سائنس دانوں نے مائیگرین سے متعلق نئی دریافت کرلی

سائنس دانوں نے دماغ کی ایک نئی راہداری دریافت کی ہے جو سر درد ہونے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ دریافت مائیگرین کا علاج کرنے کے لیے نئی ادویات کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔

دنیا بھر میں دیکھا جائے تو ہر 10 سے ایک فرد مائیگرین سے متاثر ہوتا ہے۔مریضوں کی ایک چوتھائی تعداد کو تکلیف دہ حسیاتی عوامل بھی ظاہر ہوتے ہیں۔آنکھوں میں چمک اٹھنا، بلائنڈ اسپاٹ، چبھن کا احساس اور کسی شے کا دو نظر آنا شامل ہے۔

ماہرین کو معلوم ہے کہ دماغی سرگرمیوں کی معطلی کی ایک لہر مائیگرین کا سبب ہوتی ہے لیکن اس کا نظام مبہم اب تک رہا ہے۔

Back to top button