عمران خان نے مذاکرات کے نام پر محمود اچکزئی کو ماموں کیسے بنایا؟

تحریک انصاف والوں نے محمود خان اچکزئی کو حکومت کیساتھ مذاکرات کے لیے آگے لگانے کے بعد اب انہیں خود ساختہ ایلچی قرار دے دیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ عمران خان سنجیدہ، بامقصد اور نتیجہ خیز مزاکرات میں نہ تو کبھی پہلے سنجیدہ تھے اور نہ اب ہیں۔ اِس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ٹھہرائو، سبھائو، مکالمہ، بات چیت، افہام و تفہیم انکی سرشت میں ہی شامل نہیں۔ دوسرا سبب یہ کہ وہ سیاستدانوں کے بجائے آج بھی اُسی ’’بارگاۂِ فیض‘‘ کی طرف دیکھ رہے ہیں جہاں سے ماضی میں اُنہیں فیضان حاصل ہوا۔ لہازا پی ٹی آئی ’مذاکرات‘ کے عنوان سے ’’پنگ پانگ‘‘ کھیل رہی ہے۔

معروف لکھاری سینیٹر عرفان صدیقی نے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ محمود خان اچکزئی کمیٹی کو اُڑان بھرنے سے پہلے ہی بے ذوق لطیفہ بنا دیا گیا۔ بار بار باور کرایا جارہا ہے کہ اچکزئی نے خود ہی ’’ثالثی‘‘ کی دستار اپنے سر پہ سجالی ورنہ ہم تو ’’چوروں‘‘ اور’’ ڈاکوئوں‘‘ کو منہ لگانے کے روادار نہیں۔ بیرسٹر گوہر نے محمود اچکزئی کی اِس ’’تمنائے بے تاب ‘‘کا ذکر خان صاحب سے کیا اور اُنہوں نے بندھی بندھائی مجبور وبے بس سی دیہاتی دلہن کی طرح ’’ہاں‘‘ کر دی۔ لیکن اگلے ہی دِن یہ وضاحت جاری کی گئی کہ ’’اِس کا یہ مطلب ہرگز نہ لیا جائے کہ پی۔ٹی۔آئی اب غاصبوں سے مذاکرات پر آمادہ ہوگئی ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ مینڈیٹ چرانے والوں سے کوئی بات نہیں ہوسکتی۔‘‘

عرفان صدیقی بتاتے ہیں کہ 15جون کو ایک باضابطہ پریس کانفرنس میں پارٹی ترجمان نے وضاحت کی۔ ’’اگر محمود خان اچکزئی ’تحریکِ تحفظ آئین ِپاکستان‘ کے پلیٹ فارم سے، کسی کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتے ہیں تو یہ اُن کی مرضی ہے۔ بانی چیئرمین نے صاف الفاظ میں بتادیا ہے کہ ہم کسی بھی پارٹی سے کوئی مذاکرات نہیں کر رہے۔ خان صاحب چوروں سے کسی بات چیت پر آمادہ نہیں۔‘‘ اس کے بعد ایک ٹی۔وی شو میں پی ٹی ائی ترجمان رئوف حسن نے دوٹوک لفظوں میں کہا۔ ’’ہم نے محمود اچکزئی کو کوئی اختیار نہیں دیا۔ ہماری پوزیشن واضح ہے۔ ہم ’’مینڈیٹ چوروں‘‘ سے کوئی رابطہ نہیں چاہتے۔‘‘ پھر تین روز بعد خود خان صاحب نے کہا کہ ’’ہم ن لیگ سے کیا بات کریں؟ موسم کا حال پوچھیں؟ مذاکرات اس طرح نہیں ہوا کرتے۔ محمود خان اچکزئی کوئی آفر لے کر آئیں گے تو مذاکرات کے بارے میں سوچیں گے۔‘‘

