عوامی احتجاج کے بعد 200یونٹ والے بجلی صارفین کیلئے بڑا ریلیف

سیاسی اتحادیوں کی تنقید اور عوامی احتجاج رنگ لے آیا، شہباز شریف کی وفاقی حکومت نے نے ماہانہ 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکٹیڈ اور نان پروٹیکٹڈ گھریلو صارفین کے لیے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اضافہ واپس لینے کی منظوری دے دی۔

خیال رہے کہ حکومت نے ماہانہ 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکٹِڈ اور نان پروٹیکٹِڈ گھریلو صارفین کے لیے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اضافہ کیا تھا۔وفاقی کابینہ نے ماہانہ 200 یونٹ استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ گھریلوصارفین کے لیے فی یونٹ ٹیرف 3 روپے 95 پیسے سے لے کر 7 روپے 12 پیسے فی یونٹ تک بڑھانے کی منظوری دی تھی۔ جس پر عوام کی جانب سے احتجاج اور ہڑتال کے اعلانات کیے گئے تھے، جس پر حکومت نے اضافہ واپس لینے کی منظوری دے دی ہے، فیصلے سے 2 کروڑ 60 لاکھ بجلی صارفین کو فائدہ ہوگا۔وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر ہنگامی بنیادوں پر سمری کی وفاقی کابینہ سے منظوری لی گئی، وفاقی حکومت ٹیرف پر ریلیف دینے کے لیے تقریبا 50 ارب روپے کی سبسڈی دے گی۔

حکومتی فیصلے کے تحت رواں سال جولائی تا ستمبر کے لیے ماہانہ 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو ریلیف دیا جائے گا اور ان سے اضافی رقم وصول نہیں کی جائے گی۔ماہانہ 50 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے لائف لائنز صارفین سے فی یونٹ قیمت 3.95 روپے جبکہ 51 سے 100 یونٹ استعمال کرنے والوں سے 7.74 روپے، ایک سے 100 یونٹ استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین سے 7.74 روپے اور 101 سے 200 یونٹ استعمال کرنے والوں سے 10.06 روپے فی یونٹ ہی وصول کیے جائیں گے۔  قبل ازیں ان صارفین کے فی یونٹ ٹیرف میں 3.95 روپے اور 4.1 روپے کے اضافی کی منظوری دی گئی تھی۔

واضح رہے کہ حکومت نے بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو مختلف سلیبز اور کیٹیگریز میں تقسیم کر رکھا ہے۔ ان کیٹگریز میں پروٹیکٹڈ، ان پروٹیکٹڈ صارفین شامل ہیں جبکہ ان کے بجلی بلوں میں اضافہ یا کمی ان کیٹیگریز پر ہی منحصر ہے۔

خیال رہے کہ حکومت کی طرف سے طے کردہ سلیبز کے مطابق پروٹیکٹڈ صارفین وہ ہیں جو ماہانہ 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرتے ہیں اور ان کی 200 یونٹ استعمال کرنے کی 6 ماہ کی ہسٹری برقرار ہو۔ جبکہ اَن پروٹیکٹڈ صارفین وہ ہیں جو ماہانہ 200 یونٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں۔ یا وہ افراد جو پروٹیکٹڈ کٹیگری میں تو ہیں لیکن 6 ماہ کے دوران کسی ایک بھی مہینے میں ان کا بل 200 یونٹ کے بجائے 201 یونٹ پر بھی چلا جائے تو ایسے صارفین بھی اَن پروٹیکٹڈ کیٹیگری میں چلے جاتے ہیں، جس سے ان کے بل پر عائد دیگر ٹیکسز بھی بڑھ جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ پروٹیکٹڈ صارفین میں 50 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو لائف لائن صارفین کہا جاتا ہے۔ جنہیں بجلی کے فی یونٹ کی قیمت 3.95 یعنی تقریباً 4 روپے پڑتی ہے۔ انہی لائف لائن صارفین میں کچھ صارفین جو 100 یونٹ تک بجلی استعمال کرتے ہیں انہیں بجلی کا فی یونٹ 7.74 روپے کا پڑتا ہے۔ جبکہ 200 یونٹس استعمال کرنے والے صارفین کے لیے فی یونٹ بجلی کی قیمت 10.6 روپے ہے۔ واضح رہے کہ اس فی یونٹ بجلی کی قیمت میں ٹیکسز شامل نہیں ہیں۔

اَن پروٹیکٹڈ صارفین میں اگر کوئی پروٹیکٹڈ صارف منتقل ہوتا ہے تو اسے 100 یونٹ استعمال کرنے پر فی یونٹ 16.48 روپے چارج ہوں گے۔ اسی طرح اگر کوئی صارف مسلسل 5 مہینے تک 100 یونٹ استعمال کرتا رہا ہے اور چھٹے مہینے میں اگر 101 یونٹ استعمال کرلیے تو وہ پروٹیکٹڈ کیٹیگری سے اَن پروٹیکٹڈ کیٹیگری میں شامل ہوجائے گا، یوں اسے بجلی کا فی یونٹ 10.6 روپے کے بجائے 22.95 یعنی تقریباً 23 روپے کا پڑے گا۔

Back to top button