اگر کویت مجبور ہے

تحریر:جاوید چوہدری ۔۔۔۔۔۔۔ بشکریہ : روزنامہ ایکسپریس

کویت عرب دنیا کا چھوٹا سا ملک ہے‘ رقبہ صرف 17 ہزار کلومیٹر اور آبادی 48 لاکھ ہے جن میں سے بھی 33 لاکھ غیر ملکی ہیں‘ کویتی شہری صرف 15 لاکھ ہیں لیکن رقبے اور آبادی میں اتنا چھوٹا ہونے کے باوجود یہ جی این پی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں امیر ترین ملک ہے‘ کویتی دینار دنیا کی مہنگی ترین کرنسی ہے‘ ایک دینار ساڑھے تین امریکی ڈالرز کے برابر ہے اور فی کس آمدنی 70ہزار ڈالر سے زیادہ ہے لہٰذا حکومت اپنے لوگوں کو گھر بٹھا کر رقم دیتی رہتی ہے‘ اس کی وجہ تیل ہے۔

دنیا کے دس فیصد تیل اور گیس کے ذخائر کویت کے پاس ہیں‘صرف تیل کی مقدار 104 بلین بیرل ہے‘ کویت میں تیل کی فراوانی کی وجہ سے پانی مہنگا اور پٹرول سستا ہے‘ شہریوں کے پاس روزانہ دو آپشن ہوتے ہیں‘ یہ پانی کی بوتل خرید لیں یا پھر اس رقم سے گاڑی میں ایک گیلن (ساڑھے چار لیٹر) پٹرول ڈلوا لیں‘ پٹرول کی اس فراوانی کی وجہ سے حکومت پورے ملک کے لیے بجلی پٹرول سے بناتی ہے‘ کویتی صحرائوں اور سمندر کے کنارے بڑے بڑے پاور پلانٹس لگے ہیں اور یہ پاور پلانٹس پورے ملک کو بجلی فراہم کرتے رہتے ہیں‘ یہ بجلی بہت سستی ہے‘ عوام دن رات بجلی خرچ کرنے کے بعد بھی بمشکل 20 ڈالر بل دیتے ہیں۔

لیکن آپ المیہ دیکھیے‘ معاشی طور پر اس مضبوط اور خوش حال ملک نے بھی تین دن قبل لوڈ شیڈنگ کا اعلان کر دیا ‘ ہفتے کے دن کویت کا درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تھا چناں چہ حکومت ملک میں لوڈ شیڈنگ پر مجبور ہو گئی‘ حکومت نے عوام سے بھی درخواست کی ’’صبح گیارہ بجے سے لے کر شام پانچ بجے تک ’’پیک آورز‘‘ ہیں‘آپ ان چھ گھنٹوں میں بجلی کا استعمال کم کر دیں تاکہ ملک بھر کے اسپتالوں‘ بلڈ بینکس‘ لیبارٹریوں اور فارمیسیوں کو بجلی فراہم کی جا سکے‘‘۔

حکومت نے اس کے ساتھ ساتھ مختلف شہروں اور دیہات میں ایک اور دو گھنٹے لوڈشیڈنگ کرنا شروع کر دی‘ سرکاری دفتروں میں فالتو بتیاں بھی بجھا دی گئیں اور اسٹریٹ لائیٹس بھی آدھی کر دیں اور یہ بندوبست کس ملک میں کیا جا رہا ہے؟ یہ دنیا میں سب سے زیادہ تیل اور گیس پیدا کرنے والے ملکوں میں سے ایک ملک میں کیا جا رہا ہے اور وہ ملک دنیا کے امیر ترین ملکوں میں بھی شمار ہوتا ہے اور اس کے پٹرول سے یورپ اور سینٹرل ایشیا کے ممالک اپنے جہاز بھی چلاتے ہیں اور گاڑیاں اور پاور پلانٹس بھی جب کہ اس کے مقابلے میں پاکستانی معیشت‘ فی کس آمدنی اور روزگار میں دنیا کے غریب ترین ملکوں میں شمار ہوتا ہے۔

محمد زبیر نے اپنے بیان سے یوٹرن لے لیا

ہم روزانہ ڈیفالٹ کی دہلیز چھوڑکر واپس آتے ہیں‘ ہم ایک دو ارب ڈالرز کے لیے پوری دنیا اور آئی ایم ایف کے سامنے لیٹنے پر مجبور ہیں لیکن ہم اس کے باوجود لوڈ شیڈنگ کے لیے بھی تیار نہیں ہیں اور بجلی کے بل بھی نہیں دینا چاہتے‘ ہمیں بجلی مفت چاہیے‘ کیوں؟۔

