بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں عوام کو کیسے لوٹ رہی ہیں؟

رواں ماہ آنے والے بجلی کے بلوں نے عوام کی چیخیں نکلوا دی ہیں۔ پاکستان کے بیشتر شہروں میں عوام بجلی کے بلوں میں ’اوور بلنگ‘ کی شکایات کر رہے ہیں اور بجلی کے بلوں میں استعمال شدہ یونٹس کی تعداد اور اس کے عوض واجب الادا رقم سے مطمئن نہیں ہیں۔ جہاں ایک طرف وزیر اعظم نے نیپرا کو اوور بلنگ میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایات جاری کر دی ہیں وہیں دوسری طرف ایف آئی اے بھی بلوں میں زائد یونٹ شامل کرنے والے افسران کیخلاف متحرک ہو چکا ہے تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی صارفین کے بجلی کے بلوں میں ’اضافی یونٹ‘ شامل کیے گئے ہیں؟

 وزیر توانائی اویس لغاری کے مطابق بجلی کے صارفین کی ’اوور بلنگ‘ اور ’اوورچارجنگ‘ کی شکایات کا تعلق دراصل مختلف سلیبز سے ہے۔مثلاً اگر کوئی صارف 200 سے کم یونٹس استعمال کرتا ہے تو اس کا بل اس وقت کئی گنا بڑھ جاتا ہے جب یہ یونٹس 201 ہو جائیں۔ اس سے اس صارف کی سلیب تبدیل ہوجاتی ہے اور پھر اسے زیادہ بل ادا کرنا پڑتا ہے۔

تاہم پاکستان میں پاور سیکٹر پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار عامر راؤ کے مطابق ’بجلی کے جو صارفین لگاتار چھ ماہ تک 200 یونٹ بجلی استعمال کرتے ہیں وہ پروٹیکٹڈ یا محفوظ کیٹگری میں آجاتے ہیں اور ان کو سرکار کی طرف سے رعایت ملتی ہے۔‘مبصرین اس معاملے میں ایک متنازع قانون کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں جس کے مطابق اگر چھ ماہ میں ایک بار بھی کسی کا بل 200 یونٹ سے بڑھ گیا تو پھر ایسے میں ان صارفین سے سبسڈی یعنی رعایت چھین لی جاتی ہے۔مگر بہت سے صارفین بجلی کے بلوں سے متعلق ایسے سخت قوائد و ضوابط سے لاعلم رہتے ہیں اور نہ ہی اس بارے میں صارفین کو زیادہ آگاہی دی جاتی ہے۔

تاہم بجلی کے بلوں میں اضافی یونٹ شامل کرنا یا صارفین کی اووربلنگ کا معاملہ کوئی نیا نہیں ہے۔نیپرا نے گذشتہ برس جولائی اور اگست میں بھی اووربلنگ، بے ضابطگیوں اور غیر قانونی اقدامات پر بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

تاہم نیپرا حکام کے مطابق وہ اپنے اختیارات کی حدود میں رہتے ہوئے اپنے طور پر یہ کوشش کرتے ہیں کہ صارفین کی شکایات کا ازالہ ہو سکے اور بےضابطگیوں پر بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں پر جرمانہ عائد کیے جائیں۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ بجلی کے صارفین کی اووربلنگ پر کسی کو گرفتار کرنا ’ایف آئی اے اور دیگر اداروں کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔‘

مگر اس شعبے کے ماہرین نے اس جانب بھی اشارہ کیا ہے کہ نیپرا اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے صارفین کو بروقت ریلیف دے سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق نیپرا نہ صرف یہ کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے بینکوں سے پیسے رکوا سکتا ہے بلکہ اس کے احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے پر انھیں حکومت سمیت کٹہرے میں بھی کھڑا کر سکتا ہے۔تاہم ان کے مطابق صارفین کے حقوق کو یقینی بنانے کی بجائے نیپرا ’صرف سرکاری دائروں میں گھوم رہا ہے اور یہ کہہ کر بری الذمہ ہو جاتا ہے کہ خط لکھ دیا ہے۔‘

تاہم نیپرا حکام کے مطابق ان کے پاس صارفین کو ریلیف دینے کے لیے گنجائش موجود ہے اور ان کا ادارہ شکایت کی صورت میں ’کافی حد تک آزادی سے اور میرٹ پر کارروائی عمل میں لاتا ہے۔‘مگر نیپرا اہلکار کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں رہائشی اور کمرشل استعمال کے لیے بجلی کی ضرورت پوری کرنے والے سولر سسٹمز کی وجہ سے تقسیم کار کمپنیوں کے اہداف متاثر ہوئے ہیں جن کا بوجھ ’کسی نہ کسی طور پر عام صارفین پر منتقل ہوتا ہے۔‘

