کیا آئی ایس آئی کو فون کالز اور مسیجز تک رسائی دینا جائز ہے؟

،
وفاقی حکومت کی جانب سے فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کو قومی سلامتی کے نام پر شہریوں کی فون کالز اور میسجز ’انٹرسیپٹ‘ intercept کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ شدید عوامی تنقید کی زد میں ہے۔ اس فیصلے پر نہ صرف اپوزیشن رہنما بلکہ انسانی حقوق کے تنظیمیں بھی تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔ انکی رائے میں یہ قدم آئین میں موجود شہریوں کے حقوق کی نفی ہے۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دیگر ممالک کی طرح پہلے سے ” لافل انٹرسیپشن” lawful interception ہو رہی ہے جسے اب مزید قانونی جواز فراہم کیا گیا ہے اور اس قانون کی خامیاں دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

8 جولائی 2024 کو جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کے مطابق وفاقی حکومت نے آئی ایس آئی افسران کو کالیں سننے اور میسج ریکارڈ کرنے کا اختیار پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن ایکٹ 1996 کے سیکشن 54 کے تحت دیا ہے جس کی بنیاد قومی سلامتی کا تحفظ ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں فوجی ادارے ہر ناجائز کام قومی سلامتی کے نام پر ہی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ائی ایس ائی کو تشکیل دینے کا بنیادی مقصد دشمن ممالک کی جاسوسی کرنا تھا تاکہ بیرونی سازشیں کاؤنٹر کی جا سکیں لیکن ظلم یہ ہے کہ پاکستان میں فوجی ادارے دشمنوں کو چھوڑ کر اپنے ہی شہریوں کی جاسوسی پر لگے ہوئے ہیں۔

ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ 1996 کی شق 54/1 کے مطابق وفاقی حکومت قومی سلامتی کے مفاد یا کسی جرم کے تناظر میں کسی بھی شخص کو کالز اور میسجز کو انٹرسیپٹ یا کسی ٹیلی کمیونیشن سسٹم کے ذریعے کالز کو ٹریس کرنے کی اجازت دے سکتی ہے۔ تاہم وفاقی حکومت نے کہا ہے کہ کال ریکارڈ کرنے یا سننے کے عمل کے لیے خفیہ ادارے کی جانب سے جو افسران نامزد کیے جائیں گے وہ 18 گریڈ سے کم کے نہیں ہوں گے۔ ماضی میں پاکستان کے وزرائے اعظم، خاتون اول، وفاقی وزرا اور اعلیٰ عہدوں پر فائز شخصیات اپنی ذاتی ٹیلیفونک گفتگو منظر عام پر لائے جانے کا دعویٰ کر چکے ہیں جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق وزیرِاعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جانب سے ان کی اپنے وکیل سے گفتگو افشا کیے جانے کا معاملہ زیر سماعت ہے۔ اس معاملے کی سماعت کے دوران یہ معلومات بھی سامنے آئی ہیں کہ پاکستان میں ٹیلی کام کمپنیاں ’لا فُل انٹرسیپٹ مینیجمنٹ سسٹم‘ نامی ایک مخصوص نظام کے تحت خفیہ اداروں کو صارفین کا ڈیٹا فراہم کرتی ہیں۔ عدالت نے اس معاملے میں اپنے حکم نامے میں کہا ہے کہ اسے بتایا گیا ہے کہ ملک میں کام کرنے والی ٹیلی کام کمپنیوں نے پاکستانی خفیہ اداراوں کو اپنے 40 لاکھ صارفین کے فون کال، میسجز اور دیگر ڈیٹا تک ’لافُل انٹرسیپٹ مینجمنٹ سسٹم‘ کے ذریعے رسائی دے رکھی ہے۔