مجھے 2008 اور 2013 دونوں ادوار یاد ہیں‘ آپ بھی ذرا یاد کریں‘ 2008 میں اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوتی تھی‘ گرمیوں میں پورا ملک بند ہو کر رہ جاتا تھا‘ پیپلز پارٹی کی حکومت ہوتی تھی اور راجہ پرویز اشرف پانی اور بجلی کے وزیر تھے‘ راجہ صاحب نے فوری طور پر رینٹل پاور پلانٹس کا بندوبست کیا‘ پلانٹس بحری جہازوں میں نصب تھے‘ وہ کراچی کے ساحل پر کھڑے ہو گئے‘ فرنس آئل سے بجلی بناتے تھے اور یہ بجلی نیشنل گرڈ کو فراہم کر دی جاتی تھی۔

بجلی ظاہر ہے مہنگی تھی چناں چہ اپوزیشن (نواز شریف اور عمران خان) نے شور مچا دیا‘ خواجہ آصف اس زمانے میں راجہ پرویز اشرف کو راجہ رینٹل کہتے تھے‘ رینٹل پلانٹس کے باوجود بجلی پوری نہ ہو سکی اور لوڈ شیڈنگ الیکشن میں پیپلز پارٹی کو کھا گئی‘ وہ الیکشن ن لیگ نے لوڈ شیڈنگ کے خلاف لڑا تھا چناں چہ حکومت آئی اور اس نے دھڑا دھڑ بجلی کے کارخانے لگوانا شروع کر دیے‘ وقت کم تھا اور مقابلہ سخت اور اس خوف ناک کمبی نیشن میں حکومت کے پاس صرف ایک ہی آپشن تھا‘ یہ پاور پلانٹس لگاتی اور اس نے یہ لگا دیے اور یوں بجلی پوری ہو گئی مگر اس کی قیمت میں اضافہ ہو گیا۔

دنیا میں آپ کے پاس دو ہی آپشن ہوتے ہیں‘ آپ کو اگر کوئی چیز چاہیے تو پھر آپ کو اس کی قیمت ادا کرنا پڑے گی اور اگر آپ قیمت ادا نہیں کر سکتے تو پھر آپ کو چیز نہیں مل سکتی‘ عوام کے پاس بھی اس دور میں دو آپشن تھے‘ یہ دس سال اندھیروں میں رہیں اور حکومت اس دوران پانی اور مقامی کوئلے کے پلانٹس لگا کر مانگ پوری کر دے‘ وہ بجلی یقینا سستی ہوتی لیکن اس کے لیے صبر چاہیے تھا اور ہماری قوم اس نعمت سے محروم ہے اور دوسرا آپشن تھا حکومت پاور پلانٹس لگائے اور ہمیں فوری طور پر بجلی مل جائے۔

لیکن ظاہر ہے وہ بجلی مہنگی ہونی تھی اور یہ ہوا‘ حکومت نے پاور پلانٹس لگائے اور بجلی مہنگی ہو گئی‘ اس افراتفری میں حکومت نے تین غلطیاں کیں‘ ایک‘ گورنمنٹ نے کمپنیوں سے معاہدے کر لیے ہم آپ سے بجلی خریدیں یا نہ خریدیں مگر ہم آپ کی کیپسٹی کے مطابق آپ کو رقم دیتے رہیں گے‘ ہم اگر سادہ الفاظ میں اس کی تشریح کریں تو یہ اس طرح ہو گی‘ ہم نے کسی سے کرائے پر آم کا درخت لگوا لیا اور یہ معاہدہ کر لیا اس درخت پر دس من آم لگیں گے اب اگر اس درخت پر دس من سے کم آم لگتے ہیں یا میں صرف دو یا تین من آم اتارتا ہوں تو بھی مجھے ہر سال دس من کی رقم ادا کرنا پڑے گی۔

کمپنیوں نے اس رقم کو کیپسٹی پے منٹ کا نام دے دیا‘ دوسرا ہم نے ادائیگی ڈالرز میں طے کر لی‘ اب اگر روپیہ کم زور اور ڈالر مہنگا ہوتا ہے تو ادائیگی کی رقم بھی بڑھ جاتی ہے اور تیسرا یہ پلانٹس درآمدی آئل‘ گیس اور کوئلے پر لگا دیے گئے چناں چہ ہمیں اب کوئلہ‘ گیس اور تیل کے لیے بھی ڈالرز چاہییں اور بجلی کی ادائیگی بھی ڈالرز میں کرنی پڑ رہی ہے اور ہم بجلی خریدیں یا نہ خریدیں مگر ہمیں کیپسٹی پے منٹ بھی کرنا پڑتی ہے اور اگر ہم اس کے ساتھ لائین لاسز‘ بجلی کی چوری اور آزاد کشمیر‘ فاٹا اور بلوچستان کی سبسڈی کو بھی شامل کر لیں تو بجلی پورے ملک کو ڈبونے کے لیے کافی ہو چکی ہے‘ اب اگر میاں نواز شریف اور اسحاق ڈار سے پوچھا جائے تو یہ جواب دیتے ہیں اس زمانے میں کوئی بھی غیر ملکی کمپنی اس سے کم پر پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے تیار نہیں تھی‘ ہم اگر ان کی شرائط نہ مانتے تو ہم آج بھی لوڈ شیڈنگ میں زندگی گزار رہے ہوتے۔

