر صاحب بلا رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ دونوں ان پروفیسر کے آفس چلی گئیں جہاں انہوں نے جنرل باتیں کیں اور اس کے بعد مبینہ طور پر ان سے کہا کہ آپ جاؤ کیوں کہ مین نے طالبہ سے اکیلے کچھ بات کرنی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی باہر چلی گئیں لیکن وہ دروازے کے ساتھ کھڑی رہیں۔ اسی دوران 15 منٹ کے بعد انکی ساتھی طالبہ سہمی ہوئی باہر آئی اور تیزی سے وہاں سے چلی گئی۔ ایک اعر طالب علم نے بتایا کہ انہیں اپنے ایک سینیئر کا فون آیا تھا کہ متاثرہ طالبہ سے کہوں کہ پروفیسر صاحب بلا رہے ہیں اور انہوں نے یہ پیغام طالبہ تک پہنچا دیا تھا۔ اسی طرح دیگر طلبہ اور طالبات نے بھی اپنے مؤقف بیان کیے۔ ایک طالب علم نے بتایا کہ اس معاملے پر احتجاج کرنے کے بعد ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا گیا اور یہاں تک کہ انہیں سنے بغیر اسلامیہ یونیورسٹی سے خارج کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس پر انہوں نے اپیل کی تھی۔ طالب علم نے اس پر محتسب کو درخواست دی تھی۔
دوسری جانب اسلامیہ کالج یونیورسٹی نے کسی بھی طالبِ علم کے خلاف انتقامی کارروائی کے الزامات کی تردید کی ہے۔
صوبائی محتسب کے 10 صفحات پر مشتمل فیصلے میں ہراسانی کی شکار طالبہ کا مؤقف بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ طالبہ کی بہن نے بھی ای میل پر تفصیل بیان کی تھی جس پر محتسب نے انہیں باقاعدہ درخواست میں تفصیل لکھنے کا حکم دیا تھا۔ محتسب کی کارروائی میں یونیورسٹی کی جانب سے چیف پراکٹر ڈاکٹر فہیم کا بیان بھی قلم بند کیا گیا جس میں انہوں نے کہا کہ مذکورہ طالبہ کے خلاف کسی قسم کی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی تاہم انہوں نے یہ کہا تھا کہ طالبہ کا رویہ بچکانہ ہے۔ اس پر طالبہ کے وکیل سنگین ایڈووکیٹ نے ان پر جرح بھی کی اور انہیں تفصیل بتانے کا کہا جس پر چیف پراکٹر نے کہا کہ ان کا مطلب ہرگز طالبہ کے اخلاق پر بات کرنا نہیں۔
یونیورسٹی انتظامیہ اور جن پروفیسر کے خلاف شکایات سامنے آئی تھیں انہیں بھی طلب کیا گیا تھا۔ متعلقہ پروفیسر نے اپنے دفاع میں خیبر پختونخوا کے محتسب کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھائے اور ان تمام الزامات کی ترید کی۔
ملزم پروفیسر کے وکیل امان اللہ مروت ایڈووکیٹ نے اسلامیہ یونیورسٹی کی انکوائری کمیٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں کچھ ایسا سامنے نہیں آیا ہے اور پروفیسر کو ان الزامات سے بری کیا جائے۔
یاد رہے کہ یونیورسٹی کی انکوائری رپورٹ میں اس معاملے کو نمٹا دیا گیا تھا۔
صوبائی محتسب نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اسلامیہ کالج کے اساتذہ کی تنظیم نے طلبہ اور طالبات کے احتجاج کے بعد اجلاس طلب کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ایک استاد کا نقصان تمام اساتذہ کا نقصان تصور کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ محتسب کے فیصلے میں ان خواتین اساتذہ کے بیانات بھی قلمبند کیے گئے ہیں جو اس شعبہ میں پروفیسر کے ساتھ کام کرتی ہیں۔ ان اساتذہ نے کہا ہے کہ انہیں متعلقہ پروفیسر کے ساتھ کام کرنے میں کبھی کوئی دشواری یا مشکل پیش نہیں آئی تاہم ایک خاتون نے کہا کہ ’کبھی کبھار پروفیسر کا غصہ بڑھ جاتا ہے جس سے مشکل ضرور ہوتی ہے‘۔
یاد رہے کہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور میں گزشتہ سال طلبہ اور طالبات نے جنسی ہراسانی کے خلاف مظاہرہ اور ایک آگاہی واک کی تھی جس کے بعد یہ معاملہ ابھر کر سامنے آیا تھا۔ اس مظاہرے کو ذرائع ابلاغ میں کوریج ملی اور سوشل میڈیا پر بھی اس پر بحث شروع ہو گئی تھی۔ اس مظاہرے کے بعد جہاں یونیورسٹی کے اندر ان الزامات کی انکوائری کےلیے کہا گیا وہیں گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان نے بھی گورنر انسپکشن ٹیم کو اس واقعے کی انکوائری کا حکم دیا تھا۔ ان انکوائریوں کے نتائج ابھی سامنے نہیں آئے تھے کہ اس دوران ایسی اطلاعات سامنے آئیں کہ مظاہرے میں شامل بعض طلبہ و طالبات نے ہراسانی کے واقعات کی روک تھام کےلیے صوبائی محتسب کو درخواست دی ہے۔ اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور میں طلبہ اور طالبات کے حقوق کےلیے ایک فورم تشکیل دیا گیا ہے۔ اس فورم کے رہنما جابر خان نے بتایا کہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں طالبات ہراسانی کی شکایت کرتی تھیں لیکن سماجی مسائل اور خوف کی وجہ سے وہ کھل کر سامنے شکایت درج نہیں کروا پاتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ احتجاجی مظاہرے کے دوران ایک طالبہ نے بتایا کہ انہوں نے باقاعدہ شکایت یونیورسٹی انتظامیہ کو درج کروا دی ہے جس کے بعد انہوں نے اس بارے میں یونیورسٹی انتطامیہ سے کہا کہ انکوائری غیر جانبداری سے کروائی جائے۔ جابر خان نے بتایا کہ انکوائری کے دوران انہیں یونیورسٹی کی انتظامیہ پر اعتماد نہیں رہا جس وجہ سے انہوں نے صوبائی محتسب کو درخواست دی تاکہ اس کی انکوائری غیر جانبدارانہ ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دوران ان پر اور ان کے دیگر ساتھیوں پر بے بنیاد الزامات عائد کر کے کارروائیاں کی گئیں جن کا انہوں نے سامنا کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close