عدالت نے اس معاملے میں اپنے حکم نامے میں یہ بھی لکھا ہے کہ پاکستانی حکومت اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے عدالت کو بتایا تھا کہ کسی بھی ایجنسی کو نگرانی کی اجازت نہیں دی گئی اور حکومتِ پاکستان عدالت میں رپورٹ جمع کروائے کہ ’لا فُل انٹرسیپٹ مینیجمنٹ سسٹم‘ لگانے کا ذمہ دار کون ہے جو شہریوں کی نجی زندگی میں مداخلت کر رہا ہے۔منگل کو قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ملک کی سب سے اعلیٰ انٹیلیجنس ایجنسی کو ’لافُل انٹرسیپشن‘ کا یہ اختیار 28 سال پرانے قانون پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ 1996 کے تحت دیا گیا ہے تاکہ قومی سلامتی کے مفاد میں اور ضروری پڑنے پر اس کے اِن اہلکاروں کے پاس ڈیٹا تک رسائی ہوگی جو گریڈ 18 سے اوپر کام کر رہے ہیں اور ان افسران کی ایک فہرست بھی موجود ہو گی۔ انھوں نے راولپنڈی میں سابق وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو اور لاہور میں ڈی آئی جی مبین کے قتل کے مقدمات کا حوالہ دے کر کہا کہ ان میں فون ٹیپنگ اور جیو فینسنگ کے ذریعے شواہد جمع کیے گئے تھے۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ وقتاً فوقتاً نوٹیفیکیشن جاری کیے جاتے ہیں جن کے تحت حکومت ایجنسیوں اور ان کے افسران کو قانون کے مطابق اختیارات دیتی ہے۔ ’حکومت نے یہ یقینی بنانے کے لیے کہ یہ اختیارات انسدادِ دہشتگردی، ملکی سکیورٹی اور جرائم کا پتا لگانے کے لیے استعمال کیے جائیں، اس لیے آئی ایس ائی کو نوٹیفکیشن کے ذریعے اختیارات دیے ہیں۔‘ اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ حکومت نہیں چاہتی تھی کہ دائرہ کار 50 ایجنسیوں تک پھیلایا جائے اور ’ہر کسی کو اختیارات دیے جاتے تو یہ بھی بُرا تھا۔‘

وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ یہ کوئی نیا یا انہونا کام نہیں ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون پچھلے 28 سالوں سے لاگو ہے اور دنیا کے دیگر ممالک میں بھی ایسے قوانین موحود ہیں۔ برطانیہ کے قانون ’ٹیلی کام لا فل انٹرسیپشن آف کمینیکیشن ریگولیشن‘ کی مثال دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہاں بھی یہ چیزیں موجود ہیں۔ اس قانون کے استعمال کے غلط یا صحیح ہونے پر چیک ہو سکتے ہیں لیکن میں ثابت یہ کرنا چاہتا تھا 1996 سے یہ قانون موجود ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ اور برطانیہ میں بھی قومی سلامتی کے نام پر لافُل انٹرسیپشن کی جاتی ہے۔ ’یہ کرنا صحیح ہے یا غلط، یہ ایک بحث ہے۔

ائی ایس ائی کو فون ٹیپنگ کا اختیار دینے کی مذمت کرتے ہوئے سینئیر صحافی عباس ناصر کا کہنا ہے کہ ہائبرڈ حکومت نے پاکستانیوں سے ان کی پرائیویسی چھین لی ہے اور آئی ایس آئی کو یہ اجازت دی ہے کہ وہ شہریوں کی نجی، ذاتی گفتگو کی نگرانی کرے۔ ہائبرڈ سسٹم چین جیسا آمرانہ نظام لانا چاہتا ہے، معاشی پیداوار کے بغیر۔‘
سماجی کارکن عمار راشد نے شہباز شریف کی حکومت کو دہائیوں کی سب سے کمزور سویلین حکومت قرار دیا ہے جبکہ صارف حمد نواز نے طنزیہ کہا کہ وہ ملک میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی سربراہی میں اس ’ترقی پسند صبح‘ کو بہت پسند کر رہی ہیں۔ ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی سربراہ نگہت داد کا خیال ہے کہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 14 کے مطابق شہریوں کو پرائیویسی کا حق حاصل ہے اور اب آئی ایس آئی کو ان کی کال ٹیپ کرنے کا مکمل اختیار دینا اس سے متصادم ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ نوٹیفیکیشن کے ذریعے آئی ایس آئی کو ایک بلا رکاوٹ اور وسیع اختیار دیا گیا ہے حالانکہ ’کسی بھی ملک میں جب سرویلنس کی جاتی ہے تو اس کے کچھ قوائد و ضوابط طے ہوتے ہیں جو کہ ہماری اعلیٰ عدالتوں نے بھی کئی بار طے کیے ہیں۔‘

Back to top button