امریکی ڈالر 212 روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

پاکستانی روپے کی قدر مین گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے اور آج انٹربینک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران پاکستانی روپےکے مقابلے میں ڈالر 212 روپے تک پہنچ گیاہے۔

فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق روپے کی قدر میں 2 روپے سے زائد کی کمی ہوئی اور ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 212 روپے کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا جو گزشتہ روز 209 روپے 96 پسے پر تھا۔

روپے کی گرتی قدر کے حوالے سےمالیاتی ڈیٹا اور تجزیاتی ویب پورٹل میٹیس گلوبل کے مطابق گزشتہ ہفتے مسلسل 5 سیشنز کے دوران روپے کی قدر میں 6.4 روپے کی بڑی کمی واقع ہوئی۔ٹریس مارک میں ریسرچ کی سربراہ کومل منصور نےبتایا کہ ایسا لگتا ہے کہ ملک اب مکمل طور پر آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکیج پر انحصار کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ 211 کی قدر کے قریب کچھ سپورٹ موجود ہے لیکن ہم روزانہ کی بنیاد پر روپے کی قدر میں بتدریج کمی دیکھ رہے ہیں اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ آئی ایم ایف سے معاہدے پر دستخط نہیں ہو جاتے۔

ادھر آئی ایم ایف کا قرض پروگرام اپریل کے اوائل سے ہی تعطل کا شکار ہے جب کہ پاکستان کے عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ مذاکرات بے نتیجہ رہے ہیں،عالمی قرض دہندہ ادارے نے پہلے پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی ایندھن اور توانائی کی سبسڈی پر تحفظات کا اظہار کیا تھا اور اب نئی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال میں مقرر کردہ اہداف پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔پاکستان نے جولائی 2019 میں آئی ایم ایف کے ساتھ 39 ماہ کے 6 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ پروگرام پر دستخط کیے تھے لیکن عالمی مالیاتی ادارے نے تقریباً 3 ارب ڈالر کی قسط اس وقت روک دی تھی جب گزشتہ حکومت نے اپنے وعدوں سے انحراف کرتے ہوئے ایندھن اور توانائی پر سبسڈی دینے کا اعلان کیا تھا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے امید ظاہر کی تھی کہ آئی ایم ایف کے ساتھ توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کی بحالی کے لیے معاہدہ ایک یا دو روز میں طے ہو جائے گا۔وزیر خزانہ کی جانب سے یہ امید ظاہر کیے جانے سے قبل ڈان کی ایک رپورٹ میں سفارتی ذرائع کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ امریکا نے پاکستان کی آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے لیے مذاکرات میں مدد کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

قبل ازیں میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ اپنے توسیعی فنڈ پروگرام کی بحالی کے لیے واشنگٹن کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جب کہ آئی ایم ایف کا سب سے بڑا شیئر ہولڈر ہونے کی حیثیت سے امریکا کا عالمی مالیاتی ادارے کی فیصلہ سازی پر کافی اثرورسوخ ہے۔

دریں اثنا ایک انگریزی اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کرنسی مارکیٹ غیر یقینی صورتحال اور افواہوں کی لپیٹ میں ہے کہ بینکوں نے لیٹر آف کریڈٹ (ایل سیز) کھولنا بند کر دیے ہیں۔تاہم مرکزی بینک کی جانب سے اس طرح کی افواہوں کی تردید کی گئی۔

اسٹیٹ بینک کے چیف ترجمان عابد قمر اس حوالے سے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو درآمدی ادائیگیوں سے نہیں روکا، آج بھی تقریباً 20 کروڑ ڈالر کی درآمدی ادائیگیاں کی گئی ہیں۔یان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایل سیز کھولنے یا کچھ خاص قسم کی درآمدات جیسے کاروں (سی کے ڈی) سیل فونز اور مخصوص قسم کی مشینری کے لیے معاہدوں کی رجسٹریشن سے قبل اسٹیٹ بینک کی پیشگی منظوری کی ضرورت ہے لیکن یہ ہدایات آج نہیں بلکہ 20 مئی کو جاری کی گئی تھیں۔اس سلسلے میں 20 مئی کو اسٹیٹ بینک نے وفاقی حکومت کی جانب سے لگژری اور غیر ضروری اشیا کی درآمد پر پابندی کے فیصلے کے بعد ایک سرکلر جاری کیا تھا۔س فیصلے کا مقصد ملک کی معیشت کو درآمدی مہنگائی سے بچانے کے ساتھ ڈالر کم خرچ کرنا تھا کیونکہ اب تک ملک کا درآمدی بل پہلے ہی 70 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔

Related Articles

Back to top button