کیا پی ٹی آئی کے یوتھییے اپنی قیادت کے خلاف بغاوت کرنے والے ہیں؟

9 مئی کے شرپسندانہ کارروائیوں کے بعد جہاں ایک طرف پاکستان تحریک انصاف مکمل زیر عتاب ہے وہیں جیل سے باہر پی ٹی آئی رہنما ورکرز کی قربانیوں کے صلے میں حاصل ہونے والے عہدوں کے مزے لینے میں مصروف ہیں جبکہ گمنام عمرانڈو کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ پی ٹی آئی قیادت نے شہرت اور قومی و صوبائی اسمبلیوں میں سیٹیں ملتے ہی قربانیاں دینے اور نعرے مارنے والے یوتھیوں کو فراموش کر دیا ہےاور پارٹی پر موقع پرست غالب آ چکے ہیں اور پارٹی کو خون پسینہ دینے والے کارکن مایوسی کا شکار ہیں اور پارٹی میں نووارد برساتی مینڈکوں کے عروج کو دیکھنے پر مجبور ہیں۔

دوسری جانب پی ٹی آئی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی سینٹرل میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے ارکان اور سوشل میڈیا ورکرز کی گرفتاریوں یا اُن کے لاپتہ ہونے کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔حالیہ دنوں میں پی ٹی آئی کے سینٹرل میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے اہم رکن رضوان احمد، اُن کے بھائی محمد نعمان اور ایک اور رکن محمد شہریار لاپتہ ہوئے ہیں جن کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

مزید برآں پی ٹی آئی کے سابق میڈیا کوآرڈینیٹر اظہر مشوانی کے دو بھائی اور سابق مشیر شہباز گِل کے ایک بھائی کو بھی نامعلوم افراد نے گرفتار کیا۔ تحریک انصاف ان گرفتاریوں کا الزام بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں پر لگا رہی ہے۔پی ٹی آئی مرکزی میڈیا کے اراکین کی گرفتاریوں پر بھی پارٹی کے اندر تقسیم دکھائی دے رہی ہے۔

پارٹی کے کچھ رہنما اِسے اپنے خلاف جاری مہم کا حصہ قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی مرکزی میڈیا کے ارکان کی گرفتاریاں پارٹی کے اندر سے معلومات دینے کی وجہ سے ہوئی ہیں۔دوسری جانب پی ٹی آئی کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے گرفتار ارکان کے اہل خانہ پارٹی قیادت کی جانب سے تعاون نہ کرنے کا شکوہ کر رہے ہیں۔

پی ٹی آئی سی ایم ڈی کے سینیئر رکن رضوان ملک کے ایک کزن نے بتایا کہ اب تک پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت کی جانب سے اُن کے ساتھ کچھ زیادہ تعاون نہیں کیا گیا۔

خیال رہے کہ عمران خان کی غیر موجودگی میں پاکستان تحریک انصاف کی قیادت آپسی اختلافات کا شکار رہی ہے۔ مختلف رہنماؤں کے ایک دوسرے کے خلاف بیانات کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔پارٹی کے ایک سینیئر رہنما نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ پی ٹی آئی سینٹرل میڈیا کے ارکان کے لاپتہ یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اُنہیں حراست میں لیے جانے کا سلسلہ عمران خان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے کیے جانے والے ایک ٹویٹ سے ملتا ہے۔اُنہوں نے مزید بتایا کہ عمران خان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے سقوطِ ڈھاکہ کے بارے میں کیا جانے والا ٹویٹ پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان اور میڈیا ارکان کو قانون نافذ کرنے اداروں کی نظروں میں لے کر آیا ہے۔

اُن کے خیال میں ایف آئی اے نے پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی ترجمان رؤف حسن کو تحقیقات کے لیے بھی بُلایا تھا جہاں اُن سے لمبی پوچھ گچھ کی گئی۔

جب اِس بارے میں پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما اور ترجمان شعیب شاہین سے رابطہ کیا گیا تو اُنہوں نے الزام لگایا کہ اِن تمام گرفتاریوں یا ارکان کے لاپتہ ہونے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے جو پاکستان تحریک انصاف کے بیانیے سے شکست کھا رہی ہے۔شعیب شاہین کے خیال میں پی ٹی آئی کے سینٹرل میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے ارکان کی گرفتاریوں کی ایک وجہ پاکستان تحریک انصاف کی متاثر کن میڈیا پالیسی بھی ہے جو صحیح معنوں میں پارٹی کے موقف اور بیانیے کو عوام تک پہنچا رہی ہے۔اُن کا کہنا ہے کہ مقتدر حلقے پی ٹی آئی میڈیا ڈیپارٹمنٹ کو غیرفعال بنانا چاہتے ہیں جس میں وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔

تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق پی ٹی آئی مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے ارکان کی گرفتاری عام انتخابات 2024 کے بعد سے پی ٹی آئی کے خلاف نئے کریک ڈاؤن شروع ہونے کی ہی ایک کڑی ہے۔اُنہوں نے بتایا کہ ’اس وقت بجٹ میں ٹیکسز کی شرح میں اضافے سے عوام میں ایک بے چینی ہے حکومت کو اس بات کا خدشہ ہے کہ اس صورتحال میں کوئی عوامی تحریک نہ شروع ہو جائے جبکہ پی ٹی آئی عوام کو سڑکوں پر لانے کے لیے جتن کر رہی ہے تاہم ایسی تحریکوں کو پیشگی کچلنے کے لیے حکومت پی ٹی آئی پر ایک طرح سے پریشر بنا رہی ہے۔‘اُنہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف کی میڈیا ٹیم کے خلاف کریک ڈاؤن پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔ 9 مئی کے واقعات کے بعد بھی ایسے کئی افراد کی گرفتاریاں عمل میں لائی گئی تھیں جو کسی نہ کسی طرح سے پی ٹی آئی کی میڈیا پروموشن میں مصروف رہے تھے

Back to top button