عمران خان نے پاکستان کو جو زخم لگائے، انکا بھرنا مشکل کیوں ہے؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ 2018 میں عمران خان کو برسر اقتدار لانے کے لیے انکے عسکری عشاق نے جسدِ پاکستان کے اَنگ اَنگ پر اتنے گہرے زخم لگائے کہ اُن کا بھرنا اگلے کئی برس تک ممکن نہیں۔
نواز شریف کو ہٹانے اور عمران خان کو لانے کیلئے تب کے جرنیلوں، ججوں اور انقلابی صحافیوں نے مذہبی جوش وجذبہ کیساتھ یک دل و یک جان ہوکر جو کچھ کیا اُس کی نظیر نہیں ملتی۔ لیکن اس ’’معرکۂِ عظیم‘‘ کے جو اثرات اس ملک پر مرتب ہوئے، اُن کی بھی نظیر نہیں ملتی۔ عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ خان صاحب اور ان کے مصاحبین اب بھی ملک میں نئے انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا نئے الیکشن سے یہ سارے زخم بھر جائیں گے؟ کیا بجلی کے بلوں کے نام پر اسلام آباد میں ایک نئے دھرنے کا آتشکدہ سُلگانے سے مریض کو شفا مل جائے گی؟ کیا تحریکِ تحفظِ آئین کے جلسے سارے مسائل حل کر دیں گے ؟ کیا 9 مئی کی سازش پر مٹی ڈالنے، سارے مقدمات ختم کردینے اور خان صاحب کو آزاد کردینے سے انہی کے لگائے ہوئے زخم بھر جائیں گے؟ کیا کچھ تنخواہوں یا مراعات میں کمی کے آرائشی اقدامات سے تیزاب کے تالاب میں جھونک دی جانے والی پاکستانی معیشت حسینہ عالم بن کر زندہ ہوجائے گی؟

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عرفان صدیقی سوال کرتے ہیں کہ حکومت پر تبرّیٰ کرنے والوں میں سے کس مسیحا کے ہاتھ میں وہ کرشمہ ہے جو چشم زدن میں ہمیں آئی۔ایم۔ایف سے نجات دلا دے گا، ٹیکسوں میں چھوٹ دے کر دولت کی ریل پیل کر دے گا، کون یے جس کی ہیبت سے قرضوں کا پہاڑ سمٹ کر رائی ہوجائے گا اور جس کی ایک پھونک سے دس کروڑ عوام غربت کی لکیر سے اوپر اُٹھ کر عیش ونشاط کے منطقے میں داخل ہوجائیں گے۔ انکا کہنا یے کہ اس طرح کی جادوگری کبھی ہوئی نہ ہوگی۔ آج عالم یہ ہے کہ پاکستان کی مجموعی سالانہ آمدنی 7 ہزار ارب روپے ہے جبکہ صرف قرضوں کا سود 8 ہزار ارب روپے ہے۔ لہازا بہتر ہو گا کہ خان صاحب کے ساتھی جھوٹے پروپیگنڈے کی فیکٹریاں بند کردیں اور اُنہیں دلجمعی سے کام کرنے دیں جو اپنی سیاست کو دائو پر لگا کر نوکیلے کانٹوں کی وہ فصل کاٹ رہے ہیں جو آپ نے بوئی تھی۔ پھر بھی اگر کوئی طلسمی نسخۂِ کیمیا آپ کی زنبیل میں پڑا ہے تو بے کھوکھلے دعووں اور نعروں کے بجائے اُسے بروئے کار لائیں، لیکن المیہ یہ ہے کہ آپ کا ہنر جھوٹ، الزامات، کھوکھلے نعروں، بے بنیاد دعووں، جلسوں، جلوسوں، دھرنوں اور لانگ مارچوں سے شروع ہوتا اور اِنہی پر ختم ہو جاتا ہے۔

عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ سات برس پہلے 2017ء کے یہی روز و شب تھے جب ایک منصوبہ بند سازش کے ذریعے شاہراہ مستقیم پر چلتے پاکستان کو دلدلی جنگلوں کی طرف دھکیل دیاگیا اور نواز شریف کو اقتدار سے بے دخل کر دیا گیا۔ یہ سوال اَن گنت مرتبہ پوچھاگیا اور شاید برسوں بعد بھی پوچھا جاتا رہیگا کہ نوازشریف کو سیاست بدر کرکے ایک ناپختہ کار طفلِ خود معاملہ کو ملک کی باگ ڈور سونپنا کیوں ناگزیر ٹھہرا تھا؟ کیا پاکستان زوال پذیر تھا؟ کیا ملکی ترقی وخوشحالی اور عوامی بہبود کے تمام اشاریے نیچے کی طرف جارہے تھے؟ کیا قومی سلامتی کیلئے سنگین مسائل پید اہوگئے تھے؟ حقیقت یہ ہے کہ نواز شریف کے خیمۂِ اقتدار کی طنابیں اکھاڑنے کے لیے ہر طرح کی سازشیں کی گئیں۔ طاہرالقادری، عمران خان اور ظہیر الاسلام کا لندن پلان حرکت میں تھا، پھر چار ماہ پر محیط خون آشام دھرنا ہوا، آئی۔ایس۔آئی کے سربراہ ظہیرالاسلام کی جانب سے وزیراعظم کو کھُلی دھمکی دی گئی کہ استعفیٰ دیکر گھر چلے جائو ورنہ ٹھیک نہیں ہوگا، دوسری جانب توسیع لینے کیلئے انگاروں پر لوٹتے جنرل راحیل شریف بھی وزیراعظم کو زچ کرنے کیلئے ایجنسیوں کو استعمال کر رہے تھے۔ اس کے بعد ڈان لیکس کا ڈرامہ بھی رچایا گیا اور پھر پانامہ کی شطرنجی بساط بچھا دی گئی، وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف آئی ایس پی آر ترجمان کی جانب سے ’’ریجیکٹڈ‘‘ کی شہرۂِ آفاق ٹویٹ کر دی گئی، اسکے بعد سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل کردہ عجیب الخلقت جے۔آئی۔ٹی کی رپورٹ کو بنیاد بنا کر ایک منتخب وزیراعظم کو ’’بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نااہل کر دیا گیا۔ یہ تمام واقعات کسی ہالی وڈ فلم کے اسکرپٹ کی طرح، تاریخ کی لوح پر رقم ہوچکے ہیں۔

عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ یوں 28 جولائی2017 کو نوازشریف کو گھر بھیج دیا گیا۔ برسوں پر محیط، شجاع پاشا، ظہیرالاسلام، عاصم باجوہ، آصف غفور، فیض حمید، راحیل شریف اور قمرباجوہ کی اَن تھک محنت رنگ لائی۔ عمران خان 2018 کے افق سے انقلاب عظیم کا آفتابِ جہاں تاب بن کر طلوع ہوئے۔ اس کے ساتھ ہی نوازشریف عہد کی کمائی لٹنے کا عمل شروع ہوگیا۔ پونے چار برس پورے ہونے تلک ملک زوال کی گہری کھائی میں لڑھک چکا تھا۔ معاملہ صرف معیشت کی بربادی، سی پیک کے انجماد، پچیس فی صد کی شرح تک پہنچا دی جانے والی مہنگائی اور سات دہائیوں میں لئے گئے مجموعی قرضوں کے برابر نئے بیرونی قرضوں کا نہ تھا، پارلیمنٹ، قومی ادارے، سماجی اخلاقیات، تہذیبی قدریں، جمہوری روایات، مکالمے کا سلیقہ، سیاسی رواداری، سبھی کچھ طفلانہ خودسری کی بھٹی کا ایندھن ہوگیا۔ وہ دن اور آج کا دن، پاکستان سنبھلنے میں نہیں آ رہا۔ نوازشریف کو ہٹانے اور عمران خان کو لانے کیلئے اُس وقت کے جرنیلوں، ججوں اور ’’انقلابی صحافیوں‘‘ نے مذہبی جوش وجذبہ کیساتھ یک دل ویک جان ہوکر جو کچھ کیا اُس کی نظیر نہیں ملتی۔ اس ’’معرکۂِ عظیم‘‘ کے جو اثرات ونتائج مرتب ہوئے، اُن کی مثال بھی نہیں ملتی۔ پاکستان کا یہ حشر نہ بھارت کے ساتھ لڑی گئی جنگوں میں ہوا نہ جنگوں کے نتیجے میں۔ سقوطِ ڈھاکہ کے بعد بھی ملک سات برس تک جمہوری راہ پر چلتا رہا۔ اُفتاد کے ان بے مہر موسموں میں بھی ہم نے اتفاق رائے سے ایک آئین بنالیا جو پیہم تازیانے کھانے کے باوجود آج بھی قومی اتحاد و یک جہتی اور ملکی نظم ونسق کی مستند دستاویز ہے۔ لیکن 2018ءمیں شعوری طورپر ہمارا مقدّر بنا دئیے جانے والے سیاسی زلزلے کی تباہ کاریوں کا مداوا مشکل ہوا جارہا ہے۔ اور یہ سب عمران خان اور ان کو اقتدار میں لانے والوں کی دین ہے۔ لیکن اس دوران پاکستان کے جسم پر جو زخم لگے ہیں ان کا بھرنا اتنا اسان نہیں۔

Back to top button