علی امین گنڈاپور نے عمران کی احتجاجی کال کا ستیاناس کر دیا

عمران خان کی جانب سے اپنی رہائی کے لیے احتجاجی تحریک کی کال کے بعد بجائے کہ پارٹی قیادت متحد ہو جاتی، اس کی صفوں میں اختلافات شدید تر ہو گئے ہیں اور احتجاجی تحریک شروع ہونے سے پہلے ہی ناکامی کا شکار ہوتی نظر آتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحریک کی کامیابی کا اگر ایک فیصد بھی چانس تھا تو وہ خیبر پختونخواہ حکومت کی وجہ سے تھا، لیکن علی امین گنڈاپور نے عمران خان کی احتجاجی کال کے برعکس 90 روز کا اعلان کر کے ساری تحریک کا ستیاناس کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ عمران خان کی حراست کو 5 اگست کو دو سال پورے ہو رہے ہیں چنانچہ بانی پی ٹی آئی نے 5 اگست سے احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے 90 روزہ ’آر یا پار‘ سیاسی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تحریک شروع ہو چکی ہے اور جاری رہے گی۔ ایسے میں پارٹی ورکرز کنفیوزڈ ہیں اور یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کس کی بات کا یقین کرین۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ ایسی تحریک کا کوئی مستقبل نہیں جس کی قیادت ہی ایک صفحے پر نہ ہو۔ انکے مطابق عمران خان کہتے ہیں پانچ اگست، جبکہ علی امین گنڈا پور کہتے ہیں 90 دن، بنیادی وجہ یہ ہے کہ گنڈاپور اپنی حکومت بچانے کے لیے وقت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔‘ فیصل کریم کنڈی کے بقول ’علی امین چاہتے ہیں کہ احتجاج نہ ہو اور حالات ان کے حق میں رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 90 دن کی تحریک کا اعلان کیا گیا ہے۔‘
اس صورتحال میں تحریک انصاف کے کارکنان اور چاہنے والوں کے لیے سب سے بڑی مشکل یہ بن گئی ہے کہ پی ٹی آئی رہنما خود ہی ایک صفحے پر متحد دکھائی نہیں دے رہے اور اس معاملے پر جماعت کے اندر سے مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ پنجاب سے تحریک انصاف کی رہنما عالیہ حمزہ نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے کہا کہ ’وزیراعظم خان کی رہائی کے لیے کس لائحہ عمل کا کل یا آج اعلان ہوا ہے؟ تحریک کہاں سے اور کیسے چلے گی؟ پانچ اگست کے مقابلے میں 90 دن کا پلان کہاں سے آیا ہے؟‘ دوسری جانب سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ عمران خان نے تحریک کو 5 اگست کے عروج سے جوڑا ہے، جبکہ 90 دن کی بات علی امین گنڈا پور کی اپنی ذاتی رائے ہے اور یہ جماعت کا فیصلہ نہیں ہے۔‘ سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ ’پاکستان کو آگے لے جانے کے لیے ہم نے بانی پی ٹی آئی کے نظریے سے جڑے رہنا ہے۔‘
ادھر شیر افضل مروت نے صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ علیمہ خان نے ایک سال میں پی ٹی آئی کا ڈھانچہ تبدیل کر دیا ہے، پی ٹی آئی میں انتشار، منافقت اور بدنیتی ہے، پارٹی نے پی ٹی آئی کی کشتی ڈبو کر رکھ دی ہے۔ ایسے حالات میں مجھے کوئی تحریک چلتی نظر نہیں آ رہی اور نہ ہی اس کی کامیابی نظر آ رہی ہے۔‘
تحریک انصاف کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے صحافی حیدر شیرازی کا کہنا ہے کہ 5 اگست کے احتجاج کا اعلان خود عمران خان نے کیا ہے جبکہ 90 دن کی ڈیڈ لائن کا انہوں نے ’بالکل نہیں کہا۔‘ انہوں نے کہا کہ ’عمران خان نے کہا تھا کہ 5 اگست تحریک کا عروج ہو گا اور وہ یہ خود لیڈ کریں گے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’پی ٹی آئی کے کئی دھڑے بن چکے ہیں۔ 90 دن کی تحریک کا اعلان پارلیمانی جماعت نے کیا ہے جو جماعت کا ایک حصہ ہے جبکہ صوبائی عہدیدار، خیبرپختونخوا میں جنید اکبر اور پنجاب میں عالیہ حمزہ، بلوچستان اور سندھ کے الگ تنظیمی عہدے دار ہیں، اس کے علاوہ تحریک انصاف وکلا گروپ ہے ان سے پارلیمانی جماعت نے مشاورت کیے بغیر تحریک کا اعلان کیا ہے۔ انکے مطابق بیرسٹر گوہر نے اسلام آباد سے لاہور جاتے ہوئے خود کہا تھا کہ یہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہے۔ پارلیمانی پارٹی تحریک انصاف جماعت کی ایک شاخ ہے وہ اکیلے سب فیصلے نہیں لے سکتے۔ اس وقت تحریک کے فیصلے علی امین گنڈا پور، بیرسٹر گوہر، شبلی فراز اور عمر ایوب کر رہے ہیں۔‘
فواد چوہدری اس سارے معاملے پر کہتے ہیں کہ موجودہ قیادت میں کوئی تحریک چلانے کی سکت نہیں ہے اور 90 دن کا پلان کہاں سے آیا اسکا بھی کچھ پتہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’نہ تو کوئی حکمت عملی ہے اور نہ ہی ایسی قیادت جو حکمت عملی بنا کر اس پہ عمل کر سکے، یہ بات میں نے عمران خان کو دوران ملاقات بھی بتائی تھی کہ آپ کی لیڈرشپ میں تحریک چلانے کی سکت نہیں ہے۔ اس پر عمران خان نے جواب دیا کہ ’ تحریک چلانے کے لیے بندے میسر ہی نہیں ہیں۔‘ اس پر میں نے ان سے کہا تھا کہ اگر تحریک چلانی ہے تو بندے تو پھر لانے پڑتے ہیں۔
عمران کا بزدل اور بے وفا اراکین KP اسمبلی سے استعفے لینے کا حکم
جیو نیوز سے وابستہ سینیئر صحافی آصف بشیر چوہدری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’9 مئی کے بعد پی ٹی آئی کے لوگ احتجاج میں نہیں نکلے، آخری کال نومبر میں آئی تھی تو اس وقت جو ہوا تھا اس کے بعد اب کال دی گئی ہے۔
آصف بشیر چوہدری کا کہنا ہے کہ احتجاج صوبائی سطح پر اور ضلع کی سطح پر ہو گا۔ اس میں اسلام آباد سارے قافلے آنے کا کوئی چانس نہیں ہے۔ آصف بشیر کے مطابق ’عمران خان نے پانچ اگست کا کہا لیکن علی امین گنڈا پور 90 دن کی تحریک کی بات کر رہے ہیں تاکہ اس دوران وہ اپنی کے پی کے کی حکومت کو بچا سکیں۔ کیونکہ مخصوص نشستوں کے فیصلے کے بعد اب کے پی میں بھی حکومت تبدیلی کی بات ہو رہی ہے۔ اس لیے انہوں نے 90 دن کی بات کی ہے۔‘
