کیا شاہد خاقان عباسی قائد انقلاب بن کر شہباز کی چھٹی کروائیں گے؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل کی جانب سے نون لیگ چھوڑ کر نئی سیاسی جماعت بنانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں ایک انقلاب آتا دیکھ رہا ہوں کیونکہ شہباز شریف کا متبادل شاہد خاقان عباسی میدان میں اتر چکا ہے، جس روز شہباز شریف اور فوج میں کوئی اختلاف ہوا، اس روز شہباز شریف سے زیادہ باصلاحیت قائد شاہد خاقان عباسی قائد انقلاب بن کر عوامی سمندر کی مدد سے اقتدار میں آ جائیں گے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں میں تو دیوانہ ہوں اور دن میں بھی خواب دیکھتا ہوں، مجھے تو چائے کی پیالی میں بھی طوفان چھپا نظر آتا ہے، اس لیے میں جو سوچتا ہوں وہی دیکھتا بھی ہوں اور وہی ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں۔

وہ لکھتے ہیں کہ پرانی عادتیں جلدی ختم نہیں ہوتیں، اپنی پرانی عادت کے سبب شاہد خاقان اور مفتاح اسماعیل کی نئی جماعت ’’عوام پاکستان پارٹی‘‘ کے تشکیل پاتے ہی مجھ پر دوبارہ دیوانگی طاری ہو چکی ہے اور میں جاگتی آنکھوں سے بھی انقلاب کے خواب دیکھنے رہا ہوں ،شاہد خاقان عباسی کی شکل میں مجھے نیا قائد انقلاب مل گیا ہے، بس اب تھوڑا صبر کرنا ہے کیونکہ عوام نے پاکستان کو انقلاب کے ذریعے بدل دینا ہے۔ یہاں جلد ہی دودھ اور شہد کی نہریں بہنا شروع ہو جائیں گی، ہمارے پہاڑ سونا اگلیں گے اور ہمارے میدانوں میں گل ہائے نوبہار اُگیں گے۔ میں شاہد خاقان عباسی کو ایسے ہی قائد انقلاب نہیں مانتا، اپنے مشکل دور میں انہوں نے چی گویرا کی سی بہادری دکھائی ، چاہے جنرل مشرف کی طیارہ اغوا کیس کی قید ہو یا عمران خان دور کی جیل ، جس عزیمت سے شاہد خاقان عباسی نے وہ دن گزارے اس نے گاندھی، آزاد اور نہرو کی قید کی یاد تازہ کردی، جیل میں وہ باہر سے کھانا نہیں منگواتے تھے عام قیدی کی طرح ہی جیل کی دال روٹی کھاتے تھے، اپنے مقدمات کیلئے نہ کوئی مہنگا وکیل کیا نہ کبھی عدلیہ سے ریلیف مانگا۔ مجھے یاد ہے کہ جنرل باجوہ نے ایک پریس بریفنگ میں کھلے عام کہا تھا کہ شاہد خاقان عباسی اپنے لیڈر نواز شریف سے بھی زیادہ قابل وزیر اعظم ہیں۔ انہوں نے ایک اور محفل میں مفتاح اسماعیل کو اسحاق ڈار سے بہتر وزیر خزانہ قرار دیا تھا۔ گویا ہمارے نئے قائد انقلاب نہ صرف باصلاحیت ہیں بلکہ انکی قائدانہ صلاحیتوں کی گواہی فوج بھی دیتی رہی ہے، گویا نئے انقلاب کو عوام کے ساتھ ساتھ طاقتوروں کی حمایت بھی حاصل ہو جائے گی۔ سیٹی بجنے کی دیر ہے، انقلاب بس آنے ہی والا ہے۔