یہاں یہ سوال بھی پیداہوتا ہے کہ صارفین بجلی کے بل میں موجود یونٹس کی تصدیق کیسے کر سکتے ہیں؟ ماہری  کے مطابق کوئی بھی صارف اپنے بجلی کے بل کی یہ جانچ کر سکتا ہے کہ آیا اس کے استعمال شدہ بجلی کے یونٹس کی تعداد اور واجب الادا رقم درست ہیں۔بجلی کے بل میں آپ کے میٹر کی پرانی یعنی گذشتہ ماہ کی ریڈنگ اور اس کے ساتھ ساتھ نئی یعنی رواں ماہ کی ریڈنگ دی جاتی ہے اور ریڈنگ کی تصاویر بھی موجود ہوتی ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ میٹر کی اِن دو ریڈنگز کے بیچ 30 روز سے زیادہ کا وقفہ نہ ہو۔ دونوں ریڈنگز کے فرق کے ذریعے ایک صارف یہ معلوم کر سکتا ہے کہ اس نے گذشتہ ماہ کتنی بجلی استعمال کی ہے۔اسی طرح صارفین میٹر کی ریڈنگ اور بجلی کے بل پر یونٹس دیکھ کر مصنوعی طور پر یا غلطی سے شامل کیے گئے اضافی یونٹس کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔آپ کے بجلی کے بل کے کالم نمبر نو میں بجلی کے میٹر کی ریڈنگ دی گئی ہوتی ہے۔ یہ ریڈنگ مہینے میں ایک بار ہی کی جاتی ہے۔ اگر آپ کو یہ معلوم ہے کہ آپ کے میٹر کی ریڈنگ نہیں کی گئی تو آپ اس کی اطلاع اپنے علاقے میں واقع بجلی کے دفتر میں دے سکتے ہیں۔

نیپرا کے مطابق ہر ماہ بجلی کے میٹر کی ریڈنگ لی جاتی ہے اور اگر کسی صارف کو لگے کہ ان کے میٹر کی ریڈنگ نہیں لی گئی تو وہ اپنے علاقائی دفتر رابطہ کر سکتے ہیں۔ نیپرا کے مطابق میٹر ریڈنگ کی تصویر لینا لازم ہے اور اس تصویر کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جاتا ہے اور اسی کے ذریعے بلنگ سے متعلق شکایات حل کی جاتی ہیں۔قوانین کے تحت کوئی صارف میٹر ریڈنگ اور بلنگ سے متعلق شکایات نیپرا کو بھی درج کروا سکتا ہے۔اگر آپ کی ریڈنگ میں بہت زیادہ فرق آ رہا ہے تو پھر یہ آپ کے آئندہ بل میں زیادہ یا بہت کم بل آ سکتا ہے۔ کسی بھی صورت میں اس کی درستگی کرانا ضروری ہے۔

یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر بجلی تقسیم کار کمپنیاں کسی صارف کے بل میں ’اضافی یونٹ‘ کیوں شامل کرتی ہیں؟ مبصرین کے مطابق بجلی کی تقیسم کار کمپنیاں اپنی ریکوریاں یقینی بنانے کے لیے مفروضے کی بنیاد پر صارفین کے بجلی کے بلوں میں اضافی یونٹ شامل کرتی ہیں۔

ان کے مطابق ایک صارف میٹر کی ریڈنگ کے بعد بجلی کے بل پر یہ دیکھ سکتا ہے کہ کہیں ’یونٹ ڈیڈکشن‘ کی مد میں اس کے بل میں زیادہ یونٹ تو شامل نہیں کیے گئے ہیں، اسے ’یونٹ پارک‘ کرنا بھی کہا جاتا ہے۔ میٹر ریڈر اس مفروضے کی بنیاد پر یہ یونٹ شامل کرتا ہے کہ اس خاص میٹر کا گذشتہ سال جولائی میں بل زیادہ تھا تو ابھی کیوں کم آیا ہے۔ ان کے مطابق میٹر ریڈر یہ فرض کر لیتا ہے کہ یا اس صارف کا میٹر درست نہیں چل رہا، یا وہ صارف کو بتاتے ہیں کہ میٹر سلو ہے اور یہ الٹا لٹکا ہوا ہے۔ ان کے مطابق یہ کمپنیاں لائن لاسز اور بجلی چوری کرنے والے صارفین کے بل بھی ان صارفین سے وصول کرتی ہیں جو پہلے سے ہی بل ادا کر رہے ہوتے ہیں۔

Back to top button