یعنی محمود اچکزئی کی پُشت پناہی کے بجائے پی۔ٹی۔آئی تاثر دے رہی ہے کہ وہ تو محض ایک خودساختہ قاصد یا ایلچی ہے جو حکومت سے خان صاحب کے لئے کوئی بڑی ’’آفر‘‘ لینے جا رہا ہے۔ وہ آفر کی کوئی اچھی سوغات لے آیا تو ویٹو پاور کے حامل خان صاحب فیصلہ کریں گے کہ مذاکرات کئے جائیں یا نہیں۔‘‘ عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ عبدالصمد اچکزئی کا 76 سالہ فرزند محمود خان بھی کیا سوچتا ہوگا کہ یہ میں کس قافلۂِ بے راہ ومنزل کی طرف آنکلا ہوں۔ ان سے میری پرانی یاد اللہ ہے۔ وہ مروّت کے سلیقوں اور محبت کے قرینوں سے بخوبی آگاہ ہے لیکن کھرا پشتون ہونے کے ناتے عزتِ نفس کے حوالے سے بھی بے حد حساس ہے۔ عمران خان نے ایک اور دلچسپ بات کہی ’’اگر میرے پیچھے ہٹنے سے پاکستان کا کوئی فائدہ ہوتا ہے تو مجھے مطمئن کریں۔‘‘ یہ ایک ایسی کڑی شرط ہے جو کم ازکم پاکستان کے کسی ذی روح کے بس کی بات نہیں۔ کون ہوگا ایسا مردِ ہنرکار جو خان صاحب کو ’’مطمئن‘‘ کرسکے یا اُنکے موقف کے سامنے اپنی دلیل کا چراغ جلاسکے۔ ’’پاکستان کے فائدے‘‘ کے حوالے سے بھی خان صاحب جداگانہ اور منفرد معیار رکھتے ہیں۔ اُنکے نزدیک طویل دھرنوں کے ذریعے 2014میں چینی صدر کا راستہ روکنا پاکستان کے مفاد میں تھا۔ عوام الناس کو سول نافرمانی کی تلقین کرنا، بینکوں کے بجائے ہنڈی کے ذریعے رقوم بھیجنا، بجلی اور گیس کے بل ادا کرنے کے بجائے جلا دینا، دیوالیہ پن کی دہلیز پہ کھڑے پاکستان کی امداد روکنے کیلئے آئی۔ایم۔ایف کو خط لکھنا، اس کے صدر دفاتر کے باہر وطن مخالف مظاہرے کرانا، امریکی سائفر سے طفلِ خود معاملہ کی طرح کھیلنا، مسلح افواج کے اندر بغاوت کیلئے سازش کا جال بننا، 250 سے زائد دفاعی تنصیبات پر حملے کرنا، شہداء کے مجسمے توڑنا، مکروہ بھارتی سوچ کی مظہر تصویری ٹویٹس کے ذریعے سقوطِ ڈھاکہ کے المیے کو موجودہ حالات پر منطبق کرتے ہوئے آرمی چیف کو نشانہ بنانا، بیرونی سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی کرنا، عالمی برادری کو پاکستان سے بدظن کرنا اور اپنے سوشل میڈیا کے ذریعے قبائے وطن کے بخیے ادھیڑتے رہنا ’’مفادِ پاکستان‘‘ کے بنیادی تقاضے ہیں۔

اس پیمانے کے مطابق خان صاحب کو کون بتائے اور کیسے مطمئن کرے کہ ’پاکستان کا فائدہ‘ کس بات میں ہے؟ اب تو ’’پاکستان کے مفاد‘‘ سے ’’دِل بستگی‘‘ اس انتہا کو جا پہنچی ہے کہ کھیل کے میدانوں سے عالمی سیاست کے ایوانوں تک، پاکستان کی ہر سُبکی دل بستگانِ تحریک انصاف کے لئے تسکین قلب کا سامان بن جاتی اور کسی بھی گوشے سے آنے والی ہر اچھی خبر اُنکے جگر میں تیر نیم کش کی طرح ترازو ہوجاتی ہے۔تحریک انصاف کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے ہمارے پیشِ نظر بھی ہمیشہ یہ الجھن رہی اور اب مبصّرین بھی سوال اٹھا رہے ہیں کہ پی۔ٹی۔آئی کی طرف سے کرائی گئی کسی بھی یقین دہانی کی ضمانت کون دے گا؟

عرفان صدیقی کے مطابق اب خان صاحب اپنے تمام پتے چل چکے ہیں۔ اُنکی کوئی چال کارگر ثابت نہیں ہوئی۔ جمعہ کے جمعہ اُنکی احتجاجی کال نے، اسٹریٹ پاور کا پول بھی کھول دیا ہے۔ اسلام آباد پریس کلب کے سامنے احتجاجی ہجوم کی نفری، نواحی مسجد میں نماز جمعہ کے شرکاء کی تعداد سے بھی کہیں کم ہوتی ہے۔ مقدمات اپنی جگہ موجود ہیں۔ پارٹی میں یکجہتی نام کی کوئی شے نہیں۔ 66 ارب روپے کرپشن کا ’’القادر کیس‘‘ فیصلہ کُن موڑ تک آن پہنچا ہے۔ ڈسے یا نہ ڈسے، 9 مئی کا شیش ناگ بدستور پھن پھیلائے پھنکار رہا ہے۔ خان صاحب کے لئے ٹھنڈی ہوا کا کوئی دریچہ کھُلتا دکھائی نہیں دیتا۔ بات اُس وقت تک آگے نہیں بڑھے گی جب تک خان صاحب خلوصِ دِل کے ساتھ اپنی جماعت کی ایک بااختیار کمیٹی تشکیل نہیں دیتے۔ ہر تدبیر الٹی پڑنے اور ہر حربہ ناکام ہوجانے کے بعد خان صاحب کی شاخِ فکر پر ’’پاکستان کے مفاد‘‘ کی جو تازہ کونپل پھوٹی ہے، وہ بالغ نظری اور سنجیدہ قدمی کا تقاضا کرتی ہے۔ یہ نہیں تو بے اختیار قاصدوں، ہرکاروں، نامہ بروں اور ایلچیوں کو رُسوا نہ کریں۔

Back to top button