بجلی کے ٹیرف میں اضافے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

سہیل وڑائج کہتے ہیں کہ میرے قائد انقلاب کو ملک کے سب سے تجربہ کار سیاستدان نواز شریف نے اپنے جانشین کے طور پر مانا، اُس نے بطور وزیر اعظم وہ کمالات دکھائے کہ جنرل باجوہ سمیت ساری فوج ان کی مداح بن گئی۔ وہ فائلوں کو میز پر رکنے ہی نہیں دیتے تھے اور ’’ون منٹ منیجر‘‘ کی طرح فوراً اور صحیح فیصلے کرتے تھے۔ قائد انقلاب کیلئے ہر طرف سے گرین سگنل تھا، اتنی کامیاب وزارت ِعظمیٰ کے بعد ان کا حق تھا کہ انہیں نواز شریف پھر وزیر اعظم بنا دیتے ،بس درمیان میں دو ولن آگئے۔ مفتاح اسماعیل کی پالیسیاں اسحاق ڈار کو پسند نہ آئیں اور انہوں نے نواز شریف کوبھی اس بات پر ہم نوابنا لیا۔ میرے قائد انقلاب کواصل مسئلہ مریم اور شہباز شریف کی طرف سے آیا۔ اب مریم کا کیا مقام تھا کہ وہ قائد انقلاب کے برابر کے عہدے، ن لیگ کی نائب صدارت ،پر فائز ہو۔ قائد انقلاب کو لازمی طور پر برا لگا کہ کہاں وہ جن کی زمانہ تعریفیں کرتا ہے اور ایک وہ خاتون جس کا کوئی سیاسی تجربہ ہی نہیں،وہ دونوں برابر کے عہدوں پر کیسے رہ سکتے ہیں؟ کہاں اتنا بڑا لیڈر اور کہاں رشتہ داری کی بنیاد پر اہم خاتون۔ دونوں کا کیا موازنہ۔ یہ ٹھیک ہے کہ اس خاتون نے بڑے بڑے جلسے کئے، مزاحمت کی ، ڈٹ کر کھڑی رہی، مگر میرٹ تو قابلیت کوہونا چاہیے۔ قائد انقلاب شاہد خاقان جیسا میرٹ ن لیگ میں کسی کا بھی نہیں تھا۔ دوسرا معاملہ یہ پیش آیا کہ شہباز شریف قائد انقلاب کی قابلیت سے حسد کرنے لگے، شہباز شریف کے وفادار، شاہد خاقان عباسی کی کابینہ میں بھی انہیں ناکام بنانے کی کوشش کرتے تھے ، شہباز شریف ، شاہد خاقان عباسی کو اپنی وزارت عظمیٰ کے راستے میں رکاوٹ سمجھتے تھے، قائد انقلاب ن لیگ کے اندر رکاوٹوں کو بھانپ گئے اور ہر بڑے لیڈ ر کی طرح انہوں نے خود انقلاب لانے کا فیصلہ کیا۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اب آپ ہی فیصلہ کریں کہ کہاں قائد انقلاب شاہد خاقان جیسا بڑا آدمی اور کہاں شہباز شریف جیسا مصلحت پسند ۔ دونوں کا کیا مقابلہ؟ شاہد خاقان عباسی کا مرتبہ بہت بلند ہے جو خوبیاں ان میں جنرل باجوہ نے دیکھی تھیں وہ ابھی سب کو نظر نہیں آ رہیں لیکن کل کو جب انقلاب آئے گا تو ہرکوئی جنرل باجوہ کی بصیرت کی داد دیا کرے گا۔ قائد انقلاب کا ہراول دستہ بھی پورے کا پورا انقلابی ہے ۔ مفتاح اسماعیل کراچی کے مذہبی میمن اور کاروباری خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، غریبوں اور مڈل کلاس کا درد ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے کیا ہوا جو وہ خود اشرافیہ سےتعلق رکھتے ہیں یا صنعت کار ہیں اصل بات تو احساسات کی ہے اور ان کے احساسات اپنی کلاس کےخلاف اور محروم طبقات کے حق میں ہیں ،آپ اسے تضاد سمجھتے ہیں تو سمجھتے رہیں،فرعون کے گھر میں ہی موسیٰؑ پرورش پاتے ہیں ۔ بس مان لیں کہ و ہ پرورش پا چکا اور اب انقلاب آتے ہی غریبوں کے حالات بدل جائیں گے اور یہ ساری فتح، مفتاح کے ہاتھوں سے ہوگی۔

سہیل وڑائچ کے مطابق کوئی مانے یا نہ مانے، سازشی تھیوری یہ ہے کہ شہباز شریف کا متبادل شاہد خاقان عباسی میدان میں اتر چکا ہے، جس دن شہباز شریف اور فوج میں کوئی اختلاف ہوا، فوج شہباز سے زیادہ باصلاحیت قائد انقلاب کو آگے لے آئے گی، لیکن مجھے اس سازشی کہانی سے اختلاف ہے ،یہ کہانی قائد انقلاب کی شہرت خراب کرنے کیلئے تراشی گئی ہے، قائد انقلاب جب عوامی میدان میں نکلیں گے تو عوام کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگ جائیں گے، ہر طرف انقلاب اورتبدیلی کے نعرے گونجیں گے، فوج اور عوام مل کر قائد انقلاب کو بھرپور مینڈیٹ کے ساتھ اقتدار میں لائیں گے اور یوں میرا انقلاب کا خواب سچا ثابت ہو جائے گا۔ آپ مانیں یا نہ مانیں، آپ کی مرضی، میں تو دیوانہ ہوں اپنی کہتا چلا جائوں گا۔

Back to top button