آپ اب عوام کی حالت بھی دیکھ لیں‘ پاکستان تیسری دنیا میں سب سے زیادہ اے سی‘ ٹیلی ویژن‘ اسمارٹ فونز‘ پنکھے اور موٹریں استعمال کرنے والا ملک ہے‘ ہمارے پنکھے اور بلب بھی بجلی ضایع کرنے کی خوف ناک مشینیں ہیں‘ہمارا ایک پنکھا یورپ کے دس پنکھوں کے برابر بجلی استعمال کرتا ہے‘ ہم آج تک ملک سے بلب بھی ختم نہیں کر سکے‘ ہم اسمارٹ پنکھے بھی نہیں بنا سکے اور ہم نے لوگوں کو گرمیوں میں ٹھنڈے رہنے والے گھر بھی بنانے کی ٹریننگ نہیں دی۔

لہٰذا آج صورت حال یہ ہے درجہ حرارت 50 سینٹی گریڈ کو ٹچ کر رہا ہے‘ نوے فیصد عمارتیں گرمیوں میں تنور بن جاتی ہیں‘ موٹریں ‘ پنکھے اور بلب دس گنا زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں اور عوام میں بجلی کی بچت کا شعور بھی نہیں اور یہ لوگ بجلی کے بل دینے کے لیے بھی رضا مند نہیں ہیں‘ یہ فالتو بتیاں اور پنکھے بھی بند نہیں کرنا چاہتے لہٰذا پھر سوال یہ ہے ملک کیسے چلے گا اور وہ بھی اس دور میں جب کویت جیسے ملک بھی لوڈ شیڈنگ کے لیے مجبور ہو چکے ہیں اور سعوی عرب‘ عراق‘ قطر اور یو اے ای بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرتے جا رہے ہیں‘ یورپ‘ امریکا اور کینیڈا میں بھی توانائی کی قیمتوں نے لوگوں کو خودکشیوں پر مجبور کر دیا ہے‘ ہمارے پاس اب دو ہی آپشن ہیں‘ ہم لوڈشیڈنگ میں رہیں یا پھر بجلی کی قیمت ادا کریں ‘ عوام یہ بھی یاد رکھیں قیمت ابھی مزید بڑھے گی‘ یہ دگنی ہو گی‘ بجلی فی یونٹ 100 روپے تک جائے گی چناں چہ پیٹی کس لیں۔

میرا آپ کو مشورہ ہے‘ آپ اگر نیا گھر بنا سکتے ہیں یا گھروں کو تبدیل کر سکتے ہیں تو ضرور کریں‘ سورج کے رخ گھر نہ بنائیں‘ گھر کی چھتیں اونچی رکھیں‘ دیواروں کا سائز موٹا کر لیں یا پھر اس میں انسولیشن کا بندوبست کر لیں‘ سولر پینل ضرور لگوائیں‘ اے سی کم کر لیں‘ ٹی وی صرف ایک لگوائیں‘ موبائل چارج ہونے کے بعد چارجر ساکٹ سے اتار لیا کریں‘ دن کے وقت کسی بھی کمرے میں کوئی لائیٹ آن نہ کریں‘ بلب اتار دیں اور ان کی جگہ ایل ای ڈی لائیٹس لگوائیں‘ پرانے پنکھے اتار کر ان کی جگہ لووولٹیج کے پنکھے لگا لیں‘ موٹریں کم سے کم استعمال کریں‘ اے سی صرف انتہائی گرمی میں استعمال کریں‘ گھروں کی چھتوں کو ٹھنڈا رکھنے کا بندوبست کریں‘ رات کو صحن میں سونے کی عادت ڈالیں اور سب سے بڑھ کر اپنی آمدنی میں اضافہ کریں تاکہ آپ بل دینے کے قابل ہو سکیں۔

احتجاج نہ کریں‘ اس کا کوئی فائدہ نہیں‘ آپ کے احتجاج سے بجلی مکمل طور پر بند ہو جائے گی اور آپ مزید مسائل کا شکار ہو جائیں گے‘ میری حکومت سے بھی درخواست ہے آپ کسی نہ کسی طرح پاور پلانٹس سے جان چھڑائیں ورنہ یہ آنے والے دنوں میں ایسٹ انڈیا کمپنی ثابت ہوں گے اور ہم ملک گروی رکھ کر ادائیگی کریں گے‘ آج اگر کویت پاور پلانٹس کے اخراجات نہیں اٹھا سکتا‘ یہ لوڈشیڈنگ پر مجبور ہو گیا ہے تو ہم کہاں کے رستم ہیں‘ ہم کتنی دیر نکال لیں گے؟ ۔

Back to top button