کیا پنجاب حکومت واقعی عوام کو قسطوں پر سولر سسٹم دے گی؟

 مریم  نواز کی پنجاب حکومت نے بجلی کی بڑھتی قیمتوں کے دوران 500یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کو ماہانہ اقساط پر سولر سسٹم فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس کے بعد سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے کہ پنجاب کے کون سے عوام کو سولر سسٹم  فراہم کئے جائیں گے اور اس کی ادائیگی کا طریقہ کار کیا ہو گا؟ جبکہ بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سکیم کے ذریعے بھی نون لیگ اپنے ورکرز کو نوازنے کا پلان بنا رہی ہے اس پروگرام سے عام عوام مستفید نہیں ہونگے تاہم حکومتی ذمہ داران کے مطابق ایک مربوط پالیسی کے ذریعے عوام کو سولر سسٹم فراہم کئے جائینگے جس میں کسی قسم کی سفارش کا عمل دخل نہیں ہو گا۔

خیال رہے کہ پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کی حکومت نے منگل کے روز پہلی شمسی توانائی پالیسی کی منظوری دے دی ہے۔ صوبائی کابینہ کے اجلاس سے منظوری کے بعد وزیراعلٰی ہاؤس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبے کے 45 لاکھ بجلی کے گھریلو صارفین کو حکومت آسان اقساط پر سولر سسٹم لگا کر دے گی۔

پنجاب حکومت کے سولر سسٹم منصوبے کی دستاویزات کے مطابق پانچ طرح کے گھریلو صارفین کو اقساط پر سرکاری سولر سسٹم دئیے جائیں گے۔ ایسے گھریلو صارفین جن کے بجلی کے ماہانہ یونٹ 50 یا اس سے کم ہیں انہیں 500 واٹ جبکہ 50 سے 100 یونٹ کے گھریلو صارفین کو ایک کلو واٹ کا سولر سسٹم دیا جائے گا۔ اسی طرح 200 سے 300 یونٹ کے صارفین 1100 واٹ، 300 سے 400 یونٹ کے صارفین 1650 واٹ اور 500 یونٹ کے صارفین 2200 واٹ تک کا سسٹم لگوا سکیں گے۔

تاہم اصل سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گھریلو صارفین کو سولر سسٹم کیسے فراہم کئے جائیں گے؟حکومتی دستاویزات کے مطابق سکیم کے لاگو ہوتے ہی صارفین اپنے موبائل فون سے 8800 پر بجلی کے بل کا ریفرنس نمبر اور شناختی کارڈ نمبر بھیجیں گے جس سے ان کی رجسٹریشن مکمل ہو گی۔ رجسٹریشن کا وقت ختم ہونے کے بعد قرعہ اندازی کے بعد اہل صارفین کو یہ چوائس دی جائے گی کہ وہ اپنی مرضی کے بینک میں کل لاگت کا 25 فیصد جمع کروائیں جبکہ باقی کا 75 فی صد بینک دے گا۔

اس کے بعد حکومت کی طرف سے پاس کی گئی سولر سسٹم لگانے والی کمپنیوں کی فہرست میں سے بینک اپنی مرضی سے ایک کمپنی کو منتخب کرے گا اور وہ کمپنی صارف کے گھر جا کر اس کی اہلیت کے مطابق سولر سسٹم نصب کرے گی۔اس کے بعد صارفین کے بل میں اس سولر سسٹم کی قسط آئے گی جو ان کو ہر ماہ ادا کرنا ہو گی۔

حکومتی تخمینے کے مطابق دن میں 300 یونٹ کے صارفین کا ماہانہ بل اس وقت نئی قیمتوں کے مطابق تقریب 19 ہزار 500 روپے ہے۔ سولر سسٹم کی تنصیب سے ان کا بل 13 ہزار روپے ہو جائے گا، تاہم انہیں سولر سسٹم کی ماہانہ قسط 3 ہزار 750 روپے بھی ادا کرنا ہو گی۔اسی طرح 400 یونٹ کے صارفین کا ماہانہ بل 28 ہزار 900 روپے ہے۔ سولر سسٹم کی قسط دے کر 24 ہزار روپے بل آئے گا۔ 500 یونٹ والے صارفین 39 ہزار کے بجائے 32 ہزار کا بل دیں گے جس میں سولر کی قسط شامل ہو گی۔

خیال رہے کہ صارفین کو اگلے پانچ سال کے دوران یہ قسطیں اپنے بجلی کے بلوں میں ادا کرنا ہوں گی جبکہ بینک سے جاری قرضوں پر سود پنجاب حکومت خود ادا کرے گی۔

تاہم یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ پنجاب حکومت کی سولر سکیم سے کون سے صارفین مستفید نہیں ہو سکیں گے؟ اور اس سکیم کیلئے اہلیت کیا ہو گی؟

دستاویزات کے مطابق بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام یا اس جیسے کسی دوسرے حکومتی امدادی پروگرام میں رجسٹرڈ افراد اس شمسی توانائی منصوبے کے لیے نااہل ہوں گے۔ایسے افراد کی جانب سے 8800 پر پیغام بھیجتے ہی سسٹم ان کو بتا دے گا کہ وہ اس کے اہل نہیں ہیں۔ ایسے افراد جن کے اوپر بجلی چوری یا میٹر کو خراب کرنے کا مقدمہ درج ہو گا وہ بھی اس سکیم میں حصہ لینے کے اہل تصور نہیں ہوں گے۔

ایسے افراد جن کے گھر کے پتے پر ایک سے زائد میٹر نصب ہوں گے یعنی اگر ایک گھر میں ہر منزل پر علیحدہ میٹر لگا ہو گا تو وہ افراد بھی اس سکیم سے استفادہ نہیں کر سکیں گے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس سکیم میں نان فائلرز بھی حصہ نہیں لے سکیں گے۔ یعنی درخواست دینے سے قبل آپ کا این ٹی این نمبر ہونا ضروری ہے۔

Back to top button