شہباز حکومت PTI پر پابندی لگانے کی غلطی کرے گی یا نہیں؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ پاکستان میں ایک مرتبہ پھر تحریک انصاف پر پابندی عائد کرنے کی باتیں شروع ہو چکی ہیں لہذا دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ یہ غلطی کرتی ہے یا نہیں؟ جیو ٹی وی کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ ماضی میں عمران خان کے دور حکومت میں بھی کچھ جماعتوں پر پابندی لگائی گئی لیکن پھر دباؤ میں ا کر وہ پابندی ہٹانا پڑی،  انکا۔کہنا تھا کہ 9 مئی کے واقعات کے بعد تحریک انصاف پر پابندی کی بات ایک سال سے ہورہی ہے، اس سے پہلے ماضی میں پیپلز پارٹی کے پہلے دور حکومت میں نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی لگائی گئی تھی. بعد ازاں اس کا نام بدل کر عوامی نیشنل پارٹی رکھ دیا گیا۔ حامد میر نے کہا کہ جب نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی لگائی گئی تب خان عبدالولی خاں اس کے سربراہ تھے اور ان کا صاحبزادہ ایمل ولی خان پارٹی سربراہ ہے۔ لیکن سیاست کی ستم ظریفی دیکھیں کہ ماضی میں نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی لگانے والی پیپلز پارٹی نے 2024 کے سینیٹ الیکشن میں ولی خان کے پوتے ایمل ولی کو سینیٹر منتخب کروایا۔ مطلب یہ ہوا کہ سیاست میں آج کے دشمن کل آپ کے دوست اور کل کے دشمن آج اپ کے دوست بن سکتے ہیں۔

 حامد میر نے کہا کہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں پیپلز پارٹی پر بھی پابندی لگا دی گئی اور اس کا انتخابی نشان تلوار چھین لیا گیا تھا، اسی طرح 8 فروری 2024ء کے انتخابات سے کچھ دن پہلے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے ذریعہ پی ٹی آئی سے اس کا انتخابی نشان چھینا گیا۔ حامد میر نے کہا کہ موجودہ حکومت بظاہر کہتی ہے کہ وہ سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے لیکن تحریک انصاف کے لیڈرز پارٹی پر پابندی کا خطرہ محسوس کررہے ہیں۔

 حامد میر نے اپنے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاست دانوں کی انہی کمزوریوں کی وجہ سے فوج کو سیاست میں مداخلت کا موقع ملا، اور اسمبلیاں ٹوٹنے کا سلسلہ شروع ہوگیا، پھر سیاست دانوں کو نااہل قرار دینے کا سلسلہ شروع ہوا. پھر سیاستدانوں نے ایک دوسرے کو جیلوں میں ڈالنا شروع کیا، سیاستدانوں کی ان کمزوریوں کی وجہ سے فوج کو سیاست میں مداخلت کا موقع ملا، پھر 1958ء میں مارشل لاء لگ گیا، نتیجہ یہ ہوا کہ جنرل ایوب، جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف جیسے آمروں نے دس دس برس سے زیادہ پاکستان پر حکومت کی۔

حامد میر نے کہا کہ پاکستان میں پہلا مارشل لا نافذ کرنے والے جنرل ایوب خان نے صدارتی الیکشن میں دھاندلی کے ذریعہ محترمہ فاطمہ جناح کو شکست دی، یوں جنرل ایوب خان تو جیت گئے مگر ہمارا پاکستان ہار گیا، تاریخ بار بار ہمیں بتاتی ہے کہ آپ جو کنواں دوسروں کیلئے کھودتے ہیں اسی کنویں میں خود بھی گرتے ہیں، آج بھی جو حکمراں ہیں انہوں نے بھی تاریخ سے سبق نہیں سیکھا، وہ تمام غلطیاں جو ماضی کے حکمران کرتے رہے اور ایک دوسرے کیخلاف کنویں کھودتے رہے پھر خود بھی ان کنوؤں میں گرتے رہے اب موجودہ حکومت بھی ویسے ہی کام کررہی ہے۔

اب حالات یہ ہیں کہ سپریم کورٹ بار بار ایسے فیصلے دیتی ہے کہ خفیہ اداروں کو سیاست میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے لیکن آج بھی سیاستدان شکایت کرتے ہیں کہ خفیہ ادارے سیاست میں مداخلت کرتے ہیں بلکہ اب تو ججوں نے بھی ایسی ہی شکایتیں کرنا شروع کردی ہیں۔ حامد میر نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں قائم ہوا، ایک سیاسی جماعت آل انڈیا مسلم لیگ کے قائد محمد علی جناح کی قیادت میں تحریک پاکستان کامیابی سے ہمکنار ہوئی، پاکستان آج جس سیاسی انتشار اور بے یقینی کے گرداب میں پھنسا نظر آتا ہے، اس سے نکلنے کا راستہ کوئی جرنیل نہیں بلکہ سیاست دان ہی  بتا سکتا ہے۔

Back to top button